میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
باشعور کارکن، باوقار ریاست

باشعور کارکن، باوقار ریاست

جرات ڈیسک
جمعرات, ۱ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

کسی بھی ریاست کی ترقی، استحکام اور وقار کا انحصار صرف اس کے قدرتی وسائل، مضبوط معیشت، جدید ٹیکنالوجی یا بڑے بڑے منصوبوں
پر نہیں ہوتا بلکہ اس کے اصل اثاثے وہ باشعور، ذمہ دار اور باکردار افرادہوتے ہیں جو اپنی ذمہ داریوں کو محض ایک ملازمت یا منصب نہیں
بلکہ قومی خدمت سمجھ کر ادا کرتے ہیں۔ریاست کا ہر ادارہ افراد سے تشکیل پاتا ہے اور ہر ادارے کی کارکردگی بالآخر ریاست کی مجموعی
کارکردگی پر اثرانداز ہوتی ہے ۔ اس لیے اگر کارکن اپنے فرائض، حقوق، ذمہ داریوں اور قومی مفاد سے آگاہ ہو تو وہ نہ صرف اپنے ادارے
کو مضبوط بناتا ہے بلکہ ایک باوقار ریاست کی تشکیل میں بھی اپنا کردار ادا کرتا ہے ۔

باشعور کارکن سے مراد صرف وہ شخص نہیں جو اپنے کام کے طریقۂ کار سے واقف ہو، بلکہ حقیقی شعوررکھنے والا کارکن اپنے منصب کی اہمیت،
اپنے فیصلوں کے اثرات، اپنے ادارے کی ذمہ داری اور معاشرے کے ساتھ اپنے تعلق کو سمجھتا ہے ۔ وہ جانتا ہے کہ اس کی معمولی سی غفلت
کسی فرد، ادارے یا پورے نظام کے لیے مشکلات پیدا کرسکتی ہے ، جبکہ اس کی دیانت، محنت اور ذمہ داری کئی لوگوں کے لیے آسانی کا سبب
بن سکتی ہے ۔ یہی احساسِ ذمہ داری ایک عام کارکن کو قومی کردار کا حامل بناتا ہے ۔ایک باشعور کارکن کے لیے علم بنیادی ضرورت ہے ۔ علم
انسان کو اپنے فرائض کی درست ادائیگی کے قابل بناتا ہے اور اسے افواہوں، تعصبات اور غلط معلومات سے محفوظ رکھتا ہے ۔ آج کا دور
معلومات کا دور ہے ۔ جدید ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا نے معلومات تک رسائی کو انتہائی آسان بنا دیا ہے ، لیکن اس کے ساتھ غلط معلومات کے پھیلاؤ کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔ ایسے ماحول میں باشعور کارکن وہ ہے جو کسی بھی خبر یا دعوے کو بغیر تحقیق آگے بڑھانے کے بجائے اس کی حقیقت جاننے کی کوشش کرتا ہے ۔ وہ اپنی گفتگو اور عمل میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرتا ہے ۔

باشعوری کا دوسرا اہم پہلو کردار ہے ۔ محض تعلیم یافتہ ہونا کافی نہیں؛ تعلیم کے ساتھ اخلاق، دیانت، برداشت اور انصاف بھی ضروری ہیں۔ اگر ایک شخص اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بددیانتی، اقرباپروری، جھوٹ اور ناانصافی کا راستہ اختیار کرے تو اس کی تعلیم معاشرے کے لیے مطلوبہ فائدہ پیدا نہیں کرسکتی۔ اس کے برعکس ایک باکردار کارکن محدود وسائل کے باوجود اپنے ادارے اور معاشرے کے لیے قابلِ قدر خدمات انجام دے سکتا ہے ۔ ریاست کی حقیقی طاقت ایسے ہی کردار کے حامل افراد سے پیدا ہوتی ہے ۔

اسلامی تعلیمات میں بھی ذمہ داری، امانت اور دیانت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے ۔ قرآنِ مجید میں امانتیں ان کے اہل لوگوں تک
پہنچانے اور لوگوں کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ اس تعلیم کا دائرہ صرف حکمرانوں تک محدود نہیں بلکہ
معاشرے کے ہر ذمہ دار فرد کو شامل کرتا ہے ۔ ہر کارکن اپنے منصب کے اعتبار سے ایک امانت دار ہے ۔ استاد کے لیے تدریس امانت ہے ،
ڈاکٹر کے لیے مریض کی خدمت امانت ہے ، سرکاری ملازم کے لیے عوامی خدمت امانت ہے اور ادارے کے سربراہ کے لیے اپنے ماتحت افراد اور ادارے کے وسائل کی حفاظت امانت ہے ۔

باشعور کارکن کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ قانون اور ادارہ جاتی نظم کا احترام کرتا ہے ۔ مضبوط ریاست شخصیات کے بجائے مضبوط اداروں سے وجود میں آتی ہے ۔ اگر کارکن اپنے ذاتی مفاد، تعلقات یا وقتی دباؤ کو ادارے کے اصولوں پر ترجیح دینے لگیں تو ادارے کمزور ہوجاتے ہیں۔ اس کے برعکس جب کارکن قانون، ضابطے اور میرٹ کی پابندی کرتے ہیں تو اداروں پر عوام کا اعتماد بڑھتا ہے ۔ یہی اعتماد ریاست کے وقار کی بنیاد بنتا ہے ۔

ریاست کا وقار صرف عالمی سطح پر اس کی طاقت سے نہیں بلکہ اس بات سے بھی متعین ہوتا ہے کہ اس کے شہری اور ادارے ایک دوسرے کے ساتھ کس طرح پیش آتے ہیں۔ جس ریاست میں شہریوں کو قانون کے مطابق انصاف ملے ، ادارے ذمہ داری سے کام کریں، عوامی وسائل کو امانت سمجھا جائے اور عام آدمی کی عزتِ نفس کا خیال رکھا جائے ، وہاں ریاستی وقار مضبوط ہوتا ہے ۔ اس کے برعکس بدانتظامی، کرپشن، ناانصافی اور قانون شکنی ریاستی اداروں پر اعتماد کو متاثر کرتی ہے ۔

باشعور کارکن اور باوقار ریاست کے درمیان تعلق دو طرفہ ہے ۔ ریاست اگر اپنے کارکنوں کو مناسب ماحول، تربیت، وسائل، تحفظ اور
میرٹ پر ترقی کے مواقع فراہم کرے تو کارکن بھی زیادہ ذمہ داری اور جذبے کے ساتھ خدمات انجام دے سکتے ہیں۔ اسی طرح کارکنوں
پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنے فرائض کو دیانت داری سے ادا کریں، ادارے کے وسائل کا تحفظ کریں، وقت کی پابندی کریں اور عوام کے ساتھ
حسنِ سلوک کو اپنا شعار بنائیں۔

تعلیمی اداروں کے کارکن اس حوالے سے خصوصی اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ وہ نئی نسل کی ذہنی اور اخلاقی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتے
ہیں۔ ایک استاد صرف کتاب نہیں پڑھاتا بلکہ وہ اپنے کردار، گفتگو، رویے اور طرزِ عمل کے ذریعے طلبہ کی شخصیت پر اثر ڈالتا ہے ۔ اگر استاد
وقت کی پابندی، دیانت، برداشت، تحقیق اور خدمت کا عملی نمونہ پیش کرے تو طلبہ بھی انہی اقدار کو اپنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یوں ایک
باشعور استاد دراصل مستقبل کے باشعور شہری تیار کرتا ہے ۔اسی طرح سرکاری اداروں میں کام کرنے والے کارکن ریاست اور عوام کے
درمیان ایک اہم رابطہ ہوتے ہیں۔ عام شہری اکثر ریاست کو اس کے اداروں اور ان میں کام کرنے والے اہلکاروں کے ذریعے محسوس کرتا
ہے ۔ اگر اسے کسی دفتر میں عزت، رہنمائی اور بروقت سہولت ملے تو اس کے دل میں ریاست کے بارے میں اعتماد پیدا ہوتا ہے ۔ اگر اسے
غیر ضروری رکاوٹ، بدسلوکی یا ناانصافی کا سامنا ہو تو اس کا اثر ریاستی نظام پر پڑتا ہے ۔ اس لیے ہر کارکن کا رویہ ریاست کی نمائندگی کرتا ہے۔ آج کے دور میں کارکن کی ذمہ داری صرف اپنے مخصوص دائرۂ کار تک محدود نہیں رہی۔ ڈیجیٹل دنیا نے ہرفرد کو معلومات کے پھیلاؤ کا
ذریعہ بنا دیا ہے ۔ ایک کارکن کی سوشل میڈیا سرگرمیاں بھی اس کے ادارے اور معاشرے پر اثر ڈال سکتی ہیں۔ اس لیے ڈیجیٹل شعور بھی
جدید کارکن کی بنیادی ضرورت ہے ۔ معلومات کی تصدیق، ذاتی اور سرکاری معلومات کا تحفظ، دوسروں کی عزت کا خیال اور ذمہ دارانہ
اظہارِ خیال ایک باشعور کارکن کی نمایاں خصوصیات ہیں۔

ریاست کو باوقار بنانے کے لیے صرف حکومتی سطح پر اقدامات کافی نہیں۔ اس مقصد کے لیے معاشرے کے ہرطبقے کو اپنا کردار ادا کرنا
ہوگا۔ والدین بچوں میں ذمہ داری اور دیانت پیدا کریں، تعلیمی ادارے کردار سازی کو اہمیت دیں، مذہبی و سماجی ادارے اخلاقی تربیت
کریں، سرکاری ادارے میرٹ اور احتساب کو مضبوط بنائیں اور کارکن اپنے فرائض کو عبادت اور قومی خدمت کے جذبے سے انجام دیں۔

جب یہ تمام عناصر ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہوجاتے ہیں تو ریاستی نظام مضبوط ہوتا ہے ۔یہ بھی ضروری ہے کہ کارکن اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے اور ان سے سیکھنے کا حوصلہ پیدا کریں۔ باشعوری کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کبھی غلطی نہ کرے ، بلکہ باشعوری یہ ہے کہ انسان اپنی غلطی کو پہچانے ، اس کی اصلاح کرے اور اسے دوبارہ نہ دہرانے کی کوشش کرے ۔ اسی طرح اختلافِ رائے کو دشمنی نہ سمجھنا، تنقید کواصلاح کا ذریعہ بنانا اور دوسروں کے نقطۂ نظر کو سننے کی صلاحیت بھی ایک مہذب اور باشعور کارکن کی پہچان ہے ۔آخرکار یہ حقیقت واضح ہے کہ باوقار ریاست کا آغاز باشعور فرد سے ہوتا ہے ۔

ریاست کوئی مجرد تصور نہیں،بلکہ افراد، اداروں، قوانین اور اجتماعی رویوں کا مجموعہ ہے ۔ اگر فرد اپنی ذمہ داری کو سمجھے ، کارکن اپنے منصب کو امانت جانے ، ادارہ قانون اور میرٹ پر قائم ہو اور شہری اپنے حقوق کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو بھی اہمیت دیں تو ریاست مضبوط، مستحکم اور باوقار بن سکتی ہے ۔

ہمیں ایسی اجتماعی سوچ پیدا کرنے کی ضرورت ہے جس میں ہر شخص خود سے یہ سوال کرے کہ وہ اپنے گھر، ادارے ، معاشرے اور وطن کے لیے کیا کردار ادا کررہا ہے ۔ تبدیلی ہمیشہ بڑے نعروں سے نہیں آتی؛ اکثر وہ ایک چھوٹے مگر ذمہ دارانہ عمل سے شروع ہوتی ہے ۔ وقت کی پابندی، دیانت داری، قانون کی پاسداری، دوسروں کے حقوق کا احترام، عوام کے ساتھ حسنِ سلوک اور اپنے فرائض کی درست ادائیگی بظاہر معمولی اعمال ہیں، لیکن یہی اعمال مل کر ایک مضبوط قومی کردار تشکیل دیتے ہیں۔

باشعور کارکن، دراصل باوقار ریاست کا معمار ہے ۔ جب کارکن اپنے فرائض کو ذمہ داری، دیانت اور خدمت کے جذبے کے ساتھ ادا کرتا ہے تو ادارہ مضبوط ہوتا ہے ؛ مضبوط ادارے عوام کا اعتماد حاصل کرتے ہیں؛ عوام کا اعتماد ریاست کو استحکام دیتا ہے ؛ اور مستحکم ریاست عالمی سطح پر وقار حاصل کرتی ہے ۔ اس لیے ریاست کی تعمیر کہیں دور سے شروع نہیں ہوتی، بلکہ ہر دفتر، ہر ادارے ، ہر کلاس روم اور ہر ذمہ دار فرد کے کردارسے شروع ہوتی ہے ۔ہم اگر ایک باوقار ریاست چاہتے ہیں تو ہمیں سب سے پہلے باشعور، باکردار اور ذمہ دار کارکن پیدا کرنے ہوں گے ۔ یہی شعور فرد کو ذمہ داری دیتا ہے ، ذمہ داری کردار پیدا کرتی ہے ، کردار اداروں کو مضبوط بناتا ہے اورمضبوط ادارے ایک
ایسی ریاست کی بنیاد رکھتے ہیں جو اپنے شہریوں کے لیے باعث ِ اعتماد اور دنیا کے سامنے باعث ِاحترام ہو۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں