عمران خان کی رہائی ممکن ہے!
شیئر کریں
وہ ممالک جو عوام کو با اختیار بناتے ہیں، رائے عامہ کااحترام کرتے ہیں،جہاں انصاف کے ادارے مضبوط ہوتے ہیں، عدلیہ آزاد ہوتی ہے، احتساب اور انصاف کا نظام موثر ہوتا ہے، میڈیا کو آزادی حاصل ہوتی ہے ،جہاں آئین اور قانون کو بالادست تصور کیا جاتا ہے۔ اخلاقی اقدار کا احترام کیا جاتا ہے، ایسے مملک تیز رفتاری سے ترقی کرتے ہیں اور دولت سے بھی مالا مال ہوجاتے ہیں۔ جاپان،سنگا پور ، جنوبی کوریا، ملیشیااور تائیوان نے انہی اصولوں کو اپنا کر ترقی کی ہے۔
موجودہ حالات میں بہت کم لوگ اس بات سے اتفاق کریں گے کہ بہت آسانی سے پاکستان کو ترقی کے سفر پر گامزن کیا جاسکتا ہے ۔ پاکستان کے گھمبیر مسائل کی وجہ سے عموماً یہ تصور کیا جاتا ہے پاکستان تیز رفتار زوال کی طرف مائل ہے اور بہتری کی امید نہیں ہے۔ پاکستان میں جاری موجودہ مہنگائی،بے روزگاری،غربت ،سیاسی و معاشی عدم استحکام، اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے علاوہ برسراقتدار مسلم لیگ ،پیپلز پارٹی اور ایم کیوایم کی ناقص حکمرانی کی وجہ سے خطرہ یہ ہے ملکی سا لمیت پر منفی اثرات ہو سکتے ہیں۔ پاکستان میں استحکام اور عوام کی خوشحالی کے ٹھوس اور پائیداراقدامات کی جس قدر آج ضرورت ہے شاید کبھی نہیں تھی۔ پاکستان مسلسل بحرانوں کا شکار رہا ہے لیکن موجودہ بحران سب سے زیادہ شدید اور خوفناک ہے۔ یہ حالات اچانک پیدا نہیں ہوئے ۔قیام پاکستان کے بعد سے ہی خرابی کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی ایک تقریب میں گزشتہ دنوں یہ بیان دیا تھا کہ موجودہ نظام تباہ ہوچکا ہے، جس کے بعد سے اب تک محسن نقوی پر مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ‘‘ یا تو محسن نقوی خود مستعفی ہوں یا حکومت کو مستعفی ہونے کی تلقین کریں’’۔مولانا نے یہ تک کہہ دیا کہ‘‘ یہاں دھاندلی سے حکومت تشکیل دی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ عوا م کی نمائندہ حکومت ہے ’’ ۔
جب سے محسن نقوی کا یہ بیان سامنے آیا ہے، ملک کی سیاست میں ہیجانی کیفیت ہے ،اس میں مزید شدت پی ٹی آئی کی احتجاجی تحریک کی نئی تاریخ کی وجہ سے بھی آگئی ہے۔ اب حکومت اس احتجاج کو کچلنے کے لیے خیبر پختون خواہ کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو برطرف کرنے، گورنر راج اور ہنگامی حالات کے نفاذ کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔ حکومت کی اس منصوبہ بندی اور پاکستان میں دیگر خبروں پر تبصرہ کرنے والے بیشتر صحافی اور مبصرین حالات حاضرہ کا تجزیہ کرتے وقت تاریخی پس منظر اور مسائل کی اصل جڑاور اس کے حل پر توجہ کم دیتے ہیں۔ خصوصاً اس بات کا ذکر بہت کم کیا جاتا کہ پاکستان میں بحران کی ایک اہم وجہ ابتدائی 9سال تک آئین سے محرومی بھی تھی۔ پہلا آئین پاکستان کے قیام کے 9 سال بعد 1956 میں بنا جسے 1958 میں فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان کے پہلے مارشل لاء کے بعد ختم کر دیا گیا۔
اسی طرح 1954کے صوبائی انتخابات جس میں سابقہ مشرقی پاکستان میں اس وقت کی برسر اقتدار مسلم لیگ کی مخالفت میں قائم ہونے والے جگتو فرنٹ سے شکست کے بارے میں بھی بات نہیں کی جاتی ۔جگتوفرنٹ نے 237میں سے223 نشستیں جیت لی تھیں ۔ فرنٹ میں شامل عوامی مسلم لیگ نے143 نشستیں حاصل کیں جس میں مرکزی کردار شیخ مجیب الرحمان کا تھا۔ جگتو فرنٹ کی مشرقی پاکستان میں حکومت قائم ہوئی ۔مارچ 1954میں اے کے فضل الحق ،سابقہ مشرقی پاکستان (جو اب بنگلہ دیش ہے) کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے اور چند ہفتوں میں گورنر راج لگا کر انہیں اور ہزاروں رہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ان پر بد نظمی ، غداری اور ایک خونریز تصادم پر قابو نہ پانے کے الزامات عائد کیے گئے۔ اگر اے کے فضل الحق کی حکومت کا خاتمہ نہ ہوتا، گورنر راج نہ لگایا جاتا توشاید پاکستان دو ٹکڑوں میں بھی تقسیم نہ ہوتا، جس طرح مسلم لیگ سابقہ مشرقی پاکستان میں عوامی حمایت سے محروم تھی، ایسی صورت حال اب موجودہ پاکستان میں نظر آرہی ہے۔
پاکستان کی موجودہ حکومت اس کھلی حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے کہ برسرقتدار تمام سیاسی جماعتیں اس وقت سے مسلسل کمزور ہورہی ہیں جب سے عمران خان کو قید کیا گیا ہے ۔عمران خان کی مقبولیت بڑھتی چلی جارہی ہے ۔پاکستان میں ایک تاثر یہ ہے کہ عمران خان
جیل میں بعض مخصوص طبی سہولتوں کی عدم فراہمی قید تنہائی اور ان کی کوٹھری میں مطلوبہ روشنی کی کمی کی وجہ سے دم توڑ دیں گے اور ان کا انتقال ہو جائے گا۔ یہ تاثر غلط بھی ہوسکتا ہے لیکن قومی اور بین الاقوامی سطح پر ان خدشات کا اظہار مختلف حلقوں کی جانب سے کیا جارہا ہے۔ ان ہی
خدشات کے پیش نظر پی ٹی آئی نے مطالبہ کیا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق عمران خان کو شفا ہسپتال منتقل کیا جائے۔ ان کا معائنہ ان کے ذاتی معالج کی نگرانی میں کیا جائے ۔ایک اور غلط تاثر یہ ہے کہ عمران خان رہا ہوگئے تو وہ نہ جانے کیا کردیں گے ۔وہ فوراً برسر اقتدار آجائیں گے اور مخالفین کو جیل میں بند کردیں گے ۔ہوسکتا ہے وہ وزیر اعظم کا عہدہ قبول کرنے سے انکار کردیں۔جب تک ملک میں نئے انتخابات نہیں ہوتے ،وہ برسراقتدار نہیں آسکتے ،نہ ہی ان کے بیانات سے حکومت ختم ہوسکتی ہے۔ باہر آنے کے بعد ان کی مقبولیت بھی شاید برقرار رہے گی یا نہیں، اس کا اندازہ لگانا مشکل ہوگا، لیکن باہر آنے کے بعد مقبولیت میں مزید اضافے کا امکا ن بہت کم ہے۔ ان کی جیل میں موت سے بحران میں اضافہ ہوگا۔ خیبر پختون خواہ میں گورنر راج یا ہنگامی حالات سے مسائل کا حل نہیں نکل سکے گا۔ کشیدگی میں اضافہ ہوا تو فوجی آپریشن کی نوبت آسکتی ہے ۔پڑوسی افغانستان اور بھارت پہلے ہی دشمنی کی راہ پر ہیں۔ ایسے میں افہام تفہیم ہی واحد راستہ ہے۔
عمران خان کے ساتھ معاملات طے کرکے پاکستان کو ایک ایسے جمہوری راستے کی طرف لے جایا جاسکتاہے جہاں رائے عامہ کا احترام ہو، عوام بااختیار ہوں ،عدلیہ آزاد ہو، انصاف پر مبنی فیصلے ہوں، آئین اور قانون کی بالادستی ہو، طاقتور حلقے اور اشرافیہ ، ایمانداری اور انصاف پرمبنی معاشرے کے لیے آمادہ ہوں، چاہے اس کے لیے وقتی طور پر انہیں اپنے مفادات کی قربانی دینی ہو،ایک وسیع مفاہمت کی راہ تلاش کی جائے ۔رائے عامہ کو نظر انداز کرنے ،میڈیا پر پابندی سے ترقی کا امکان ختم ہوجا تاہے۔ عوام میں امید اور تحریک پیدا کرنے سے ملک آگے بڑھ سکتا ہے۔ تحریک انصاف کوکچلنے کے بجائے اسے ملک کی خوشحالی کے عمل میں شریک کرنے کے لیے آمادہ کیا جانا زیادہ مناسب ہوگا۔
برسر اقتداجماعتوں کی ہر بات کا عوام میں منفی ردعمل سب دیکھ رہے ہیں۔مقتدر حلقے اور اشرافیہ دانشمندی سے کام لیں تو وہ عمران خان سے کوئی ایسا سمجھوتہ کرسکتے ہیں جس سے موجودہ جمود ختم ہو،جس کا امکان بڑھ رہا ہے۔ ایک نیا نظام عمران خان کی رہائی کے بغیر موثر نہیں ہوگا۔ مو جودہ نظام جس کی بنیاد ایسے انتخابات پر ہے جس کے نتائج انتہائی متنازع ہیں، کیسے تبدیلی لاسکتاہے؟ حالات جو رخ اختیا ر کر رہے ہیں ،اس میں عمران خان کی رہائی کا امکان بڑھ رہا ہے جس طر ح ایشیا کے ترقی یافتہ ممالک نے ایماندار ی اور انصاف پر مبنی معاشرے تشکیل دیے ہیں، اس سفر کا آغاز پاکستان میں بھی ہوسکتا ہے بس نیت نیک ہو۔
٭٭٭
ا


