سندھ بلڈنگ، لیاری میں بوسیدہ ڈھانچوں پر بلند عمارتوں کا بوجھ، انتظامیہ خاموش
شیئر کریں
بڑھتے خدشات،کھارادر پلاٹ نمبر او ٹی 66/2 پر دکانوں کے اوپر چوتھی منزل کی تعمیر
ڈائریکٹر طلال مگسی، سسٹم آپریٹر آفتاب زرداری مبینہ چشم پوشی کے الزامات کی زد میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیاری اور کھارادر کے قدیم علاقوں میں پہلے سے بوسیدہ اور خستہ حال عمارتوں کے درمیان اضافی منزلوں کی تعمیر نے شہریوں کے تحفظ سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں۔ جرأت کے سروے کے دوران لی گئی زیر نظر تصویر میں زمینی حقائق کے مطابق کھارادر کے پلاٹ نمبر او ٹی 66/2 پر موجود دکانوں کے اوپر چوتھی منزل کی تعمیر جاری ہے ، جس پر مکینوں اور اطراف کے دکانداروں میں تشویش پائی جاتی ہے ۔علاقہ مکینوں کے مطابق پرانی عمارتوں پر مزید منزلیں تعمیر کرنے سے قبل عمارت کی ساختی مضبوطی، منظور شدہ نقشے اور تعمیراتی اجازت ناموں کی مکمل جانچ ضروری ہے ۔ شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ بوسیدہ ڈھانچوں پر اضافی تعمیرات کی اجازت کس بنیاد پر دی جا رہی ہے اور متعلقہ اداروں کی جانب سے نگرانی کا عمل کس حد تک مؤثر ہے ۔شہری حلقوں نے ڈائریکٹر طلال مگسی اور سسٹم آپریٹر آفتاب زرداری پر مبینہ چشم پوشی کے الزامات بھی عائد کیے ہیں، تاہم ان الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پلاٹ نمبر او ٹی 66/2 کا فوری معائنہ کیا جائے ، تعمیر کی قانونی حیثیت اور منظور شدہ نقشہ سامنے لایا جائے اور عمارت کی ساختی مضبوطی کی جانچ کرائی جائے ۔مکینوں کا کہنا ہے کہ کسی ممکنہ حادثے کے بعد کارروائی کے بجائے متعلقہ اداروں کو تعمیرات کے دوران ہی حفاظتی تقاضوں کی پابندی یقینی بنانی چاہیے ۔متعلقہ افسران کا موقف موصول ہونے پر شامل اشاعت کیا جائے گا ۔


