میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
اقتدار کا دو ہزار سالہ پرانا کھیل

اقتدار کا دو ہزار سالہ پرانا کھیل

جرات ڈیسک
هفته, ۱۹ ستمبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

رومی شاعر جووینال (Juvenal) نے تقریباً دو ہزار برس پہلے ایک ایسا سیاسی فقرہ کہا جو آج بھی انسانی سیاست کے چہرے پر آئینے
کی طرح رکھا جا سکتا ہے:‘‘Panem et Circenses’’۔۔۔ روٹی اور تماشا۔ جووینال اپنی Satires میں اس رومی عوام کا نوحہ لکھ رہا تھا جس نے کبھی ریاستی اقتدار، فوجی کمان اور اعلیٰ عہدے دینے کا اختیار اپنے ہاتھ میں رکھا تھا، مگر اب اس کی خواہش صرف دو چیزوں تک محدود رہ گئی تھی، روٹی اور تماشا۔ یہ محض ایک فقرہ نہیں، انسانی سیاسی تاریخ کی شاید سب سے مختصر مگر گہری نفسیاتی تشخیص ہے۔

انسان نے جب سے اجتماعی زندگی اختیار کی، اقتدار نے اسے صرف تلوار سے قابو نہیں کیا؛ اس نے اس کے پیٹ، خوف، خواہش، جذبات اور تفریح کو بھی قابو کرنے کی کوشش کی۔ بادشاہوں سے لے کر آمروں تک، مذہبی حکمرانوں سے لے کر جدید سیاسی جماعتوں تک، طاقت نے ایک بنیادی حقیقت کو سمجھ لیا، جس انسان کے جسم کو مصروف اور ذہن کو مشغول رکھا جائے، اسے اپنے حقِ حکمرانی کا سوال اٹھانے سے روکا جا سکتا ہے۔ابتدائی انسانی معاشروں میں اقتدار کا جواز طاقت تھا۔ جو طاقتور تھا، وہ حکم دیتا تھا۔ بادشاہ خداؤں کا نمائندہ بنتا، فرعون خود کو الوہیت سے جوڑتا، شہنشاہ اپنی سلطنت کو مقدس قرار دیتا۔ عوام سے کہا جاتا کہ حکمران کے خلاف سوال دراصل کائناتی نظم کے خلاف سوال ہے۔ یوں خوف کو سیاست کا آلہ بنایا گیا۔لیکن انسانی شعور جیسے جیسے ترقی کرتا گیا، صرف خوف کافی نہیں رہا۔ پھر اقتدار نے ایک دوسرا راستہ دریافت کیا: ضرورت پوری کرو اور سوال ختم کرو۔قدیم روم اس کی شاندار مثال بنا۔

رومی ریاست میں اناج کی تقسیم اور عوامی کھیلوں کا نظام موجود تھا، جبکہ بڑے پیمانے پر سرکس، رتھوں کی دوڑ، جانوروں کے شکار اور گلڈی ایٹر مقابلے عوامی تفریح کا حصہ تھے۔ جووینال نے اسی صورتِ حال کو‘‘روٹی اور تماشا’’ کی علامت بنایا۔ یہاں اصل مسئلہ روٹی نہیں تھی۔ روٹی انسان کا حق ہے۔ مسئلہ یہ تھا کہ اگر ریاست انسان کو مستقل طور پر صرف روٹی کا محتاج بنا دے اور اس کے ساتھ تماشے فراہم کرتی رہے تو وہ شہری کو شہری سے تماشائی بنا سکتی ہے۔شہری سوال کرتا ہے؛ تماشائی صرف دیکھتا ہے۔شہری احتساب چاہتا ہے؛ تماشائی نتیجہ چاہتا ہے۔ شہری اداروں کے بارے میں سوچتا ہے؛ تماشائی اگلے کردار کا انتظار کرتا ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں سیاست، انسانی نفسیات سے مل جاتی ہے۔انسان صرف عقل سے نہیں چلتا۔ اس کے اندر خوف ہے، لالچ ہے، گروہی وابستگی ہے، شناخت کی خواہش ہے، انتقام کی خواہش ہے اور سب سے بڑھ کر فوری تسکین کی خواہش ہے۔ سیاسی طاقت اسی انسانی کمزوری کو سمجھتی ہے۔ اسے معلوم ہے کہ بھوکے انسان کو نظریہ نہیں، روٹی چاہیے؛ خوف زدہ انسان کو آزادی نہیں، تحفظ چاہیے؛ تھکے ہوئے انسان کو اصلاح نہیں، تفریح چاہیے۔اسی لیے تاریخ میں اقتدار نے کبھی روٹی بانٹی، کبھی مذہبی تماشے پیدا کیے، کبھی جنگی فتوحات کو جشن بنایا، کبھی بادشاہ کی شان دکھائی، کبھی قومی دشمن پیدا کیا۔ تماشا صرف تفریح نہیں ہوتا؛ تماشا ایک سیاسی تکنیک بھی بن سکتا ہے۔رومی سلطنت سے قرونِ وسطیٰ تک آتے ہوئے سیاسی منظرنامہ بدل گیا، مگر انسانی نفسیات نہیں بدلی۔ بادشاہوں نے عظیم محلات تعمیر کیے، مذہبی رسومات کو اقتدار کے ساتھ جوڑا، عوامی جشن منعقد کیے، فتح کے جلوس نکالے۔ حکمران کی طاقت کو ایک ایسے منظر میں تبدیل کیا گیا جسے عوام دیکھ سکیں، محسوس کر سکیں اور اس سے مرعوب ہو سکیں۔پھر جدید ریاست وجود میں آئی۔جمہوریت نے بظاہر کھیل بدل دیا۔ اب بادشاہ کی جگہ ووٹر آیا، رعایا کی جگہ شہری آیا اور فرمان کی جگہ ووٹ آیا۔ مگر انسان کی نفسیات وہی رہی۔اب حکمران نے تاج کے بجائے انتخابی مہم پہن لی۔اب محل کے بجائے میڈیا اسکرین آگئی۔اب شاہی اعلان کے بجائے سیاسی نعرہ آگیا۔اور اب سرکس کے میدان کی جگہ ٹیلی ویژن، سوشل میڈیا، ٹاک شوز، سیاسی جلسے، وائرل ویڈیوز اور ڈیجیٹل ہنگامہ موجود ہے۔

آج کا‘‘سرکس’’پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور ہے، کیونکہ قدیم روم کا تماشا ایک مخصوص وقت اور جگہ پر ہوتا تھا، جبکہ جدید تماشا انسان کی
جیب میں موجود موبائل فون کے اندر مسلسل جاری رہتا ہے۔ جدید انسان سارا دن سیاست دیکھ سکتا ہے، مگر سیاست سمجھنے کے باوجود تبدیل
نہیں کر سکتا-97اور یہی فرق خطرناک ہے۔اسکرین اسے یہ احساس دیتی رہتی ہے کہ وہ سیاسی عمل میں شریک ہے، حالانکہ ممکن ہے وہ صرف
ایک تماشائی ہو۔وہ غصہ کرتا ہے، تبصرہ کرتا ہے، لڑتا ہے، پوسٹ شیئر کرتا ہے، کسی رہنما کو گالی دیتا ہے، کسی دوسرے کو نجات دہندہ سمجھتا ہے؛
مگر آخر میں وہی بنیادی سوال غائب رہتا ہے:ریاست میرے لیے کیا کر رہی ہے؟اور اس سے بھی زیادہ بنیادی سوال:میں ریاست سے کیا پوچھ رہا ہوں؟ یہی جووینال کے فقرے کا اصل المیہ ہے۔جب عوام اپنی سیاسی آزادی کو صرف ذاتی فائدے کے بدلے فروخت کرنا شروع کر دیں تو اقتدار کو عوام پر حکومت کرنے کے لیے بہت زیادہ طاقت استعمال نہیں کرنا پڑتی۔ خود جووینال کی تشویش یہی تھی کہ جس عوام نے کبھی ریاستی اختیار تقسیم کیا تھا، وہ سیاسی ذمہ داری سے پیچھے ہٹ کر روٹی اور تماشے تک محدود ہو گیا تھا۔ لیکن یہاں ایک اہم سوال بھی ہے: کیا قصور صرف عوام کا ہے؟نہیں۔یہاں تاریخ ہمیں زیادہ پیچیدہ حقیقت دکھاتی ہے۔حکمران جان بوجھ کر ایسے نظام بھی بناتے ہیں جہاں عوام کو مستقل بحران میں رکھا جائے۔ ایک طرف مہنگائی، بے روزگاری، غربت اور خوف؛ دوسری طرف جذباتی سیاست، نعروں کی جنگ، دشمنوں کی تلاش اور تفریح کا سیلاب۔کیونکہ مسلسل بحران انسان کی ذہنی توانائی کھا جاتا ہے۔جو انسان اپنے بچوں کے کھانے، بجلی کے بل، کرائے، نوکری اور علاج کے لیے پریشان ہو، اس کے پاس آئینی اداروں، پالیسی، معاشی ڈھانچے اور ریاستی جواب دہی پر غور کرنے کی ذہنی فرصت کم رہ جاتی ہے۔پھر اسے ایک دشمن دے دو۔ایک نعرہ دے دو۔ایک سیاسی شخصیت دے دو۔ایک ٹیلی وژن شو دے دو۔ایک جھوٹا وعدہ دے دو۔ایک وقتی امداد دے دو۔اور پھر اسے یقین دلا دو کہ اصل مسئلہ وہ نہیں جو اس کے سامنے ہے، اصل مسئلہ کوئی اور
ہے۔یہی ‘‘روٹی اور تماشا’’کی جدید شکل ہے۔انسانی تاریخ کا اصل سفر بادشاہ سے شہری تک کا سفر تھا۔ لیکن اگر شہری اپنی آزادی، عقل اور سیاسی ذمہ داری دوبارہ کسی شخصیت، جماعت، ریاست یا پروپیگنڈے کے حوالے کر دے تو تاریخ پیچھے چلنا شروع کر دیتی ہے۔ جووینال نے روم کے زوال میں ایک خوفناک تبدیلی دیکھی تھی: عوام نے اقتدار کھویا نہیں تھا؛ انہوں نے اقتدار میں دلچسپی لینا چھوڑ دی تھی۔ اور شاید یہی ہر معاشرے کے زوال کا آخری مرحلہ ہے۔

قومیں صرف اس وقت غلام نہیں بنتیں جب ان کی گردن پر زنجیر ڈال دی جائے۔ کبھی کبھی قومیں اس وقت غلام بنتی ہیں جب انہیں روٹی مل رہی ہو، تماشا جاری ہو، اور وہ سوال کرنا بھول جائیں۔اس لیے آج ‘‘روٹی اور تماشا’’کا مطلب صرف غریب کو کھانا اور عوام کو تفریح دینا نہیں۔اس کا اصل مطلب ہے:پیٹ کو مصروف رکھو، آنکھوں کو مصروف رکھو، جذبات کو بھڑکاؤ، ذہن کو تھکاؤ-97اور پھر اقتدار سے سوال کرنے کی صلاحیت ختم کر دو۔دو ہزار سال بعد بھی جووینال کا سوال زندہ ہے۔فرق صرف اتنا ہے کہ روم کا کولوسیئم پتھر کا تھا؛ آج کا کولوسیئم ہماری جیب میں ہے۔اور شاید سب سے خوفناک بات یہ ہے کہ آج کا تماشائی ٹکٹ خرید کر سرکس میں نہیں جاتا۔وہ خود اپنی جیب سے تماشا خریدتا ہے۔اگر جووینال آج کے پاکستان میں زندہ ہوتا تو شاید اسے’’روٹی اور تماشا‘‘کے لیے روم واپس جانے کی ضرورت نہ پڑتی۔ اسے یہاں ایک ایسا معاشرہ مل جاتا جہاں تاریخ نے بار بار ثابت کیا ہے کہ بھوکے انسان کو روٹی سے، خوف زدہ انسان کو خطرے سے، مذہبی انسان کو جذبات سے، غصے میں مبتلا انسان کو دشمن سے، اور بے بس انسان کو سیاسی تماشے سے قابو کیا جا سکتا ہے۔پاکستان کی تاریخ کا المیہ صرف یہ نہیں کہ یہاں آمریتیں آئیں۔ اصل المیہ یہ ہے کہ ہم نے بار بار آمریت کے لیے زمین بھی تیار کی اور جمہوریت کو بھی اتنا کمزور رکھا کہ وہ آمریت کے سامنے کھڑی نہ ہو سکی۔پاکستانی انسان کی سب سے بڑی محرومی صرف غربت نہیں؛ اس کی سب سے بڑی محرومی سیاسی بے اختیاری ہے۔ اسے دہائیوں تک اس مقام تک پہنچایا گیا جہاں وہ حکومت کو جواب دہ بنانے کے بجائے حکومت سے صرف کچھ حاصل کرنے کا خواہش مند بن گیا۔نوکری مل جائے۔راشن مل جائے۔بجلی سستی ہو جائے۔

پولیس کام کر دے۔ کسی افسر سے سفارش ہو جائے۔کسی سیاسی شخصیت سے کام نکل جائے۔وہ یہ نہیں پوچھتا کہ ایسا نظام کیوں نہیں بنایا گیا
جہاں مجھے سفارش کی ضرورت ہی نہ پڑے؟یہ سوال اگر پیدا ہو جائے تو پورا کھیل خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ پاکستان کی سیاسی معیشت پر تحقیق نے بھی بارہا اشرافیائی قبضے، سرپرستی کی سیاست اور کمزور اداروں کے تعلق کی نشاندہی کی ہے۔ عالمی بینک کے مطابق سیاسی عدم استحکام اورbased governance – patronageنے اداروں کو کمزور کیا اور ایسی پالیسیوں کو جنم دیا جن سے اشرافیہ کو فائدہ پہنچا؛ ایک عالمی بینک مطالعہ پاکستان میں فوج، سیاست دانوں، کاروباری مفادات اور بیوروکریسی کے باہمی اثر کو ریاستی قبضے کے تناظر میں بیان کرتا ہے۔ یعنی مسئلہ صرف یہ نہیں کہ حکمران خراب ہیں۔مسئلہ یہ ہے کہ پورا سیاسی ڈھانچہ اکثر ایسے لوگوں کے لیے زیادہ فائدہ مند رہا ہے جو اقتدار کو عوامی خدمت نہیں بلکہ وسائل تک رسائی سمجھتے ہیں۔یہاں جاگیردار بھی سیاست کرتا ہے، سرمایہ دار بھی؛ بااثر خاندان بھی، طاقتور ادارہ بھی؛ اور عام آدمی؟ وہ قطار میں کھڑا رہتا ہے۔وہ ووٹ دیتا ہے، امید لگاتا ہے، نعرہ لگاتا ہے، پھر بجلی کے بل کے سامنے بیٹھ کر اپنی شکست گنتا ہے۔اس کے بعد اگلا الیکشن آتا ہے۔ نیا نعرہ آتا ہے۔ نیا چہرہ آتا ہے۔ نئی امید پیدا ہوتی ہے۔ اور پھر وہی پرانا نظام اسے دوبارہ نگل لیتا ہے۔یہ سیاست نہیں، سیاسی چکر ہے۔پاکستانی سیاست نے عوام کو اکثر مسائل کا حل دینے کے
بجائے مسائل کے درمیان ایک دوسرے سے لڑنا سکھایا ہے۔ سندھی بمقابلہ مہاجر، پنجاب بمقابلہ باقی پاکستان، مذہبی بمقابلہ سیکولر، دائیں بمقابلہ بائیں، ایک جماعت بمقابلہ دوسری جماعت، لیڈر بمقابلہ لیڈر۔عوام لڑتے رہے۔طاقت مراکز مضبوط ہوتے رہے۔ اشرافیہ فائدہ اٹھاتی رہی۔اور ریاستی ادارے کمزور ہوتے رہے۔یہی تماشے کی اصل نفسیات ہے: عوام کو اصل مسئلے سے ہٹا کر ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کر دو۔پھر وہ یہ نہیں پوچھیں گے کہ تعلیم کیوں تباہ ہے، صحت کیوں ناقص ہے، روزگار کیوں نہیں، انصاف اتنا مہنگا کیوں ہے، معیشت بار بار بحران میں کیوں جاتی ہے اور ریاستی وسائل کی تقسیم اتنی غیر مساوی کیوں ہے۔عالمی بینک کے مطابق پاکستان میں غربت میں طویل عرصے کی پیش رفت رک گئی ہے اور تقریباً 22 فیصد آبادی قومی غربت کی لکیر سے نیچے ہے؛ کمزور ادارے، بار بار کے معاشی جھٹکے اور ناقص خدمات اس بحران کو مزید پیچیدہ کرتے ہیں۔مگر ٹیلی وژن پر اس کے بجائے کیا چلتا ہے؟کس نے کس کو کیا کہا۔کس نے کس کو غدار کہا۔کس لیڈر نے کون سا جلسہ کیا۔کس سیاست دان نے کس پر الزام لگایا۔ کون جیتے گا۔کون ہارے گا۔یہ ہے پاکستانی کولوسیئم۔ اور ہم اس کے تماشائی ہیں۔جس دن پاکستانی انسان نے تماشے سے منہ موڑ کر نظام کا مطالبہ شروع کر دیا، اسی دن ‘‘روٹی اور تماشا’’کی سیاست کا اصل اختتام شروع ہوگا۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں