میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
میر رضا کی ناک کی ہڈی ٹوٹی، سر پر چوٹ بھی تھی، پولیس سرجن

میر رضا کی ناک کی ہڈی ٹوٹی، سر پر چوٹ بھی تھی، پولیس سرجن

جرات ڈیسک
پیر, ۱۴ ستمبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

زخم موت سے پہلے کے تھے، گولی سے پسلیاں، پھیپھڑے اور دل متاثر ہوئے

سینے کے زخم کو گولی داخل ہونے کا نشان قرار دینا غلط تھا، جوڈیشل کمیشن میں بیان

…………………………….

نوجوان تاجر میر رضا کی موت کی تحقیقات کیلئے قائم جوڈیشل کمیشن کے روبرو پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ نے اہم بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا ہے کہ میر رضا کی ناک کی ہڈی ٹوٹی ہوئی تھی جبکہ سر پر بھی چوٹ کا نشان موجود تھا، یہ دونوں زخم موت سے قبل کے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ میر رضا کے سر کے عقبی حصے پر کسی سخت چیز کے لگنے کا نشان تھا، جبکہ چہرے پر جسم کے دیگر حصوں کے مقابلے میں تحلیلِ نعش کا عمل مختلف تھا۔

جوڈیشل کمیشن کے روبرو بیان دیتے ہوئے ڈاکٹرسمعیہ نے بتایا کہ میر رضا کے جسم پر موجود زخموں اور پوسٹ مارٹم کے حوالے سے متعدد اہم نکات سامنے آئے۔ ان کے مطابق میر رضا کے سر پر چوٹ کا نشان تھا اور ناک کی ہڈی بھی ٹوٹی ہوئی تھی۔

مشاہدے کے مطابق یہ زخم اس وقت لگے جب میر رضا زندہ تھا۔پولیس سرجن نے بتایا کہ میر رضا کو لگنے والی گولی سے پسلیاں فریکچر ہوئیں جبکہ گولی نے پھیپھڑوں اور دل کو بھی نقصان پہنچایا۔

انہوں نے کمیشن کو بتایا کہ ابتدائی طور پر سینے پر موجود ایک نشان کو گولی داخل ہونے کا مقام قرار دیا گیا تھا، تاہم یہ تعین غلط تھا۔ڈاکٹرسمعیہ کے مطابق ابتدائی پوسٹ مارٹم میں گولی کے زخم کے سائز کا اندراج بھی درست نہیں کیا گیا تھا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ گولی کے داخل ہونے کا زخم عموماً چھوٹا اور صاف ہوتا ہے جبکہ گولی کے باہر نکلنے کا زخم نسبتاً بڑا ہوتا ہے۔ انہوں نے کمیشن کو بتایا کہ ابتدائی پوسٹ مارٹم کے دوران گن شاٹ ریزیڈیو کے نمونے بھی حاصل نہیں کیے گئے تھے۔

ان کے مطابق نمونے حاصل کرکے بروقت بھیجنا ضروری ہوتا ہے، کیونکہ نمونے بھیجنے میں تاخیر کی صورت میں نتائج غلط منفی آنے کا امکان ہوسکتا ہے۔

قبر کشائی اور دوبارہ پوسٹ مارٹم کے حوالے سے کمیشن نے ڈاکٹر سمعیہ سے استفسار کیا کہ انہوں نے 3 اگست کو خط لکھ کر قبر کشائی کی سفارش کیوں کی تھی۔

پولیس سرجن نے بتایا کہ انہوں نے 3 اگست کو قبر کشائی کی سفارش کی تھی جبکہ 5 اگست کو پولیس کے ساتھ ہونے والی میٹنگ میں بھی قبر کشائی اور دوبارہ پوسٹ مارٹم کرانے کی تجویز دی تھی۔

میڈیکل بورڈ کی تشکیل کے طریقہ کار سے متعلق سوال پر ڈاکٹر سمعیہ نے بتایا کہ عدالت کی جانب سے سیکریٹری صحت یا ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز کو میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت جاری کی جاسکتی ہے، جبکہ عدالت براہ راست پولیس سرجن کو بھی ہدایات دے سکتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم کی کارروائی میں صرف وہی معلومات شامل کی گئیں جن پر میڈیکل بورڈ کے تمام ارکان متفق تھے۔ ان کے مطابق میر رضا کے پوسٹ مارٹم کی حتمی رپورٹ پر تمام ارکان کے دستخط موجود تھے۔

جوڈیشل کمیشن نے استفسار کیا کہ میڈیکل بورڈ اچانک کیوں تبدیل کیا گیا، جس پر ڈاکٹر سمیہ نے بتایا کہ سیکریٹری صحت نے پرانے میڈیکل بورڈ کو بحال کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں بورڈ میں تبدیلی کی وجوہات کا علم نہیں، تاہم ڈپٹی سیکریٹری صحت نے انہیں زبانی ہدایت دی تھی کہ وہ میڈیکل بورڈ سے علیحدہ ہوجائیں۔

ڈاکٹر سمعیہ نے بتایا کہ انہوں نے ڈپٹی سیکریٹری صحت کو آگاہ کیا تھا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ کے حکم نامے میں ان کا نام میڈیکل بورڈ کے رکن کے طور پر شامل ہے۔

قبر کشائی کے عمل کے بارے میں پولیس سرجن نے کمیشن کو بتایا کہ 8 اگست کو ہونے والی قبر کشائی میں صرف پرانی ٹیم موجود تھی۔ ان کے مطابق کسی غیر متعلقہ شخص کو وہاں جانے کی اجازت نہیں دی گئی، جبکہ میر رضا کے اہل خانہ کو بھی موقع پر موجود رہنے کی اجازت نہیں دی گئی کیونکہ ان کیلئے یہ صورتحال انتہائی پریشان کن ہوسکتی تھی۔

ڈاکٹر سمیعہ نے جوڈیشل کمیشن کو بتایا کہ میر رضا کے جسم پر تیزاب سے جلنے کے نشانات بھی موجود تھے اور کیمیکل ایگزامینیشن کی رپورٹ میں تیزاب کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔ ان کے مطابق لاش کے مختلف حصوں میں تحلیلِ نعش کا عمل ایک جیسا نہیں ہوتا۔

انہوں نے بتایا کہ میر رضا کے چہرے پر بھی تحلیلِ نعش کے عمل کی صورتحال مختلف تھی، کہیں یہ عمل موجود تھا اور کہیں نہیں تھا۔ ان کے مطابق گولی کے باہر نکلنے والے زخم کے اطراف جلد کی سیاہ رنگت بھی چہرے پر موجود رنگت سے مشابہ تھی۔

پولیس سرجن نے بتایا کہ انہوں نے 10 اگست کو ایڈیشنل آئی جی کو خط لکھ کر میر رضا کے ابتدائی پوسٹ مارٹم میں موجود نقائص سے آگاہ کیا تھا۔جوڈیشل کمیشن نے ڈاکٹرسمعیہ سے استفسار کیا کہ کیا پولیس نے میر رضا کے جسم کی تصاویر نہیں دیکھیں تھیں۔

اس پر پولیس سرجن نے بتایا کہ پولیس کی جانب سے تین مرتبہ سینے پر موجود زخم کو گولی لگنے کا نشان قرار دیا گیا۔ ڈاکٹر سمعیہ کے بیان کے مطابق میر رضا کے جسم پر موجود مختلف زخموں، گولی کے داخل ہونے اور باہر نکلنے کے مقامات، ابتدائی پوسٹ مارٹم میں درج معلومات، گن شاٹ ریزیڈیو کے نمونوں اور کیمیکل معائنے سے متعلق نکات کو جوڈیشل کمیشن کے سامنے ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا۔

جوڈیشل کمیشن کی جانب سے میر رضا کی موت کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جارہا ہے، جبکہ پولیس سرجن کے بیان میں ابتدائی پوسٹ مارٹم اور بعد کی طبی کارروائی سے متعلق متعدد امور کی نشاندہی کی گئی ہے۔ کمیشن کی مزید کارروائی میں ان شواہد اور بیانات کا جائزہ لیا جائے گا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں