میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
پاکستان میں نئے صوبے : ضرورت یا ایسٹ انڈیا کمپنی طرز کے خطرہ؟

پاکستان میں نئے صوبے : ضرورت یا ایسٹ انڈیا کمپنی طرز کے خطرہ؟

جرات ڈیسک
منگل, ۸ ستمبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

پاکستان میں نئے صوبوں کا قیام ایک ایسا موضوع ہے جو عرصۂ دراز سے سیاسی، انتظامی اور عوامی حلقوں میں زیرِ بحث ہے ۔ بڑھتی ہوئی
آبادی، وسیع جغرافیہ، انتظامی مشکلات، وسائل کی غیر مساوی تقسیم اور عوام کوان کی دہلیز پر حکومتی سہولیات کی فراہمی جیسے مسائل کو دیکھتے
ہوئے نئے صوبوں کا قیام بظاہر ایک مثبت اور قابلِ غور اقدام دکھائی دیتا ہے ۔ اگر کسی بڑے صوبے کو مزید انتظامی اکائیوں میں تقسیم کرکے
اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کیا جائے ، مقامی وسائل کو مقامی ترقی پر خرچ کیا جائے اور عوام کو بہتر طرزِ حکمرانی فراہم کی جائے تو اس کے
نتیجے میں ترقی، خوشحالی اور انتظامی کارکردگی میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے ۔ تاہم اس پورے معاملے کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے جسے نظرانداز
نہیں کیا جاسکتا۔ سوال یہ ہے کہ کیا نئے صوبوں کے قیام کے ساتھ ہم نے اپنی سیاسی، معاشی اور قومی خودمختاری کے تحفظ کے لیے بھی
مناسب انتظامات کیے ہیں؟

برصغیر کی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ بیرونی معاشی مفادات اگر ریاستی کمزوری، سیاسی انتشار اوراندرونی بدعنوانی کے ساتھ مل
جائیں تو ان کے اثرات محض تجارت اور سرمایہ کاری تک محدود نہیں رہتے ۔ ایسٹ انڈیا کمپنی برصغیر میں بنیادی طور پر تجارت کے لیے آئی
تھی۔ ابتدا میں اس کا مقصد تجارتی مراکز قائم کرنا اور کاروباری مفادات کو فروغ دینا تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ کمپنی نے سیاسی اور
عسکری طاقت حاصل کرنا شروع کردی۔ مقامی حکمرانوں کی باہمی کشمکش، سیاسی اختلافات، کمزور ریاستی اداروں اور بعض مقامی عناصر کی
مفاد پرستانہ پالیسیوں نے کمپنی کے لیے اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے مواقع پیدا کیے ۔ بالآخر ایک تجارتی ادارہ اتنی طاقت حاصل کرگیا کہ اس
نے برصغیر کی سیاست کے بڑے حصے کو اپنے مفادات کے مطابق متاثر کرنا شروع کردیا۔ یہاں تاریخ کا بنیادی سبق یہ ہے کہ مسئلہ تجارت یا
سرمایہ کاری نہیں تھا بلکہ اس وقت پیدا ہوا جب معاشی طاقت سیاسی اقتدار پر اثرانداز ہونے لگی اور داخلی کمزوریوں کو بیرونی مفادات نے
اپنے حق میں استعمال کیا۔

آج پاکستان کی صورتِ حال یقیناً اٹھارہویں اور انیسویں صدی کے برصغیر جیسی نہیں ہے ۔ پاکستان ایک خودمختار ریاست ہے ، اس
کے آئینی ادارے ، مسلح افواج، پارلیمان، عدلیہ اور انتظامی ڈھانچہ موجود ہیں۔ عالمی معیشت بھی آج کی دنیا میں ایک دوسرے سے کہیں
زیادہ جڑی ہوئی ہے ۔ غیر ملکی سرمایہ کاری کسی بھی ملک کی اقتصادی ترقی کے لیے اہم کردار ادا کرسکتی ہے ۔ اسی طرح عالمی مالیاتی اداروں،
ملٹی نیشنل کمپنیوں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ روابط بھی جدید معیشت کا لازمی حصہ ہیں۔ اس لیے ہر غیر ملکی کمپنی یا عالمی مالیاتی ادارے کو
ایسٹ انڈیا کمپنی سے تشبیہ دینا تاریخی اور سیاسی اعتبار سے درست نہیں ہوگا۔ تاہم یہ سوال ضرور اہم ہے کہ ایک کمزور، مقروض اور سیاسی طور
پر منقسم ریاست میں بڑی معاشی قوتیں کس حد تک اثرانداز ہوسکتی ہیں اور ریاست اپنے قومی مفادات کا تحفظ کس طرح کرے گی؟

پاکستان میں اگر نئے صوبے بنائے جاتے ہیں تو یہ سوال مزید اہم ہوجاتا ہے ۔ فرض کریں کہ موجودہ بڑے صوبوں کو متعدد چھوٹی
انتظامی اکائیوں میں تقسیم کردیا جاتا ہے اور ہر صوبے کے پاس اپنا سیاسی، انتظامی اور مالیاتی ڈھانچہ آجاتا ہے ۔ اس صورت میں چھوٹی
اکائیوں کو مقامی مسائل حل کرنے میں سہولت ضرور مل سکتی ہے ، لیکن ان کی انتظامی اور مالیاتی صلاحیت بھی ایک اہم مسئلہ ہوگی۔ اگر کوئی
چھوٹا صوبہ معاشی طور پر کمزور ہو، اس کے وسائل محدود ہوں، سیاسی قیادت کمزور ہو اور ادارے مضبوط نہ ہوں تو بڑی ملکی یا غیر ملکی کمپنیوں کے
لیے وہاں فیصلہ سازی پر اثرانداز ہونا نسبتاً آسان ہوسکتا ہے ۔ یہی وہ پہلو ہے جس پر نئے صوبوں کے حامیوں اور مخالفین دونوں کو سنجیدگی
سے غور کرنا چاہیے ۔

خاص طور پر قدرتی وسائل، زمین، پانی، معدنیات، توانائی، مواصلات، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور ٹیلی کمیونیکیشن جیسے شعبوں میں ریاستی
پالیسی انتہائی اہمیت رکھتی ہے ۔ اگر کسی علاقے میں بڑی کمپنی سرمایہ کاری کرتی ہے تو اس سے روزگار، ٹیکنالوجی، انفراسٹرکچر اور معاشی
سرگرمی پیدا ہوسکتی ہے ۔ لیکن اگر ریاستی نگرانی کمزور ہو، معاہدے شفاف نہ ہوں اور فیصلہ سازی چند افراد تک محدود ہوجائے تو سرمایہ کاری
اور اثر و رسوخ کے درمیان فرق برقرار رکھنا مشکل ہوسکتا ہے ۔ اسی لیے مسئلہ سرمایہ کاری کو روکنے کا نہیں بلکہ سرمایہ کاری کو قانون، شفافیت
اور قومی مفاد کے تابع رکھنے کا ہے ۔

حالیہ برسوں میں ٹیلی کمیونیکیشن اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر سے متعلق قوانین اور پالیسیوں پر بھی بحث ہوئی ہے ۔جدید ریاست میں ٹیلی
کمیونیکیشن کمپنیوں کو انفراسٹرکچر اور نیٹ ورک کی توسیع کے لیے سہولت دینا ضروری ہے ، کیونکہ انٹرنیٹ اور مواصلاتی نظام اب قومی
معیشت، تعلیم، تجارت، دفاع اور حکمرانی کا بنیادی حصہ بن چکے ہیں۔ لیکن قانون سازی کرتے وقت یہ بھی یقینی بنانا چاہیے کہ کسی کمپنی کو
ایسی غیر معمولی طاقت نہ ملے جو مستقبل میں ریاستی اختیار، شہری حقوق یا قومی سلامتی کے لیے مسئلہ بن جائے ۔ ریاست اور کارپوریٹ سیکٹر
کے درمیان تعلق شراکت داری کا ہونا چاہیے ، ماتحتی کا نہیں۔

پاکستان کے لیے اصل خطرہ غیر ملکی سرمایہ کاری نہیں بلکہ کمزور ادارے ، بدعنوان قیادت، غیر شفاف معاہدے ، سیاسی مفاد پرستی اور احتساب کا فقدان ہوسکتے ہیں۔ تاریخ میں بیرونی طاقتوں کو مواقع ہمیشہ اندرونی کمزوریوں سے ملتے ہیں۔ اگر حکمران دیانت دار ہوں،
ادارے مضبوط ہوں، قانون سب کے لیے برابر ہو، پارلیمانی نگرانی مؤثر ہو اور قومی وسائل کی تقسیم شفاف ہو تو کوئی بھی بیرونی کمپنی یا طاقت
آسانی سے ریاستی فیصلوں کو اپنے مفادات کے مطابق نہیں ڈھال سکتی۔ اسی لیے نئے صوبوں کے قیام سے پہلے ایک جامع قومی پالیسی کی
ضرورت ہے ۔ نئے صوبے صرف نقشے پر لکیریں کھینچنے سے نہیں بننے چاہییں بلکہ ان کے لیے واضح انتظامی، مالیاتی، قانونی اور معاشی ماڈل
تیار کیا جانا چاہیے ۔ ہر نئی اکائی کے مالی وسائل، آمدنی کے ذرائع، قدرتی وسائل، ملازمتوں، تعلیم، صحت، پولیس، عدلیہ، بلدیاتی نظام اور
مرکز سے مالیاتی تعلق کا واضح تعین ضروری ہے ۔ اسی طرح قدرتی وسائل اور اہم سرکاری اثاثوں کی فروخت یا طویل المدتی لیز کے لیے بھی
سخت آئینی اور پارلیمانی نگرانی ہونی چاہیے ۔اس کے ساتھ ساتھ احتساب کا نظام بھی مضبوط کرنا ہوگا۔ اگر ماضی میں قومی خزانے کو نقصان
پہنچانے والے عناصر کو بغیر احتساب کے سیاسی اور انتظامی عہدے ملتے رہیں تو نئے صوبوں کا نظام بھی پرانے مسائل کا شکار ہوسکتا ہے ۔

نئے صوبے اسی وقت ترقی کا ذریعہ بن سکتے ہیں جب ان کی بنیاد مضبوط اداروں، شفاف مالیاتی نظام اور میرٹ پر رکھی جائے ۔ صوبے کا
سربراہ یا اعلیٰ انتظامی عہدہ رکھنے والا شخص محض سیاسی وابستگی کی بنیاد پر نہیں بلکہ اہلیت، دیانت، انتظامی صلاحیت اور عوامی اعتماد کی بنیاد پر
منتخب یا مقرر ہونا چاہیے ۔ کسی بھی شخص کے خلاف ثابت شدہ سنگین مالی بدعنوانی موجود ہو تو اسے اہم ریاستی ذمہ داری دینے سے گریز کیا جانا
چاہیے ۔

اس تناظر میں ہر ڈویژن کو صوبے کا درجہ دینے کی تجویز بھی غور طلب ہے ۔ اگر پاکستان کی انتظامی تقسیم اس انداز سے کی جائے کہ بڑے
صوبوں کے اندر موجود ڈویژن اپنی مخصوص انتظامی شناخت کے ساتھ صوبائی اکائیوں میں تبدیل ہوجائیں تو اس سے حکومت عوام کے
قریب آسکتی ہے ۔ تاہم اس ماڈل کی کامیابی کا انحصار صرف صوبوں کی تعداد پر نہیں بلکہ اختیارات کی تقسیم، مالی خودمختاری، مضبوط بلدیاتی
اداروں اورمؤثر احتساب پر ہوگا۔ محض صوبوں کی تعداد بڑھانے سے گورننس بہتر نہیں ہوتی؛ بہتر گورننس کے لیے نظام، ادارے اور کردار
تینوں مضبوط ہونا ضروری ہیں۔

یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ ڈاکٹر طاہرالقادری کی طرف سے ماضی میں پاکستان کو متعدد انتظامی صوبوں میں تقسیم کرنے کا ایک تصور
پیش کیا گیا تھا، جس میں تقریباً 35 صوبوں کا خاکہ بھی شامل تھا۔ اگر ان کی طرف سے جنرل راحیل شریف کو اس حوالے سے کوئی تفصیلی
ماڈل پیش کیا گیا تھا تو اس تجویز اور اس کے انتظامی و معاشی پہلوؤں کا غیر جانب دارانہ مطالعہ بھی مفید ہوسکتا ہے ۔ کسی بھی قومی پالیسی میں
شخصیات سے زیادہ اہمیت قابلِ عمل تصور، اعدادوشمار اور ادارہ جاتی تحقیق کو حاصل ہونی چاہیے ۔ اس لیے ماضی میں پیش کیے گئے ماڈلز کو
سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر ماہرینِ سیاسیات، معاشیات، انتظامیہ، قانون اور قومی سلامتی کے ماہرین کے ذریعے جانچنا چاہیے ۔

پاکستان کو نئے صوبوں کی ضرورت ہوسکتی ہے ، لیکن نئے صوبوں کے ساتھ نئے اصول بھی ضروری ہیں۔ ہمیں ایسا وفاق چاہیے جہاں
چھوٹی انتظامی اکائیاں اپنے وسائل سے فائدہ اٹھائیں، مگر قومی وحدت کمزور نہ ہو؛ جہاں غیر ملکی سرمایہ کاری آئے ، مگر قومی پالیسی سرمایہ
کاروں کے مفادات کی یرغمال نہ بنے ؛ جہاں کمپنیاں ترقی میں شریک ہوں، مگر ریاستی اختیار ان کے ہاتھ منتقل نہ ہو؛ جہاں صوبائی حکومتیں
بااختیار ہوں، مگر آئینی اور قومی ذمہ داریوں سے آزاد نہ ہوں۔

آخر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کا تاریخی تجربہ ہمیں غیر ملکی سرمایہ کاری سے خوفزدہ ہونے کا نہیں بلکہ ریاستی اداروں کو
مضبوط بنانے کا سبق دیتا ہے ۔ کوئی کمپنی اس وقت تک ریاست سے بڑی طاقت نہیں بن سکتی جب تک ریاست خود کمزور نہ ہوجائے ۔
پاکستان میں نئے صوبے اگر عوامی سہولت، بہتر حکمرانی، متوازن ترقی اور وسائل کے منصفانہ استعمال کے لیے بنائے جائیں تو یہ ایک مثبت
تاریخی قدم ثابت ہوسکتے ہیں۔ لیکن اگر ان کے ساتھ بدعنوانی، سیاسی خرید و فروخت، غیر شفاف معاہدوں اور کمزور اداروں کا سلسلہ جاری
رہا تو انتظامی تقسیم کے فوائد بھی خطرات میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔

لہٰذا نئے صوبوں کی بحث کو صرف سیاسی مطالبے یا علاقائی جذبات تک محدود نہیں ہونا چاہیے ۔ اس کے ساتھ قومی خودمختاری، معاشی
سلامتی، شفاف حکمرانی، احتساب، قدرتی وسائل کے تحفظ اور بیرونی سرمایہ کاری کے ضابطے کو بھی بنیادی حیثیت دینا ہوگی۔ صوبے زیادہ
ہوں یا کم، اصل ضرورت ایسے حکمرانوں، ایسے اداروں اور ایسے نظام کی ہے جو پاکستان کے قومی مفاد کو ہر ذاتی، جماعتی اور بیرونی مفاد پر
مقدم رکھ سکے ۔ یہی وہ ضمانت ہے جو پاکستان کو ترقی یافتہ، مضبوط اور خودمختار بنا سکتی ہے اور یہی وہ سبق ہے جسے تاریخ کے اوراق سے آج
کے پاکستان کو ضرور سیکھنا چاہیے ۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں