بنیاد کبھی نظر نہیں آتی!
شیئر کریں
فرعون (Pharaoh)کوئی ایک شخصیت یا بادشاہ نہیں تھا۔ اصل میں قدیم مصر کے بادشاہوں کا لقب فرعون تھا۔ جیسے روم کے بادشاہ کو
قیصر اور ایران کے بادشاہ کو کسری کہا جاتا تھا، اسی طرح مصر کے حکمران کو فرعون کہا گیا۔لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ لفظ ابتدا میں بادشاہ
کے ذاتی خطاب کے طور پر استعمال نہیں ہوتا تھا۔ فرعون مصری لفظ "پرعا” (per-aa) سے نکلا ہے ، جس کا مطلب ہے "بڑا گھر”یا "عظیم محل”۔ ابتدا میں یہ لفظ خود بادشاہ کے لیے نہیں بلکہ شاہی محل یا شاہی دربار کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ بالکل اسی طرح جیسے آج ہم "وائٹ ہاؤس”کہہ کر امریکی صدر کی حکومت مراد لیتے ہیں۔
وقت گزرنے کے ساتھ، خاص طور پر نئی سلطنت کے دور تقریباً 1550قبل مسیح کے بعد سے ، یہ لفظ بتدریج خود بادشاہ کے لیے استعمال
ہونے لگا۔ یعنی "بڑے گھر” کی بات کرنا، رفتہ رفتہ "بڑے گھر کے مالک” یعنی بادشاہ کی بات کرنے میں بدل گیا۔فرعون کو مصری
عقیدے میں محض ایک سیاسی حکمران نہیں سمجھا جاتا تھا، بلکہ ایک نیم الوہی ہستی تصور کیا جاتا تھا۔ دیوتا حورس کا زمینی مظہر، اور مصر اور دیوتاؤں
کے درمیان رابطے کا ذریعہ۔ اسی لیے فرعون کے پاس سیاسی، عسکری اور مذہبی، تینوں طرح کا مکمل اختیار ہوتا تھا۔
قرآن نے لفظ فرعون کیوں استعمال کیا۔ اس وقت کا بادشاہ جو موسی کے مقابل کھڑا تھا اس کا نام کیوں نہیں لیا ؟ قرآن مجید نے حضرت
موسیؑ کے زمانے کے مصری بادشاہ کا ذاتی نام بیان کرنے کے بجائے "فرعون”کا لفظ استعمال کیا ہے ، اور اس میں ایک اہم حکمت ہے ۔
قرآن جب کہتا ہے "فرعون”تو اس کا مطلب بنیادی طور پر مصر کا وہ جابر حکمران ہے ، نہ کہ ضروری طور پر اس کا ذاتی نام۔ قرآن کا مقصد
بادشاہ کی سوانح نہیں، اس کا کردار بیان کرنا ہے ۔ قرآن تاریخی کتاب کی طرح یہ بتانے نہیں آیا کہ اس بادشاہ کا نام کیا تھا، اس کی پیدائش
کب ہوئی یا اس کا تخت کس خاندان سے تھا۔ اصل مقصد یہ بتانا ہے کہ اس نے حضرت موسیؑ کی مخالفت کی۔ اس نے بنی اسرائیل پر ظلم کیا۔
اس نے خدائی کا دعوی کیا۔ بالآخر وہ اپنے تکبر اور ظلم کے انجام کو پہنچا۔ اسی لیے قرآن نے اس کے کردار اور منصب کو نمایاں کیا، ذاتی نام کو
نہیں۔
قرآن نے دوسرے بادشاہ کے لیے "ملک”کا لفظ بھی استعمال کیا۔ ایک دلچسپ فرق دیکھیں، حضرت یوسف کے واقعے میں مصر کے
حکمران کو قرآن "الملک”یعنی بادشاہ کہتا ہے "۔اور بادشاہ نے کہا”۔ جبکہ حضرت موسیؑ کے واقعے میں بار بار "فرعون”کہا گیا ہے ۔ یہ
فرق قابل غور ہے ۔ حضرت موسیؑ کے مقابل حکمران کو اس کے فرعونی لقب اور ظالمانہ کردار کے ساتھ پیش کیا گیا ہے ۔ قرآن نے "فرعون”
اس لیے استعمال کیا کہ یہ اس حکمران کا شاہی لقب تھا، اور قرآن کا اصل مقصد اس کی شناخت سے زیادہ اس کے ظلم، تکبر، خدائی کے دعوے
اور انجام کو بیان کرنا ہے ۔ ذاتی نام نہ بتانا بھی اس بات کی علامت ہے کہ قصہ موسی میں اصل سبق شخص نہیں بلکہ فرعونیت ہے ۔
قدیم مصری سلطنت (Old Kingdom)تقریباً 2686سے 2181قبل مسیح تک قائم رہی۔ عام طور پر اس دور کا آغاز مصر کی
تیسری سلطنت سے مانا جاتا ہے ، اور اس دور کے ابتدائی حکمرانوں میں بادشاہ ساناخت کا نام نمایاں ہے ۔ وہ تقریباً 2686 تا 2667
قبل مسیح بادشاہ رہا۔ اس کی زندگی کے بارے میں بہت کم معلومات حاصل ہیں۔ اس کے نام کے کچھ آثار ملے ہیں۔ ساناخت کے
والدین، پیدائش اور بچپن کے بارے میں مستند معلومات موجود نہیں۔ یہ بھی مکمل یقین سے معلوم نہیں کہ وہ کس طرح تخت تک پہنچا۔ پتھر پر کندہ ایک مہر ملا۔ باقی سب دھند ہے ۔ بس صرف ایک آدمی، جو اپنے وقت میں حکومت کرتا رہا اور خاموشی سے تاریخ کی گود میں اتر گیا۔
اس زمانے میں مصر میں بادشاہت موروثی تھی، لیکن شاہی خاندان کے اندر تخت کی جانشینی ہمیشہ اتنی سادہ نہیں ہوتی تھی جتنی جدید موروثی
بادشاہتوں میں تصور کی جاتی ہے ۔ آخر ساناخت فرعون کیسے بنا ؟
یہاں تاریخ ہمیں ایک اہم سبق دیتی ہے ، قدیم مصر کے اس ابتدائی دور کی تحریری تاریخ انتہائی نامکمل ہے ۔ ممکن ہے کہ ساناخت نے اپنے
پیشرو کے بعد اقتدار سنبھالا ہو، لیکن اس کی تخت نشینی کے حالات بیان کرنے والا کوئی مکمل تاریخی ریکارڈ آج تک دستیاب نہیں۔ساناخت
کے زمانے تک مصر ایک مضبوط اور منظم مرکزی ریاست بن چکا تھا۔ بادشاہ کا اختیار صرف دارالحکومت تک محدود نہیں تھا بلکہ دریائے نیل کی
وادی کا انتظام، زرعی پیداوار، ٹیکس اور اناج کا نظام، مذہبی ادارے ، شاہی تعمیرات، سرحدی علاقوں کی نگرانی ریاست کے اہم حصے تھے ۔ یہ
تمام امور مصری ریاست کے بنیادی ستون تھے ۔
ساناخت کے دور بارے کسی بڑی جنگ یا عظیم فوجی فتح کی قابل اعتماد تفصیل دستیاب نہیں۔ اس کی تاریخی اہمیت شاید کسی عظیم جنگ یا
یادگار فتح کے بجائے اس دور کے سیاسی ارتقا میں ہے ۔ وہ ایسے زمانے کا حکمران تھا جب مصر ایک ابتدائی سلطنتی نظام سے آگے بڑھ کر ایک
زیادہ منظم، طاقتور اور مرکزی ریاست کی شکل اختیار کر رہا تھا۔ساناخت کی موت کیسے ہوئی، اس بارے میں بھی یقین سے کچھ نہیں کہا جا
سکتا۔ البتہ اس کی زندگی سے ایک بہت اہم سبق ملتا ہے ۔ "ہر عظیم انسان کی عظمت اس کے بارے میں موجود معلومات سے نہیں ناپی جاتی۔
ساناخت کا نام تاریخ میں محفوظ ہے ، لیکن اس کی زندگی کے بہت سے پہلو ہمیشہ کے لیے پردہ راز میں رہ سکتے ہیں۔ اس کے بارے میں
بہت کچھ ہمیں معلوم نہیں۔اس کے بعد آنے والے حکمرانوں نے ایسے عظیم کارنامے انجام دیے کہ دنیا آج بھی انہیں یاد کرتی ہے ۔ اس
سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ایک نسل بنیاد رکھتی ہے اور دوسری نسل اسی بنیاد پر عظیم عمارت تعمیر کرتی ہے ۔ممکن ہے ساناخت کا دور تاریخ میں
بہت نمایاں نہ ہو، لیکن وہ اسی سیاسی نظام کا حصہ تھا، جس نے بعد میں جوسر کا عظیم Step Pyramid اور پھر گیزا کے عظیم اہرام جیسے
عجائبات پیدا کیے ۔
ساناخت کی کہانی سے تین سبق ملتے ہیں۔
پہلا، یہ کہ بنیاد ہمیشہ نظر نہیں آتی، لیکن عمارت اسی پر کھڑی ہوتی ہے ۔
دوسرا، تاریخ میں نام چھوڑنے کے لیے صرف اقتدار کافی نہیں، کارنامہ اور خدمت بھی ضروری ہے ۔
اور تیسرا سبق، جہاں تاریخی ثبوت کم ہوں وہاں قیاس کو حقیقت بنا کر پیش نہیں کرنا چاہیے ۔ جہاں ثبوت خاموش ہوں، وہاں انسان کو بھی
خاموش رہنا چاہیے ۔ قیاس کو یقین بنا کر پیش کرنا علم نہیں، بددیانتی ہے ۔
اب سوچیں، اسی ساناخت کے سیاسی نظام کی کوکھ سے وہ بنیاد نکلی جس پر جوسر نے وہ Step Pyramidکھڑا کیا جو آج بھی سیاحوں
کی سانسیں روک دیتا ہے ۔ اور اسی بنیاد پر، چند نسلوں بعد، گیزا کے وہ عظیم اہرام تعمیر ہوئے جنہیں دنیا آج بھی حیرت سے دیکھتی ہے ۔
ساناخت نے یہ اہرام نہیں بنائے ۔ ساناخت نے صرف زمین ہموار کی۔ اور یہی زندگی کا سب سے بڑا دھوکا ہے ، ہم صرف اہرام دیکھتے
ہیں، زمین ہموار کرنے والے کو کوئی نہیں دیکھتا۔
ساناخت کا نام تاریخ کی کتاب کے حاشیے پر ہے ، متن میں نہیں۔ مگر اسی حاشیے نے اس متن کو جنم دیا جو آج بھی دنیا پڑھتی ہے ۔
٭٭٭


