قائد حریت سید علی گیلانیؒ کی خدمات
شیئر کریں
کنٹرول لائن کے دونوں جانب اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری قائد حریت سید علی گیلانی کی شہادت کی پانچویں برسی اس عزم کی تجدید کے ساتھ منائی گئی کہ بھارتی تسلط سے آزادی کے ان کے مشن کو ہرقیمت پر اس کے منطقی انجام تک جاررکھا جائے گا۔
سید علی گیلانی یکم ستمبر 2021ء کو سری نگر میں اپنی رہائش گاہ پربھارتی حراست میں انتقال کر گئے تھے، جہاں انہیں ایک دہائی سے زائد عرصے تک گھر میں نظر بند رکھا گیا تھا۔یہ دن منانے کی اپیل کل جماعتی حریت کانفرنس نے کی تھی۔ پابندیوں کے باوجود کشمیری حیدرپورہ قبرستان گئے اور سید علی گیلانی اور دیگر شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا جبکہ مساجد میں سید علی گیلانی کی بلندی درجات اور جموں وکشمیر کی بھارتی تسلط سے آزادی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔حریت کانفرنس نے کہا کہ کشمیری شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دی جائیں گی اور ان کے مشن کو ہر قیمت پر مکمل کیا جائے گا۔ سید علی گیلانی کا کشمیر کے لیے لازوال عزم آنے والی نسلوں کو متاثر کرتا رہے گا اور جموں و کشمیر کے پاکستان سے الحاق کے لیے ان کی جدوجہد ان کے مضبوط عزم کا ثبوت ہے۔ دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں نے کہا کہ سید علی گیلانی کا نعرہ‘‘ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے’’آج بھی ان کے وژن کی علامت ہے اور ان کے مشن کو آگے بڑھانا ان کے لیے سب سے بڑا خراج تحسین ہوگا۔
سید علی گیلانیؒ کی آزادی کشمیر کیلئے جدوجہد کے پیش نظر یہ کہنا کہ وہ ہم میں نہیں رہے، غلط ہے، بلکہ وہ ہم میں موجودہیں اورجب کبھی بھی کشمیرکاپاکستان کے ساتھ الحاق ہوگاتو اس کاسہراسیدعلی گیلانیؒ اور شہدائے آزادی کشمیرکے سر ہوگا۔ قدرت نے مسئلہ کشمیرحل کرنے کے متعددمواقع فراہم کیے لیکن پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت نے فائدہ نہ اٹھایا۔ گزشتہ تین کشمیری نسلیں اس آگ کاایندھن ہیں آخریہ مسئلہ کب حل ہوگا۔تقسیم ہندکے وقت قائداعظم ؒنے سکھوں اورکشمیریوں سے کہاتھاکہ ہندوستان کے ساتھ الحاق پر انہیں بلآخرندامت ہوگی اوروہی ہوا۔ دونوں قومیں آج برہمن کی چیرہ دستیوں کا شکار ہیں۔1964میں شیخ عبداللہ پاکستان آئے تھے لیکن اس وقت تک پانی سرسے بہت اونچا ہوچکا تھا۔کسی بھی مجاہد آزادی خصوصا آزادی کشمیر کی تحریک سے متعلق شخص کے لیے علامہ اقبالؒ کے ساتھ وابستگی نہ صرف ایک فطری امر بلکہ ناگزیر ہے۔ اقبالؒ سے سید علی گیلانیؒ کا اوّلین تعلق ہائی سکول سوپور میں تعلیم کے دوران پرندے کی فریاد پڑھ کر قائم ہوا تھا۔ یہ نظم انھیں ازبر ہوگئی۔ وہ اسے بچپن میں بھی پڑھتے اور آنسو بہاتے تھے۔ پھر جب انھیں اپنے لڑکپن میں ایک مختصر عرصے کے لیے علامہ اقبالؒ کے ایک قریبی دوست محمد دین فوق کے ایما پر لاہور میں قیام کرنا پڑا تو وقتاً وقتاً بادشاہی مسجد جاکر اقبالؒ کی قبر کی قربت سے ایک قلبی سکون اور طمانیت حاصل کرتے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اس وقت اقبالؒ کے کلام اور ان کے مرتبے اور مقام سے بے خبر تھا’ لیکن شاید یہ ایک روحانی تعلق تھا جو انھیں کشاں کشاں اقبالؒ کی تربت کی طرف لے جاتا۔ آگے چل کر اقبالؒ سے ان کا یہ تعلق اتنا پختہ اور استوار ہوگیا کہ آزادی کشمیر کی تحریک میں علی گیلانیؒ کے لیے کلام اقبالؒ ایک بڑا سرچشمہ تحریک ثابت ہوا۔ ان کی زیرنظر کتاب ‘‘اقبالؒ روح دین کا شناسا’’ اسی تعلق کی داستان اور شہادت پیش کرتی ہے۔
سیدعلی گیلانیؒ نے کشمیر کی آزادی کی جدوجہد میں عمر بھر کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کی وکالت کی۔ انہوں نے بھارتی ظلم و جبر کے کسی ہتھکنڈے کے آگے سرِتسلیم خم کیا نہ اپنے اصولی موقف میں کبھی کوئی ہلکی سی بھی لچک پیدا ہونے دی۔ بھارت کی ہر حکومت نے انہیں تحریص و تخویف کے مختلف ہتھکنڈوں کے تحت دبانے اور لالچ میں لانے کی ہر ممکن کوشش کی مگر انکے پائے استقلال میں کبھی لغزش پیدا نہ ہوئی۔ وہ آزادی کی بے پایاں تحریک کا استعارہ اور کشمیریوں کے اتحاد کی علامت تھے جن سے بھارتی حکمران اور انکے کٹھ پتلی کشمیری لیڈران اتنے خوفزدہ تھے کہ انہیں قیدوبند میں رکھنے میں ہی اپنی عافیت سمجھتے تھے چنانچہ سیدعلی گیلانیؒ کی زندگی کے 20 سے زیادہ سال بھارتی قیدوبند کی صعوبتوں میں گزرے مگر قیدوبند کے دوران بھی وہ دنیا بھر میں موجود کشمیری عوام کو کشمیر کی آزادی اور اسکے پاکستان کے ساتھ الحاق کی جدوجہد کیلئے متحرک رکھتے جن کی ایک کال پر پوری مقبوضہ وادی میں پلک جھپکتے مکمل شٹرڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال ہو جاتی اور کشمیری نوجوان اپنی سرزمین کی آزادی کی خاطر قربانیوں کے جذبے سے معمور ہو کر اور سروں پر کفن باندھ کر ظالم بھارتی فوجوں کے آگے سینہ سپر ہو جاتے۔
سید علی گیلانیؒ کا مشہور زمانہ نعرہ ‘‘ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے’’ اب عام کشمیریوں کی آواز بن گیا۔ سید علی گیلانیؒ کی رحلت سے مقبوضہ کشمیر میں ‘‘تحریک آزادی’’ ایک نئے دور میں داخل ہو گئی ہے۔ ان کی وفات کے بعدمقبوضہ وادی میں کئی جگہ مشتعل نوجوان گھروں سے نکلے اور اس عزم کا اظہار کیا کہ سید علی گیلانیؒ کی وفات کے بعد مقبوضہ وادی کا ایک ایک نوجوان سید علی گیلانی بن گیا ہے۔ پاکستان اور کشمیر سے ان کی بے مثال وابستگی اور محبت پر انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کی یاد قابض بھارتی فوج کے ناجائز قبضے کے خلاف اہل کشمیر کے جذبے اور تحریک کو آگے بڑھاتی رہے گی۔ اللہ تعالی ان کے درجات بلند فرمائے۔ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کے قانونی حق کے حصول تک کشمیریوں کی ہرممکن مدد کرتا رہے گا۔
٭٭٭


