میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
غیر حاملہ خاتون کا سی سیکشن، میڈیکل رپورٹ میں زندہ بچے کی پیدائش کا اندراج

غیر حاملہ خاتون کا سی سیکشن، میڈیکل رپورٹ میں زندہ بچے کی پیدائش کا اندراج

جرات ڈیسک
جمعه, ۴ ستمبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

نجی اسپتال کی میڈیکل فائل میں 40 ہفتے کے حمل اور بچے کی پیدائش کے تفصیلی نوٹس، پولیس تفتیش میں خاتون کے حاملہ نہ ہونے کا انکشاف

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کراچی کے ایک نجی اسپتال میں غیر حاملہ خاتون کے سی سیکشن کے ذریعے زندہ بچے کی پیدائش کا اندراج سامنے آنے کے بعد معاملہ مزید سنگین ہوگیا۔ خاتون کے مبینہ طور پر بچے کی چوری کے الزام کا معاملہ پولیس کی تفتیش کے بعد ایک مختلف رخ اختیار کرگیا، جبکہ میڈیکو لیگل رپورٹ اور تحقیقات میں خاتون کے حاملہ نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

ذرائع کے مطابق ناظم آباد کے نجی اسپتال کی خاتون مریضہ زوبیا راشد، مریضہ شناختی نمبر 7258، کی میڈیکل فائل میں 27 اگست کو حمل کے 40 ہفتے مکمل ہونے کا اندراج موجود ہے۔ فائل میں ڈیلیوری آپریشن سے متعلق ڈاکٹر کے ہاتھ سے تحریر کردہ تفصیلی نوٹس بھی شامل ہیں، جن کا ہیلتھ کمیشن کی جانب سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔

آپریشن نوٹس کے مطابق مریضہ کو حمل کے باعث ہائی بلڈ پریشر کا مسئلہ درپیش تھا، جبکہ بچہ دانی کا منہ قدرتی طور پر ڈیلیوری کے لیے تیار نہیں تھا۔ رپورٹ میں بچہ دانی کی تنگی کے باعث سیزیرین آپریشن کیے جانے کا ذکر بھی موجود ہے۔

میڈیکل فائل کے مطابق اینستھیزیا ڈاکٹر شہزاد نے دیا اور کمر میں اسپائنل انجکشن لگایا گیا، جبکہ مبینہ طور پر حاملہ خاتون کی ڈیلیوری کا آپریشن ڈاکٹر عائشہ نے کیا۔ رپورٹ میں "An Alive baby delivered” کے الفاظ بھی درج ہیں، یعنی آپریشن کے ذریعے زندہ بچے کی پیدائش کا اندراج کیا گیا۔  آپریشن نوٹس میں بچے کی پوزیشن سیدھی ہونے، بچے کی پیدائش کے بعد ناف سے نال بحفاظت نکالنے، بچہ دانی کی تمام تہوں کو ٹانکے لگا کر بند کرنے اور خون بہنے کو قابو میں رکھنے سمیت دیگر طبی کارروائیوں کی تفصیلات بھی درج ہیں۔ رپورٹ کے مطابق آپریشن کے اختتام پر تمام طبی آلات اور پٹیوں کی گنتی بھی مکمل رکھی گئی۔

دوسری جانب پولیس کی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ خاتون حاملہ نہیں تھیں اور مبینہ طور پر سماجی دباؤ کے باعث خود کو حاملہ ظاہر کرتے ہوئے اسپتال میں داخل ہوئیں اور آپریشن کرایا۔ پولیس کے مطابق خاتون سے مختلف طبی خدمات کی مد میں تقریباً 70 ہزار روپے وصول کیے گئے، جو مبینہ طور پر متعلقہ افراد میں تقسیم ہوئے۔

تحقیقات کے دوران یہ سوال بھی سامنے آیا ہے کہ اسپتال میں داخلے کے وقت خاتون کے حمل کی تصدیق کے لیے مناسب طبی جانچ کیوں نہیں کی گئی اور اگر حمل موجود نہیں تھا تو ڈیلیوری آپریشن سے متعلق اتنی تفصیلی طبی دستاویز کیسے تیار ہوئی۔

پولیس کے مطابق خاتون کے حاملہ نہ ہونے کی حقیقت سامنے آنے کے بعد بچے کی چوری کا الزام ثابت نہیں ہوتا، تاہم میڈیکل فائل میں درج آپریشن نوٹس اسپتال کے طریقہ کار اور طبی نگرانی کے حوالے سے سنگین سوالات ضرور اٹھاتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق مذکورہ میڈیکل فائل ہیلتھ کمیشن کی تحقیقات کا حصہ ہے اور معاملے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ تحقیقاتی عمل مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہوسکے گا کہ میڈیکل ریکارڈ میں حمل اور زندہ بچے کی پیدائش سے متعلق اندراج کس طرح ہوا اور اس میں کن افراد کی ذمہ داری بنتی ہے۔

واقعے نے اسپتال میں مریضوں کے طبی معائنے، ریکارڈ کی تیاری اور نگرانی کے نظام پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں