سندھ اسمبلی، پیپلز پارٹی کی سندھ کی تقسیم کے خلاف تحریک التواء پر بحث
شیئر کریں
ہمیں اور صوبے کے عوام کو سندھ کی کسی بھی شکل میں تقسیم قبول نہیں
سندھ بمبئی بیکری کا کیک نہیں کہ اس کے ٹکڑے کردیئے جائیں، ارکان اسمبلی
سندھ میں بیڈ گورننس اور ناانصافی کا سلسلہ بند ہونا چاہیے، اختیارات نچلی سطح تک منتقل کئے جائیں، اپوزیشن ارکان
سندھ کی 37 فیصد آبادی کراچی میں رہتی ہے۔ جو ڈویڑن ہیں ان کو انتظامی یونٹس بنایا جائے
انتظامی یونٹس بنیں گے تو پیسوں کی تقسیم تمام یونٹس میں ہوگی، انجینئر عثمان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سندھ اسمبلی نے منگل کو دوسرے روز بھی پیپلز پارٹی کے رکن نثار احمد کھوڑو کی سندھ کی تقسیم کے خلاف اور نئے صوبوں کی تشکیل سے متعلق تحریک التوا ء پر بحث جاری رکھی جس میں حکومت اور اپوزیشن کے متعدد ارکان نے حصہ لیا۔
حکومتی ارکان نے اپنے اس دوٹوک موقف کا اظہار کیا کہ ہمیں اور صوبے کے عوام کو سندھ کی کسی بھی شکل میں تقسیم قبول نہیں،پیپلز پارٹی کے ایک رکن نے کہا کہ سندھ بمبئی بیکری کا کیک نہیں کہ اس کے ٹکڑے کردیئے جائیں۔
اپوزیشن ارکان نے کہا کہ وہ بھی سندھ کی تقسیم کے حق میں نہیں مگر سندھ میں بیڈ گورننس اور ناانصافی کا سلسلہ بند ہونا چاہیے ، اختیارات کی نچلی سطح پر تقسیم اوربلدیاتی اداروں کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔
اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سید اویس قادر شاہ کی زیر صدارت شروع ہوا۔وزیر بلدیات سندھ سید: ناصر حسین شاہ نے اپنی تقریر میں کہا کہ نثار کھوڑو نے آئینی طریقہ کار کے مطابق راستہ اپنا یا،آئیں ہم اتحاد کے ساتھ پیغام دیں کہ سندھ تقسیم نہیں ہوگا۔
ناصر حسین شاہ نے کہا کہ سندھ کی تقسیم اور سندھو دیش کے خلاف قرارداد مل کر منظور کی جائے۔انہوں نے کہا کہ سندھو دیش کی بات کرنے والوں کے خلاف بھی ایوان متحد ہو کر پیغام دے۔
پنجاب والے اگر چاہتے ہیں کہ صوبہ بنے تو وہ خود بنالیں۔انہوں نے کہا کہ جب پنجاب کے نئے صوبوں میں دودھ کی نہریں بہیں تو ہمیں کہنا کہ دیکھو نیا صوبہ کیسا ہے۔انہوں نے کہا کہ اردو بولنے والے ساتھیوں کا شکر ادا کرتا ہوں کہ وہ سندھ کی تقسیم کے خلاف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پی پی سمیت سب جماعتیں سندھ کی تقسیم کے خلاف ہیں۔ناصر شاہ نے کہا کہ مصطفی کمال بھی سندھ کی تقسیم نہیں چاہتے۔ صوبائی وزیر نے ایوان میں مصطفی کمال کا ایک آڈیو کلپ بھی سنایا۔
انہوں نے تمام ارکان سے کہا کہ اآئیں ہم اس قراداد کو مل کر پاس کریں سندھ ایک تھا اور ایک رہے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم پر تنقید کریں، ہم خندہ پیشانی سے قبول کریں گے، ہم تسلیم کرتے ہیں کہ ہم سے بھی کوتاہیاں ہوتی ہیں تاہم اپنی طرف سے بہتر کارکردگی دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن خامیاں ہوسکتی ہیں۔
انہوں نے اپوزیشن سے کہا کہ ہماری کوتاہیوں کی نشاندہی کریں، ہم کبھی برا نہیں مانیں گے۔ وزیر آبپاشی جام خان شورو نے کہا کہ سب لوگوں نے ایک متفقہ بات کی ہے کہ سندھ کی تقسیم نہیں ہوگاسندھ کی وحدانیت پر کبھی کوئی سوال نہیں ہوگا، پہلے ملتان تک سندھ کی حکومت تھی۔ عربوں نے ساڑھے تین سو سال یہاں حکومت کی۔
تب بھی سندھ ملتان تک تھا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ اگرآج کوئی سندھ کی سرحد تبدیل کرے گا تو سندھ کے لوگ حکمرانوں کو نہیں چھوڑیں گے انہوں نے انگریز کے خلاف بھی تاریخی جنگ لڑی ہے۔
سندھ کے لوگوں نے لڑ کر سندھ کا تحفظ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ تقسیم کی بات کرتے ہیں وہ پاکستان کے خیر خواہ نہیں ہیں۔ وزیر ثقافت ذوالفقار علی شاہ نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سندھ میری ماں ہے۔ ماضی میں نفرتوں سے بہت نقصان ہوا، صرف ایک جماعت ایسی باتیں کر رہی ہے۔ایک وفاقی وزیر 14 بچوں کی موت پر توجہ دے۔
وزیر موصوف نفرتوں کی بات نہ کریں۔پیپلز پارٹی کی خاتون رکن سمیعتا افضال نے کہا کہ سندھ ہماری ریڈ لائن ہے ،میں کراچی کی نمائندگی کرتی ہوں،چند لوگوں کی خواہش ہے کہ وہ سی ایم بن جائیں ،کراچی سے کشمور تک کوئی بھی سندھ کی تقسیم نہیں چاہتا۔انہوں نے کہا کہ میں سندھ کی بیٹی ہوں اورسندھ ہماری دھرتی ہے ہماری ریڈ لائن ہے۔ ایم کیو ایم کے رکن افتخار عالم نے کہا کہ انتظامی یونٹس کو سیاسی تناظر میں نہ دیکھا جائے ،پاکستان کی آبادی گئی گنا بڑھ چکی ہے۔
ہم سندھ توڑنے کی بات نہیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری جماعت کسی قومیت کے خلاف نہیں مگر ناانصافی کا ازالہ ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہر سال اربوں اور کھربوں روپے کا بجٹ پیش ہوتا ہے، مگر عام آدمی کی حالت نہیں بدل رہی۔انتظامی یونٹس کی بحث کو صرف سیاسی نعرے کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ نتظامی اصلاحات کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں اور عوام کو بہتر خدمات فراہم کی جائیں وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے انتظامی اصلاحات ضروری ہیں۔
پیپلز پارٹی کے حسن علی شاہ نے کہا کہ صوبہ بنانے کے لیئے اسمبلی میں دو تہائی اکثریت چاہئے ،ہمیں سندھ تقسیم کبھی بھی منظور نہیں۔ اس ایوان نے پاکستان کو بنانے کی قراداد منظور کی تھی۔
یہ ایوان صوبے بنانا کبھی نہیں دے گا۔ ایم کیو ایم کے اعجاز الحق نے کہا کہ سندھی ہمارے بھائی اور محسن ہیں،سندھیوں نے ہجرت کے بعد انصار کا کردار ادا کیا،ان سے ہمیں لڑانے کی کوشش نہ کی جائے۔ہم سندھیوں کے مخالف نہیں ہیں۔
ہمیں مسئلہ اشرافیہ سے ہے ، سیاست دانوں سے ہے۔ہم سندھ کی تقسیم نہیں چاہتے۔ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد رکن اویس احمد نے کہا کہ نثار احمد کھوڑو نے تحریک التوا کیوں پیش کی ؟ وہ کیا سندھ کو بلوچستان بنانا چاہتے ہیں، کیا سندھ میں مہاجر سندھی پشتون فسادات کرانے کی کوشش ہورہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ سندھ کے عوام کا فیصلہ قبول کیا جائے۔پاکستان عوام کسی آئینی ترمیم کو نہیں مانتے۔پیپلز پارٹی کے رکن فاروق اعوان نے کہا کہ صوبوں کے مسئلے پر انارکی پیدا ہوگی۔
سندھ کی تقسیم مسائل کا حل نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں سندھ کی تقسیم نہیں بلکہ سندھ کی تعلیم چاہئے۔میں پنجابی بولنے والا سندھی ہوں مگر سندھ کی تقسیم کے خلاف ہوں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی ایک ریاست کی آبادی 34 کروڑ ہے جبکہ سندھ کی آبادی 6 کروڑ ہے۔ہم سندھ کی سرحدیں تبدیل نہیں کرنا چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس بات پر متفق ہیں کہ کوء-04 صوبہ نہیں بنے گا۔
ہم سب سندھی ہیں۔سندھ ہے سندھ ہمیشہ رہے گا۔ ایم کیو ایم کے رکن دانیال احمد نے کہا کہ ہم سندھ کی جغرافیائی حدود میں کوئی تبدیلی نہیں چاہتے ،ہم میں کسی نے بھی سندھ کی تقسیم کی بات نہیں کی ،
تقسیم کی کوئی بات نہیں ہو رہی ہے بات صرف انتظامی یونٹس کی ہورہی ہے۔انہوں نے اپنی تقریر میں طنزیہ انداز میں مرسوں مرسوں تعلیم نہ ڈیسوں اورمرسوں مرسوں صحت نہ ڈیسوں کا نعرہ بھی لگایا۔
پی ٹی آئی کے سجاد علی سومرو نے کہا کہ ایسی کیا ضرورت پڑی کہ صوبوں پر بحث کر رہے ہیں صوبے بنانے کا مسئلہ بہت حساس ہے۔موجودہ حکومت کو کوئی حق نہیں کہ وہ نئے صوبے بنائے۔ پیپلز پارٹی کی خاتون رکن ندا کھوڑو نے کہا کہ نیا صوبہ صرف ایک نیا سیکریٹریٹ قائم کرنے کا نام نہیں بلکہ وہ ایک آئینی ادارہ، قانون ساز اسمبلی، انتظامی بیوروکریسی اور مالی ڈھانچے پر مشتمل ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نئے صوبے کے قیام سے سیاسی نمائندگی، اثاثوں، واجبات اور وسائل سے متعلق نئے سوالات پیدا ہوں گے۔ موجودہ حکومت کو نئے صوبوں کے بجائے موجودہ بلدیاتی نظام کو مو -BFثر بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔
اگر مقصد اختیارات عوام تک پہنچانا ہے تو آرٹیکل 140 اے پر مکمل عملدرآمد کیا جائے۔پیپلز پارٹی کے رکن جمیل احمد سومرو، نے کہا کہ میں اپوزیشن کا شکر گذار ہوں کہ انہوں نے سندھ کی وحدت کے خلاف بات نہیں کی۔ سندھ کے عوام نے تاریخی طور پر ہمیشہ سندھ کی تقیسم اور کراچی کے وفاقی کنٹرول کی مخالفت کی ہے مگرکچھ قوتیں ایسی ہیں جنہوں نے پاکستانی قوم کو قوم نہیں بننے دیا۔ ون یونٹ لگا کر قوم کو تقسیم کیا گیا۔ جی ایم سید بڑے مدبر تھے۔
انہوں نے پاکستان کی قراداد پیش کی تھی۔ مگر بعد میں سندھ اسمبلی کی قراداد کو مسترد کردیا گیا۔ جی ایم سید کو غدار قرار دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ میں قوم پرستوں کی عزت کرتا ہوں ،نسل پرستوں کی بات نہیں کر رہا ،صرف انتظامی فیصلوں سے قومیں نہیں بنتیں۔انہوں نے کہا کہ تاجروں اورٹی وی چینلز کے مالکان کو کس نے حق دیا کہ وہ صوبوں پر بات کریں۔یہ حق صرف سندھ اسمبلی کو حاصل ہے۔
سندھ میں کوئی نیا صوبہ نہیں بن سکتا۔وحدت کے خلاف کچھ برداشت نہیں۔انہوں نے کہا کہ جن آمروں نے آئین توڑا ان کو بھی سندھ توڑنے کی ہمت نہ ہوئی۔سندھ کو بمبئی بیکری کا کیک نہیں کہ ٹکڑے کیئے جائیں۔ ایم کیو ایم کے رکن معاذ محبوب نے کہا کہ سندھ ایک ہے تو پھر یہاں دو نظام کیوں ہیں ،ای چالان صرف کراچی اور حیدر آباد میں کیوں ہے۔ پیپلز پارٹی سندھ سے کوٹہ سسٹم کو کیوں ختم نہیں کرتی؟
انہوں نے کہا کہ ہم سندھ کی تقسیم کی نہیں بلکہ صوبے کو مضبوط کرنے کی بات کررہے ہیں،انتظامی یونٹس سے سندھ مضبوط ہوگا۔ ایم کیو ایم کے باسط علی نے کہا کہ سندھ کی تقسیم کوئی نہیں چاہتا مگرجواب ہم بیڈ گورننس پر سوال اٹھاتے ہیں توسندھ کی تقسیم کے نام پر دبایا جاتا ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ وہ ہی سندھ ہے جس نے پاکستان کی قراداد پیش کی تھی یہ قراداد اس لیئے پیش نہیں ہوئی تھی کہ یہاں بیڈ گورننس ہو۔ انہوں نے کہا کہ جب آئین کی بات کرتے ہیں توآئین میں لکھا ہے کہ کرپشن نہیں ہونی چاہئے آپ کرپشن کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انتظامی یونٹس سے سندھ بہتر ہوتا ہے تو اس میں برا کیا ہے۔ہم سندھ کی بہتری کی بات کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نہ تھر پارکر کو صوبہ ہونا چاہئے نہ کراچی کو صوبہ ہونا چاہئے سندھ توڑنے والی بات ختم ہوگئی۔
اگر انتظامی یونٹس سے سندھ کی حالت بہتر ہوتی تو اس پر بات کی جائے۔پی ٹی آئی رکن واجد خان نے کہا کہ وفاقی حکومت سندھ کو کچھ نہیں دیتی۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نعرہ لگاتی ہے کہ آئین شہید بھٹو کی امانت ہے مگریہ نظام فارم 47 کا نظام ہے۔آپ صرف سندھ کارڈ کھیلتے ہیں۔پی ٹی آئی جعلی قانون سازی کو تسلیم نہیں کرے گی۔ پیپلز پارٹی کے اعجاز شاہ نے کہا کہ سندھ میں رہنے والے جن لوگوں نے سندھ کو ماں سمجھا اس کی حفاظت کی۔ ہم خون کے آخری قطرے تک سندھ کی حفاظت کریں گے۔ہمارا ایک ہی نعرہ ہے کہ مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں۔ ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی طحہ احمد نے کہا کہ اس ایوان میں سندھ کی وحدت پر کوئی بات نہیں ہو رہی بلکہ کرپشن پر بات ہورہی ہے جس پر ہمیں کہاجاتا کہ ہم سندھ کی تقسیم چاہتے ہیں۔
سندھ حکومت کی کارکردگی کا یہ عالم ہے کہ یونیورسٹی روڈ پر وزیر اعلی ٰ سندھ نے خود یہ کہا کہ میں شرمندہ ہوں ،ہم سندھو دیش کے نظریے کے خلاف ہیں۔ پیپلز پارٹی کے اعجاز سواتی نے کہا کہ آئین میں صوبوں کے قیام کا طریقہ کار موجود ہے ، ہم سندھ کی وحدت پر کبھی آنچ نہیں آنے دیں گے۔ پیپلز پارٹی کے رکن امتیاز احمد شیخ نے کہا کہ مجھے بڑی خوشی ہوئی کہ اپوزیشن کی اکثریت نے سندھ کی تقسیم کی بات نہیں کی۔ امید ہے کہ سندھ کی وحدت کے مسئلے پر اپوزیشن ہمارا ساتھ دے گی۔ انہوں نے کہا کہ سندھی جان قربان کردیں گے لیکن اپنے صوبے کوتقسیم ہونے نہیں دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ ہیں جو سندھ کی وحدانیت پر حملہ آور ہیں۔ امتیاز شیخ کا کہنا تھا کہ لاہور کے ایک میڈیا مالک نے یہ مسئلہ شروع کیاپھر وفاقی وزراء-04 نے یہ باتیں کیں ،وزیر اعظم کی ذمے داری ہے کہ وفاقی وزراء-04 کو روکیں۔انہوں نے کہا کہ انتظامی یونٹس تو اضلاع اور ڈویڑن ہوتے ہیں۔ اگر ایسے انتظامی یونٹس چاہتے ہیں تو تجویز دیں ،بلدیاتی قوانین پر بات ہو سکتی مگرسندھ کی وحدت پر کوئی بات نہیں ہو سکتی۔ ایم کیو ایم کی ڈاکٹر فوزیہ حمید نے کہا کہ ہمیں نئے انتظامی یونٹس پر بات کرنے سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہئے ،نئے انتظامی یونٹس پر سنجیدگی سے بات کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کی مردم شماری ٹھیک ہوتی تو ابادی زیادہ ہوتی ،ایم کیو ایم نے ہمیشہ اختیارات کی تقسیم کی بات کی ہے۔انہوں نے کہا کہ بلدیاتی نظام کو با اختیار نہیں کریں گے تو انتظامی یونٹس کی آوازیں آئیں گی۔ آئیں مل کر مستحکم سندھ بنائیں۔ پیپلز پارٹی کے جام شبیر علی نے اپوزیشن سے کہا کہ وہ سندھ کی تقسیم کے خلاف ہمارا سا تھ دے۔سندھ دھرتی ہماری ماں ہے۔
سندھ کی وحدانیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ ایم کیو ایم کے فہیم احمدنے کہا کہ ملک میں نئے انتظامی یونٹس بننے چاہئیں ،انتظامی یونٹس سے سندھ ترقی کرے گا۔ ایم کیو ایم کے انجینئر عثمان نے کہا کہ سندھ کی بات ہو رہی ہے کیا آج پورا سندھ ہے ،کیا سندھ کی پرانی شکل بحال کرنے کی کوشش کی گئی۔انہوں نے کہا کہ مصر میں 27 صوبے ہیں وہاں تو کسی نے اعتراض نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کی 37 فیصد آبادی کراچی میں رہتی ہے۔جو ڈویڑن ہیں ان کو انتظامی یونٹس بنایا جائے۔انتظامی یونٹس بنیں گے تو پیسوں کی تقسیم تمام یونٹس میں ہوگی۔انتظامی یونٹس بنیں گے تو غریب لوگ بھی وزیر اعلی بن جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم سندھ کی تقدیر بدلنے کی بات کر رہے ہیں۔ کراچی میں انتظامی یونٹ چاہئے۔بعدازاں سندھ اسمبلی کا اجلاس بدھ کی دوپہر ایک بجے تک ملتوی کردیاگیا۔


