میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ کابینہ کے اہم فیصلے، الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس مراعات میں 2 سال توسیع

سندھ کابینہ کے اہم فیصلے، الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس مراعات میں 2 سال توسیع

جرات ڈیسک
منگل, ۱ ستمبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

صوبائی کابینہ نے پاسکو سے 2 لاکھ 23 ہزار 455 ٹن گندم خریدنے اور 3 لاکھ ٹن درآمدی گندم منگوانے کی منظوری بھی دے دی

پی پی پی یونٹ کو سرکاری ملکیتی نجی لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل کرنے کا فیصلہ

ملازمین اور موجودہ آپریشنز کا تسلسل برقرار رہے گا،وزیر اعلیٰ سندھ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سندھ کابینہ نے صوبے میں ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ، غذائی تحفظ یقینی بنانے اور ترقیاتی منصوبوں میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اہم فیصلے کرتے ہوئے الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس اور رجسٹریشن مراعات میں مزید دو سال کی توسیع، پاسکو سے 2 لاکھ 23 ہزار 455 میٹرک ٹن گندم خریدنے اور ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے ذریعے 3 لاکھ میٹرک ٹن درآمدی گندم حاصل کرنے کی منظوری دے دی، جبکہ صوبائی فنانس کمیشن ایوارڈ کی تیاری کے لیے مالیاتی ماہر کی خدمات حاصل کرنے اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ یونٹ کو سرکاری ملکیتی نجی لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلیٰ ہاؤس میں سندھ کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں صوبے کے مالی، غذائی اور ٹرانسپورٹ سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔کابینہ نے غیر تجارتی الیکٹرک گاڑیوں کے لیے ٹیکس اور رجسٹریشن مراعات میں مزید دو سال کی توسیع کی منظوری دیتے ہوئے الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس ایک ہزار روپے برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔

غیر تجارتی الیکٹرک گاڑیوں پر سالانہ موٹر وہیکل ٹیکس 500 روپے جبکہ الیکٹرک موٹر سائیکلوں پر 500 روپے ایک مرتبہ تاحیات موٹر وہیکل ٹیکس عائد ہوگا۔ 2000 سی سی یا اس سے زائد مساوی انجن کی حامل الیکٹرک گاڑیوں پر 5 ہزار روپے لگڑری ٹیکس اور تاخیر سے رجسٹریشن پر ایک ہزار روپے جرمانہ مقرر کیا گیا ہے۔ یہ مراعات 30 مئی 2026 سے 29 مئی 2028 تک جاری رہیں گی۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ سے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے، کاربن اخراج میں کمی اور شہری فضائی آلودگی کے خاتمے میں مدد ملے گی۔ ٹیکس مراعات کے تسلسل سے صوبے میں الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال اور الیکٹرک موبیلٹی کے شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔اجلاس میں گندم کے ذخائر مضبوط بنانے کے لیے بھی اہم فیصلے کیے گئے۔

سندھ کابینہ نے پاسکو سے 2 لاکھ 23 ہزار 455 میٹرک ٹن گندم خریدنے کی منظوری دے دی۔ فیصلے کے مطابق پاسکو سے حاصل ہونے والی ایک لاکھ 30 ہزار میٹرک ٹن گندم کراچی منتقل کی جائے گی، جبکہ 30 ہزار میٹرک ٹن سے زائد گندم حیدرآباد اور جامشورو منتقل ہوگی۔ شہید بینظیرآباد اور سانگھڑ کے پاسکو گوداموں میں موجود گندم کا ذخیرہ برقرار رکھا جائے گا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ پاسکو کے موجودہ ذخائر سے شہید بینظیرآباد اور میرپورخاص ڈویڑن کی ضروریات پوری کی جائیں گی۔

محکمہ خزانہ گندم کی خریداری کے لیے 23 ارب 13 کروڑ 60 لاکھ روپے جاری کرچکا ہے جبکہ گندم کی ترسیل کے اخراجات کے لیے 2 ارب روپے بھی پہلے ہی جاری کیے جاچکے ہیں۔سندھ حکومت ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے ذریعے مزید 3 لاکھ میٹرک ٹن درآمدی گندم خریدے گی۔ کابینہ نے وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق، ٹی سی پی اور سندھ حکومت کے درمیان سہ فریقی معاہدے کی منظوری کے ساتھ درآمدی گندم کی خریداری کے لیے سندھ بینک سے کموڈیٹی فنانسنگ کے ذریعے پیشگی ادائیگیوں کی بھی منظوری دے دی۔

درآمدی گندم کے لیے باردانہ یعنی پی پی بیگز خریدنے اور بندرگاہ سے روزانہ 5 ہزار میٹرک ٹن گندم اٹھانے کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے۔کابینہ نے جامعہ کراچی کے محکمہ فوڈ سائنس کی تجویز کردہ گندم کے معیار کی منظوری دیتے ہوئے خوراک سے متعلق کابینہ کی ذیلی کمیٹی کو درآمدی گندم کی حتمی لینڈڈ کاسٹ منظور کرنے کا اختیار بھی دے دیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ گندم کی بلاتعطل دستیابی اور اسٹریٹجک ذخائر برقرار رکھنا حکومت کی ترجیح ہے اور گندم کی خریداری و درآمد کا مقصد صوبے میں غذائی تحفظ یقینی بنانا ہے۔

اجلاس میں صوبائی فنانس کمیشن ایوارڈ کی تیاری سے متعلق بھی اہم فیصلہ کیا گیا۔ کابینہ نے ڈاکٹر اشرف واست کو 6 ماہ کے لیے انفرادی کنسلٹنٹ مقرر کرنے کی منظوری دی۔ انہیں نئے صوبائی فنانس کمیشن ایوارڈ کی تیاری میں تکنیکی معاونت فراہم کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ نئے ایوارڈ کے لیے تفصیلی مالیاتی تجزیہ، وسائل کی تقسیم کا ماڈل اور سابقہ صوبائی فنانس کمیشن ایوارڈز کا جائزہ لیا جائے گا، جبکہ متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے بھی مشاورت کی جائے گی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صوبائی حکومت اور مقامی کونسلوں کے درمیان مالی وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے صوبائی فنانس کمیشن ایوارڈ انتہائی اہم ہے۔سندھ کابینہ نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے سندھ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (دوسری ترمیم) بل 2026 کی منظوری بھی دے دی۔ فیصلے کے تحت موجودہ پی پی پی یونٹ کو حکومت کی ملکیت والی نجی لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل کیا جائے گا، جس کا نام سندھ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پرائیویٹ) لمیٹڈ ہوگا۔نئی کمپنی کو موجودہ پی پی پی یونٹ کے تمام اختیارات، فرائض، عملہ، معاہدے، ریکارڈ اور زیر التوا کارروائیاں منتقل کردی جائیں گی۔

کابینہ کو بتایا گیا کہ تنظیم نو سے پی پی پی کا ادارہ جاتی نظام مضبوط ہوگا اور انتظامی و عملی کارکردگی میں بہتری آئے گی، جبکہ موجودہ آپریشنز اور ملازمین کی خدمات کا تسلسل بھی برقرار رہے گا۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں کی بروقت اور مؤثر تکمیل کے لیے پی پی پی یونٹ کی تنظیم نو ضروری ہے۔ نئی کمپنی کو مختلف محکموں کے پی پی پی نوڈز مضبوط بنانے کے اختیارات حاصل ہوں گے، جبکہ معیاری انسانی وسائل کی پالیسیاں، کارکردگی جانچنے کا نظام، بہتر رپورٹنگ میکانزم اور استعداد کار میں اضافے کے اقدامات بھی کیے جائیں گے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں