میر رضا قتل کیس؛ جوڈیشل کمیشن کے ارکان اور عملے کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری
شیئر کریں
عبدالمجید رجسٹرار، محمد امجد اور نادر علی سیکریٹری مقرر، تحقیقاتی عمل کو مؤثر بنانے کے لیے دیگر افسران و اہلکار بھی تعینات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محکمہ داخلہ سندھ نے میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کے ارکان اور معاون عملے کی تعیناتی کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق عبدالمجید کو جوڈیشل کمیشن کا رجسٹرار جبکہ محمد امجد اور نادر علی کو سیکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سلیم ناصر کو ریسرچ آفیسر اور ذیشان سعید کو نیٹ ورک سیکیورٹی ایڈمنسٹریٹر تعینات کیا گیا ہے۔
محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کمیشن کے انتظامی اور عدالتی امور کی معاونت کے لیے دیگر عملے کی تعیناتی بھی کی گئی ہے۔ معظم کو لائبریری، فیصل وسیم کو کورٹ اٹینڈنٹ، رب نواز کو بیلف جبکہ عبدالقّیوم کو فراش مقرر کیا گیا ہے۔ جوڈیشل کمیشن نے میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے اور کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال کی زیرصدارت کارروائی جاری ہے۔
کمیشن کے ابتدائی اجلاس میں میر رضا کے والدین اور وکیل بھی پیش ہوئے تھے۔جسٹس عمر سیال نے متاثرہ خاندان سے تعزیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ان کا پہلا جوڈیشل کمیشن ہے اور کوشش ہوگی کہ میر رضا کے والدین کے سوالات کے جوابات سامنے لائے جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کمیشن سرجن، تفتیشی عمل، مقدمے سے متعلق شواہد اور دیگر تفصیلات کا جائزہ لے گا۔
جوڈیشل کمیشن کے سربراہ نے متاثرہ خاندان کو یقین دلایا تھا کہ معاملے کی مکمل چھان بین کی جائے گی اور تمام متعلقہ پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔ ان ہوں نے کہا کہ کمیشن پر اعتماد رکھا جائے، جبکہ کیس کی تفتیشی ٹیم بھی اپنے طور پر معاملے پر کام کر رہی ہے۔
میر رضا کے والد نے کمیشن کے سامنے مؤقف اختیار کیا تھا کہ واقعے کو 29 روز گزر چکے ہیں تاہم انہیں تحقیقات میں کوئی نمایاں پیش رفت دکھائی نہیں دے رہی۔
کمیشن کی تشکیل اور اب اس کے ارکان و معاون عملے کی تعیناتی کے بعد میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کو باضابطہ انتظامی ڈھانچہ فراہم کردیا گیا ہے، جس کے تحت شواہد، تفتیشی مراحل اور متعلقہ ریکارڈ کا جائزہ لے کر حقائق سامنے لانے کی کوشش کی جائے گی۔


