آخر کب تک ؟
شیئر کریں
کیا یہ معاشرہ اپنے ہی تعفن کی سرانڈ سے اپنی موت مرجائے گا ؟
اک ایسا نظام جس کے خلاف اک ہلکی سی سرگوشی بھی بغاوت ٹھہرتی ہے اور ایک درد ناک موت کا اعلامیہ ،دوسری طرف وہ ہیں جو سر پر پگڑیاں، عمامے لپیٹے اپنی آنکھوں میں وحشت، خشونت، نفرت وتکبر کے ڈورے کھینچے،حلقوم سے بناوٹی آوازیں بلند کرتے ہیں ، محض خالی آوازیں ، جو دیواروں سے ٹکراکر واپس تو آسکتی ہیں لیکن کسی دِل کو متاثر کرنے کے اثر سے خالی ،یہ ہر دور میں اپنے چولے، اپنے لبادے بدل بدل کر اپنے مظالم کو تقویت دیتے ہیں۔یہ ہے وہ سرانڈ جو پاکستانی معاشرے کو نگلے جارہی ہے اور معاشرہ اسی سڑاند کے بوجھ تلے مرتا جارہا ہے ۔اسے ترجیحات کا بحران اور لاپروائی کی انتہاکہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔
میرا ایک دوست کہتا ہے پمز ہسپتال کا مجھے ذاتی تجربہ ہے جہاں ایک رات ای سی جی کرنے والوں کو جب میں نے کھنگال کے پوچھا کہ وہ ٹیکنیشن ہیں ڈاکٹر ہیں تو وہ مان گئے کہ وہ وارڈ ہیلپر ہیں ،مگرآج ان جانوروں نے چودہ بچے جلا کر راکھ کر دیے، ابھی تو ان کی ماؤں کی کوکھ کے زخم بھی ہرے ہیں۔ ظالموں نے ان کے دلوں کو چیر پھاڑ دیا ، 9 مہینے وہ دھڑکن ہے جو صرف ان چودہ بچوں کی ماؤں نے پیٹ میں سنی تھی وہ ساری زندگی نہ سو سکیں گی ،ابھی تو انہوں نے چھلے نہانے تھے، وہ مان جس کی چار سال بعد گود ہری ہوئی۔ اس نے منتیں اتارنی تھیں، دعائیں دم کرنی تھیں،ابھی تو ان کے فیڈر ان کے بب ان کپڑے بھی ویسے کے ویسے پڑے ہوں گے،پاوڈر کے ڈبے، بے بی لوشن، الائچی سونف والے پانی ٹونے ٹوٹکے۔۔۔ابھی تو وہ جھنڈ بھی نہ اتار پائے تھے وہ خاندانی دایہ اور نائی بھی آس لگائے بیٹھے ہوں گے، ساری لوریاں ماؤں کے لبوں چیخوں، بین اور آہوں میں ڈھل گئیں۔
جب 15 معصوم بچے بے بسی سے دم توڑ رہے تھے، تب متعلقہ وزیر کراچی میں وزارتوں کی تقسیم اور سیاسی جوڑ توڑ میں مگن تھا۔اور اسے سراپا احتجاج افراد نے پریس کانفرنس بھی نہیں کرنے دی ۔ اس ملک کا المیہ وسائل کی کمی نہیں، ترجیحات کا جنازہ ہے۔ یہاں کوئی بھی اپنا کام دیانت داری سے کرنے کو تیار نہیں، جس کا جو کام ہے وہ چھوڑ کر باقی سب کچھ ہو رہا ہے، اور نقصان صرف غریب اور بے گناہ عوام اٹھا رہے ہیں۔
ہمیں حادثے کا انتظار کیوں رہتا ہے؟اس حادثے نے معاشرے کے ضمیر کا وہ چہرہ بھی دکھا دیا ہے جس پر برسوں سے اخلاقیات، قانون اور شرافت کا غازہ ملا جا رہا ہے ۔ پنجاب میں قانون کی وہ چھڑی الگ، جو حفاظت سے زیادہ وصولی کا ذریعہ بن چکی ہے۔ چالان، جرمانے، فیسیں، ٹیکس اور روزمرہ کے بے شمار معاشی بوجھ۔۔۔سب مل کر اس آدمی کی کمر توڑ رہے ہیں جس کے پاس پہلے ہی زندگی کا بوجھ اٹھانے کو دو کمزور کندھے ہیں۔
اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں جو کچھ ہوا، اسے محض ایک آگ لگنے کا واقعہ کہہ کر آگے بڑھ جانا شاید ان چودہ ننھی جانوں کے ساتھ سب سے بڑی ناانصافی ہوگی جو ابھی زندگی کو ٹھیک طرح دیکھ بھی نہیں پائی تھیں۔وزیراعظم نے نوٹس لیا ۔ سیکریٹری ہیلتھ کو معطل کیا ۔
تحقیقاتی کمیٹی بنی۔رپورٹ طلب کی جائے گی ۔اور کچھ عرصے بعد زندگی معمول پر آ جائے گی ۔پھر کسی دوسرے شہر، کسی دوسری عمارت اور کسی دوسرے خاندان کو قیمت ادا کرنا پڑے گی ۔ہمیں اس چکر کو توڑنا ہوگا۔اگر پمز کے واقعے کے بعد صرف ایک سیکریٹری تبدیل ہواہے اور چند افراد کے خلاف کارروائی ہوگئی تو یہ احتساب تو ہوسکتا ہے، اصلاح نہیں۔اصلاح اس دن ہوگی جب پاکستان کے ہر سرکاری اور نجی ہسپتال کا آزادانہ فائر سیفٹی آڈٹ ہوگا۔ جب NICU، ICU، آپریشن تھیٹر اور آکسیجن استعمال ہونے والے حصوں کے لیے خصوصی حفاظتی معیار لازمی ہوں گے۔ جب اسکول کھولنے سے پہلے یہ دیکھا جائے گا کہ سینکڑوں بچوں کو ہنگامی حالت میں چند منٹ میں باہر کیسے نکالا جائے گا۔ جب ہوٹل، پلازہ یا ہسپتال صرف نقشہ منظور کروا کر ذمہ داری پوری نہیں کر سکے گا بلکہ وقتاً فوقتاً ثابت کرنا پڑے گا کہ اس کا حفاظتی نظام آج بھی کام کرتا ہے۔اور سب سے بڑھ کر، یہ معلومات عوام کے سامنے ہونی چاہئیں۔
ایک شہری کو یہ جاننے کا حق ہونا چاہیے کہ جس ہسپتال میں وہ اپنا بچہ داخل کر رہا ہے اس کا آخری فائر سیفٹی معائنہ کب ہوا تھا، کون سی خامیاں سامنے آئی تھیں اور کیا وہ دور کردی گئی ہیں۔چودہ نومولود بچوں کی موت کے بعد ہم ان کی زندگیاں واپس نہیں لا سکتے۔لیکن ان کے سانحے سے ایک ایسا نظام ضرور بنا سکتے ہیں جو پندرھویں بچے کو بچا سکے۔اصل کامیابی یہ نہیں ہوگی کہ پمز سانحے کے ذمہ دار کون قرار پاتے ہیں۔ اصل کامیابی اس دن ہوگی جب پاکستان میں کسی ہسپتال، اسکول یا عوامی عمارت میں آگ لگے اور پہلے سے موجود نظام اتنا مضبوط ہو کہ اگلی صبح خبر یہ ہو۔آگ لگی، مگر بروقت حفاظتی انتظامات کی وجہ سے تمام افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا۔
ریاست کا کام صرف حادثے کے بعد مجرم تلاش کرنا نہیں۔ریاست کا اصل کام ایسا نظام بنانا ہوتا ہے جس میں حادثہ انسانی المیے میں تبدیل ہونے سے پہلے روک لیا جائے۔اور شاید پمز کے چودہ ننھے بچوں کے نام ہمارا سب سے بڑا عہد یہی ہونا چاہیے کہ ہم اگلے حادثے کا انتظار نہیں کریں گے ۔آخر اس دھرتی پر کون سا ظلم باقی رہ گیا ہے؟آخر ہمارے معصوم بچوں کی حفاظت کون کرے گا؟ریاست کہاں ہے؟ قانون کہاں ہے؟ انصاف کہاں ہے؟کب تک معصوموں کی چیخیں فائلوں میں دفن ہوتی رہیں گی؟ کب تک مجرم قانون کا مذاق اڑاتے رہیں گے؟یہ صرف چند بچوں کا مسئلہ نہیں، یہ پوری انسانیت کا امتحان ہے۔
اگر آج ہم اپنے بچوں کے لیے آواز نہیں اٹھائیں گے تو کل ہمارے گھروں کی خاموشی بھی ہمیں معاف نہیں کرے گی۔
٭٭٭


