میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
ہم اپنے انتخاب خود ہیں !

ہم اپنے انتخاب خود ہیں !

جرات ڈیسک
جمعه, ۲۸ اگست ۲۰۲۶

شیئر کریں

ژاں پال سارتر کا مشہور فلسفیانہ تصور ہے:We are Our Choices ہم اپنے انتخاب ہیں۔ یہ محض ایک خوبصورت جملہ نہیں
بلکہ انسانی وجود کے خلاف دائر ہونے والا ایک ایسا مقدمہ ہے جس میں انسان خود ہی ملزم بھی ہے، گواہ بھی اور جج بھی۔ سارتر کے نزدیک
انسان کسی پہلے سے لکھی ہوئی تقدیر کا محض کردار نہیں؛ وہ اپنے فیصلوں، اعمال اور ان سے پیدا ہونے والی ذمہ داریوں کے ذریعے خود کو بناتا
ہے۔انسان کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ اپنی شکست کا ذمہ دار ہمیشہ کسی دوسرے کو بنانا چاہتا ہے۔ کبھی حالات، کبھی غربت، کبھی
زمانہ، کبھی خاندان، کبھی حکومت اور کبھی تقدیر۔ ہم اپنے غلط فیصلوں کے ملبے پر جواز کی ایک خوبصورت عمارت تعمیر کر لیتے ہیں تاکہ اپنے ضمیر
کی آنکھوں میں خود کو بے گناہ ثابت کر سکیں۔ مگر سارتر کا فلسفہ اس پناہ گاہ کو بھی چھین لیتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ انسان اپنی صورتِ حال سے آزاد
نہیں، لیکن اس صورتِ حال کے اندر اپنے ردِعمل اور انتخاب کی ایک گنجائش ضرور رکھتا ہے؛ اسی لیے آزادی کے ساتھ ذمہ داری بھی آتی
ہے۔یہی سوال انسانی تاریخ کے آغاز سے انسان کے تعاقب میں ہے: ہمیں حالات بناتے ہیں یا ہم حالات بناتے ہیں؟ شاید سچ دونوں
کے درمیان کہیں دفن ہے۔ غلام پیدا ہونے والا شخص غلامی کا انتخاب نہیں کرتا، مگر تاریخ میں ایسے لوگ بھی گزرے ہیں جنہوں نے غلامی کو
اپنی تقدیر ماننے سے انکار کر دیا۔

بادشاہتیں انسان کو رعایا بناتی رہیں، مگر کبھی کسی ایک انسان نے سوال اٹھایا اور پورے عہد کی بنیادیں ہل گئیں۔ تاریخ دراصل انہی انسانوں کی داستان ہے جنہوں نے موجود حالات کو آخری سچ ماننے سے انکار کیا۔ہٹلر کے جرمنی سے لے کر دنیا کی ہر آمریت تک، تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے کہ ظلم صرف ظالم کے فیصلے سے قائم نہیں رہتا؛ وہ ان ہزاروں چھوٹے فیصلوں سے بھی طاقت حاصل کرتا ہے جو خوف، مفاد یا خاموشی کے نام پر کیے جاتے ہیں۔ تاریخ کے بڑے المیے اکثر بڑے مجرموں سے پہلے چھوٹے سمجھوتوں سے شروع ہوتے ہیں۔ہیگل کا خیال تھا کہ تاریخ انسانی آزادی کے شعور کے پھیلنے کی ایک طویل داستان ہے۔ مگر آزادی صرف یہ نہیں کہ انسان کو جو چاہے کرنے کا اختیار مل جائے؛ آزادی کا اصل امتحان یہ ہے کہ انسان کیا انتخاب کرتا ہے جب کوئی اسے دیکھ نہیں رہا ہوتا۔

انسان اپنی زندگی میں ہزاروں مرتبہ اپنے آپ کو دوبارہ لکھتا ہے، مگر عجیب بات یہ ہے کہ زیادہ تر لوگ قلم ہاتھ میں ہونے کے باوجود اپنی کہانی کا مصنف بننے سے ڈرتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ کوئی اور ان کے فیصلے کرے، کوئی اور ان کی ناکامی کی وضاحت کرے، کوئی اور ان کے ضمیر کو مطمئن کرے۔

مگر آزادی کا سب سے تلخ پہلو یہی ہے کہ آخرکار فیصلہ تمہیں خود کرنا پڑتا ہے۔اور شاید زندگی کا اصل سوال یہ نہیں کہ ہمارے ساتھ کیا ہوا؛ اصل سوال یہ ہے کہ جو کچھ ہمارے ساتھ ہوا، اس کے بعد ہم نے کیا انتخاب کیا؟تاریخ انسان سے یہی سوال کرتی
ہے۔ نفسیات یہی سوال کرتی ہے۔ فلسفہ یہی سوال کرتا ہے۔ اور ضمیر ہر رات خاموشی میں یہی سوال دہراتا ہے:تم کون ہو؟جواب تمہاری
زبان نہیں دے گی۔تمہارا اگلا انتخاب دے گا۔اگر سارتر کا یہ جملہ مان لیا جائے کہWe are Our Choices ہم اپنے انتخاب
ہیں تو پاکستانی سماج کا سب سے کڑوا سوال یہ بنتا ہے کہ آخر ہم نے خود کو کیا منتخب کیا ہے؟ ہم نے خوف کو یا آزادی کو، خاموشی کو یا سچ کو،
شخصیت پرستی کو یا اصول کو، مفاد کو یا انصاف کو؟ قومیں صرف اپنے حکمرانوں سے نہیں بنتیں؛ وہ ان اجتماعی انتخابوں سے بنتی ہیں جو ان کے
عام انسان روزمرہ زندگی میں کرتے ہیں۔

پاکستانی انسان کی نفسیات ایک عجیب تاریخی تضاد کا شکار ہے۔ وہ آزادی کا خواب دیکھتا ہے مگر طاقت کے سامنے جھک جاتا ہے؛ انصاف کی خواہش رکھتا ہے مگر اپنے مفاد میں ناانصافی کو برداشت کر لیتا ہے؛ کرپشن کو برا کہتا ہے مگر موقع ملنے پر اسے ‘‘کام نکلوانے کا طریقہ’’ سمجھ لیتا ہے۔ وہ نظام سے نفرت کرتا ہے لیکن اسی نظام کے چھوٹے چھوٹے فائدے حاصل کرنے کے لیے اس کا حصہ بھی بن جاتا ہے۔ شاید یہی ہماری اجتماعی المیہ ہے کہ ہم برائی کو برا تو سمجھتے ہیں، مگر اس کے خلاف اپنی باری پر کھڑے ہونے سے ڈرتے ہیں۔پاکستانی فلسفہ شاید ابھی کسی ایک کتاب میں مرتب نہیں ہوا؛ وہ ہماری گلیوں، عدالتوں، بازاروں، یونیورسٹیوں، کھیتوں، کارخانوں اور اقتدار کے ایوانوں میں بکھرا ہوا ہے۔ یہ فلسفہ سوال کرتا ہے کہ ایک ایسا انسان کیسے پیدا ہو جو ریاست سے انصاف مانگنے سے پہلے خود انصاف کا مطلب سمجھے؟ جو جمہوریت کو صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہ سمجھے بلکہ اختلافِ رائے برداشت کرنے کی اخلاقی صلاحیت بھی پیدا کرے؟ جو مذہب کو دوسروں پر حکم چلانے کے بجائے اپنے کردار کی اصلاح کا ذریعہ بنائے؟ہماری تاریخ میں طاقت اور کمزوری کا یہ کھیل بار بار دہرایا گیا ہے۔ کبھی ریاست نے فرد کو خوفزدہ کیا، کبھی فرد نے طاقتور کے سامنے خاموشی اختیار کی، کبھی سیاسی جماعتوں نے عوام کو نعروں میں تقسیم کیا، کبھی برادری اور طبقے نے انسان کو انسان سے دور کیا۔ مگر ہر عہد میں کچھ ایسے لوگ بھی پیدا ہوئے جنہوں نے ‘‘سب ایسا ہی کرتے ہیں’’ کو دلیل ماننے سے انکار کیا۔ تاریخ ہمیشہ انہی اقلیتوں کو یاد رکھتی ہے جو اکثریت کے خوف کے باوجود سچ بولتی ہیں۔ارسطو نے انسان کو سیاسی حیوان کہا تھا۔ اس کا مطلب صرف یہ نہیں کہ انسان سیاست کرتا ہے؛ بلکہ یہ بھی ہے کہ انسان کی اخلاقیات اس کے اجتماعی نظام سے جدا نہیں ہوتیں۔

اگر سماج میں جھوٹ کامیابی کا راستہ بن جائے تو سچ بولنے والا شخص غیر معمولی بن جاتا ہے۔ اگر سفارش قابلیت پر غالب آ جائے تو میرٹ محض ایک تقریر کا لفظ رہ جاتا ہے۔ اگر طاقت قانون سے بالاتر ہو جائے تو قانون کتاب میں موجود رہتا ہے، زندگی میں نہیں۔پاکستانی انسان کا اصل بحران شاید غربت سے بھی گہرا ہے؛ یہ اعتماد کا بحران ہے۔ اسے اداروں پر مکمل اعتماد نہیں، سیاست دانوں پر یقین نہیں، عدالتوں سے امید کم ہے، معیشت سے تحفظ نہیں اور مستقبل کے بارے میں یقین نہیں۔ ایسے سماج میں انسان طویل المدت اصولوں کے بجائے فوری فائدے کا انتخاب کرنے لگتا ہے۔ کیونکہ جس شخص کو کل کا یقین نہ ہو، وہ آج کے فائدے کو کیوں چھوڑے گا؟یہی وہ مقام ہے جہاں سارتر دوبارہ ہمارے سامنے آتا ہے۔

حالات انسان کو مجبور کر سکتے ہیں، مگر ہر حال میں اس کے ردِعمل کا ایک اخلاقی امکان باقی رہتا ہے۔ ایک غریب آدمی کا غربت سے نکلنے کا اختیار محدود ہو سکتا ہے، مگر اس کے کردار کا ہر امکان ختم نہیں ہوتا۔ ایک طاقتور نظام فرد کو خوفزدہ کر سکتا ہے، مگر ہر فرد کا ضمیر مکمل طور پر خرید نہیں سکتا۔پاکستان کا مستقبل صرف نئے قوانین، نئی سڑکوں، نئے بجٹوں یا نئی حکومتوں سے نہیں بنے گا۔ پاکستان کا مستقبل اس دن بدلنا شروع ہوگا جب پاکستانی انسان اپنے اندر موجود اس چھوٹے سے آمریت پسند، موقع پرست، متعصب اور خوف زدہ انسان کا سامنا کرے گا جو دوسروں سے آزادی مانگتا ہے مگر خود اپنے رویوں میں آزادی برداشت نہیں کرتا۔ہم اکثر پوچھتے ہیں: پاکستان کب بدلے گا۔کیونکہ ریاست بھی انسانوں سے بنتی ہے، ادارے بھی، سیاست بھی، عدالت بھی، بازار بھی اور تاریخ بھی۔ اگر انسان وہی رہے تو نظام کے نام بدلتے رہیں گے، چہرے بدلتے رہیں گے، نعرے بدلتے رہیں گے، مگر المیہ وہی رہے گا۔سارتر کے جملے کو پاکستانی تناظر میں یوں پڑھا جا سکتا ہے:ہم صرف اپنے حکمرانوں کے انتخاب نہیں؛ ہم اپنے انتخابوں کے حکمران بھی ہیں۔

اور شاید پاکستانی فلسفے کا آغاز اسی دن ہوگا جب ہم اپنی شکست کا الزام ہمیشہ دوسروں کو دینا چھوڑ کر اپنے حصے کے انتخاب کی ذمہ داری قبول کریں گے۔کیونکہ قومیں صرف اس وقت آزاد نہیں ہوتیں جب ان پر جبر کم ہو جائے؛قومیں اس وقت آزاد ہوتی ہیں جب ان کے انسان خوف کے باوجود درست انتخاب کرنا سیکھ جائیں۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں