میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
بارش میں ڈوبا گجرات اور حکومتی شاباش

بارش میں ڈوبا گجرات اور حکومتی شاباش

جرات ڈیسک
پیر, ۲۴ اگست ۲۰۲۶

شیئر کریں

تاریخ میں دوسری بار ایسا ہوا ہے کہ سارے گجرات شہر کو بارشی پانی نے ڈبو دیا ہے۔ مزید باعثِ تعجب یہ کہ حکومت پنجاب نے واسا
افسران کوسرزنش کرنے کی بجائے اِسے مثالی کارکردگی قراردے کر شاباش دی ہے ۔گزشتہ برس جب شہر گجرات کی شاہراہوں پر کئی کئی فٹ
پانی جمع ہوگیا تو حکومت نے ذہانت سے یہ حل نکالاکہ آبادی سے شاہراہیں بلند کردی جائیں تاکہ شہریوں کو بتایا جاسکے کہ آبادی میں جمع شدہ
پانی اُن کی اپنی نالائقی ہے وگرنہ شاہراہیں تو بالکل خشک ہیں چنانچہ ایسا ہی ہواکہ گجرات کی تمام بڑی شاہراہیں اور سرکلر روڈ کو آبادی سے
دوفٹ بلند کر دیا گیا مگر اِس کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا کیونکہ رواں برس بھی شہر سے بلند شاہراہیں اور نشیبی علاقے بھی ڈوب گئے ہیں اور یہ
پانی اطراف سے نہیں آیا بلکہ یہ بارش کاوہ جمع ہونے ولا پانی ہے جو نکاسی آب نہ ہونے کی وجہ سے شہریوں کے لیے عذاب بن گیا ہے اور کئی
خاندان ذاتی گھر ہوتے ہوئے بھی بے گھر ہوچکے ہیں کیونکہ گھروں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہونے سے وہ اپنے گھر چھوڑ کر عزیزواقارب
کے ہاں پناہ لینے پر مجبور ہیں ۔مگر واسا گجرات نے حکومت کو مطمئن کرنے کے لیے اے آئی کی مدد سے ایسی شاندار ویڈیوز بناکر پیش کی ہیں
جن میں شہر خشک اور صاف ستھراچمکتا نظر آتا ہے جن سے متاثرہوکر حکومتِ پنجاب نے واسا گجرات کو شاباش دی ہے یہ حماقت پنجاب
حکومت کی عقل و ذہانت کوسوالیہ نشان بناتی ہے ۔

ذرائع ابلاغ میں تشہیر کے مطابق گجرات کو نکاسی آب کے لیے چھبیس ارب ملے ہیں یہ اتنی بڑی رقم ہے جس سے سارے گجرات میں نئی
سیوریج لائن بچھانے کے ساتھ صاف پانی کی فراہمی کی لائن بچھائی جا سکتی ہے لیکن واسا گجرات ظہورالٰہی گراؤنڈ کی مغربی جانب ایک برس
کے دوران دو کنویں تعمیر کررہا ہے جو دورانِ تعمیر تین بار زمین بوس ہو چکے ہیں وجہ تعمیراتی عمل کا ناقص ہوناہے بار بار بنانے کی کوشش ہو رہی
ہے لیکن ایک برس سے زائدعرصہ ہو گیا ہے ابھی تک تعمیر مکمل نہیں ہو سکی ذرائع کے مطابق واسا گجرات ٹھیکیداروں سے کمیشن کی صورت میں
پچیس سے پچاس فیصد وصول کرتاہے جس کا حل ٹھیکیداروں نے یہ نکالا ہے کہ تعمیر کے دوران سیمنٹ کم جبکہ ریت کا استعمال زیادہ کرتے
ہیں اسی کا نتیجہ ہے کہ یہ ڈسپوزل جب بھی تعمیر کے قریب پہنچتے ہیں زمین بوس ہوجاتے ہیں جنھیں دوبارہ تعمیرکرنا شروع کردیا جاتاہے اِ س
عمل کو واسا گجرات اپنی نالائقی،حماقت اور بدعنوانی تسلیم کرنے کی بجائے شہریوں کو زمہ دار ٹھہراتا ہے کہ وہ نکاسی آب کے نالوں میں کوڑا
پھینک کر مشکلات بڑھا تے ہیں مزیدیہ کہ حالیہ برسات میں گجرات میں ڈسپوزل ٹینک بھی پانی میں ڈوب گئے ہیں جبکہ دکانداروں کا
اربوں کا نقصان ہونے کے ساتھ کاروبار تباہ ہو چکے ہیں لیکن واسا گجرات صرف سوشل میڈیا کو اپنی تشہیر کا ذریعہ بنا کر حکومت سے شاباش
سمیٹنے میں مصروف ہے ٹک ٹاک کے جنون کا شکار حکومت بھی زمینی حقائق جانے بغیر شاباش دیتی پھرتی ہے جو گجراتیوں کا مذاق اُڑانے کے
مترادف ہے ۔

واسا گجرات اور ستھراپنجاب ایجنسی جیسے دواِدارے بناکر دعویٰ کیا گیاتھا کہ اب نہ صرف گجرات صاف ستھراہوگا بلکہ نکاسی آب کا نظام بھی
ہمیشہ کے لیے مثالی ہو جائے گا مگر ابھی تک یہ دونوں شعبے صرف گجرات کے وسائل لوٹنے والے لٹیرے ثابت ہوئے ہیں ۔پہلے صفائی کا
بجٹ جو چھ سے سات کروڑ تھا اب پندرہ کروڑ سے تجاوزکر چکا ہے جبکہ واسا گجرات بھی اربوں ڈکار چکا ہے دونوں ہی اہلِ گجرات کوایک
روپے کا فائدہ نہیں دے سکے بلکہ صفائی اور نکاسی آب کا نظام مزید خراب ہی کیا ہے دونوں کارکردگی کی تشہیر کے لیے سوشل میڈیا پرسرگرم
رہتے ہیں یا چند ایک ستائشی لوگوں کو اردگرد جمع کر رکھا ہے جو صبح وشام سب اچھا ہے کی گردان کرتے ہیں جھوٹی ستائش کرنے والے ممکن ہے
جھوٹ بولنے کے عوض کچھ مالی فوائد حاصل کرتے ہوں اِس حوالے سے یقین سے کچھ کہنا مشکل ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ گجرات کا بار بار
بارشی پانی میں ڈوبنے نے واسااور ستھراپنجاب ایجنسی کی اہلیت کوسوالیہ نشان بنا دیا ہے۔

ستھراپنجاب ایجنسی کا صرف چند سڑکوں کی صفائی تک محدودرہنا اور عوضانے میں ہرماہ کروڑوں وصول کرناثابت کرتا ہے کہ پنجاب
حکومت کے کچھ طاقتور ہاتھوں کی اِسے حمایت حاصل ہے اسی لیے ناقص کارکردگی کے باوجود کوئی بھی اِس کے خلاف ایکشن لینے کی جرأت
نہیں کرتا بلکہ پنجاب کے وسائل پر دن دیہاڑے ڈاکا پڑتادیکھ کر بھی خاموش رہتا ہے ۔اب توکہاجانے لگا ہے کہ جس طرح آئی پی پیز نے
وفاقی بجٹ کاتیاپانچہ کررکھا ہے ،صوبہ پنجاب کے لیے بھی ستھراپنجاب ایجنسی کچھ ایسا ہی ڈاکہ ہے جو پنجاب کے وسائل ہڑپ کررہا ہے۔
پورے پنجاب سے ستھراپنجاب ایجنسی کے خلاف آوازیں بلند ہورہی ہیں لیکن پنجاب حکومت ٹس سے مس نہیں ہورہی۔ یہ اِس امر کا ثبوت
ہے کہ اِس ڈکیتی کوپنجاب حکومت کا تحفظ حاصل ہے عین ممکن ہے کچھ لوکچھ دوکے اصول کے تحت خامیوں کی پردہ پوشی کرنے کے عوض
بھاری نذرانہ وصول کیا جاتا ہو۔

واسا گجرات کے ایم ڈی کاشان حفیظ بٹ نے کاغذات میں برسات کے لیے تین ماہ کے لیے چالیس عارضی ملازم بھرتی کیے لیکن یہ
ابھی تک کسی کوکہیں نظر نہیں آئے اِس حوالے سے کاشان حفیظ بٹ سے کئی بارسوال ہوا لیکن انھوں نے جواب دینا گوارا نہیں کیا۔ اسی لیے
اِس خدشے کو تقویت ملتی ہے کہ چالیس عارضی ملازمین کی تنخواہیں خُردبُرد کی جارہی ہیں، وگرنہ یہ ملازم کہیں تو کام کر تے کسی کو نظر آجاتے
مزید یہ کہ میونسپل کارپوریشن گجرات کے جو ملازمین واسا کے حوالے کیے گئے اُن کی مکمل تعداد بھی کام نہیں کررہی۔ ذرائع کے مطابق کام نہ
کرنے والوں کی تنخواہوں سے مخصوص حصہ وصول کرکے اُنھیں ملازمت کی زمہ داریوں سے استثنیٰ دیا جاتا ہے۔ عین برسات کے دنوں میں
کچہری چوک سے بولے پُل تک انتہائی مصروف شاہراہ کو کھود کرگڑھے بنانے سے بھی نکاسی آب کی روانی متاثر ہوئی ہے جس پر ایم ڈی
واسا کا کہنا ہے کہ برسات نے برسنے میں جلدی کردی اگر دوچارماہ انتظارکر لیتی تو ہم یہ منصوبہ مکمل کر لیتے سوال کے جواب میں ایسی
ذہانت پرہی عام قیاس یہ ہے کہ کاشان حفظ بٹ کیونکہ بٹ ہیں اِسی لیے وہ شاید پنجاب حکومت کے منظورِ نظر ہیں اور اُنھیں اہم شخصیات کی
سرپرستی حاصل ہے اسی لیے چاہے سارا شہر ڈوب جائے اور اربوں کے فنڈز خُردبُرد ہوجائیں تو بھی کاشان حفیظ بٹ کو کوئی خطرہ نہیں وہ
اپنے منصب پر براجمان ہی رہیں گے مگر جس کی بدعنوانی کے قصے زبانِ زدِ عام ہیں اُنھیں پنجاب حکومت کی طرف سے شاباش دینے سے
بہت کچھ واضح ہوتا ہے جسے سمجھنازیادہ مشکل نہیں۔

گزشتہ برسات میں بھی شہر سے باہر کئی شاہراہیں کھودکر بارشی پانی کو شہر میں داخل ہونے سے ر وکنے کادعویٰ کیا گیا اب بھی لورائے۔ملہو
کھوکھراور دیگر دیہات میں یہ عمل دُہراکرشہراور دیہات کارابطہ منقطع کردیاگیا ہے جس سے شہر میں داخل ہونے کے کئی راستے بند ہوگئے
بدعنوانی کی گرداب میں پھنسی ٹریفک پولیس نے تو کام نہ کرنے کا موقع غنیمت جان کر ویسے ہی سوشل میڈیا پرلوگوں سے اپیل کردی ہے کہ
برسات میں گھروں سے باہرنہ نکلیں اور دیہات سے شہر کی طرف نہ آئیں کیونکہ تمام شاہراہیں پانی میں ڈوبی ہیں ۔لیکن سوال یہ ہے کہ
گجرات سے سوتیلے پن کا سلوک کیوں ہورہا ہے؟کہیں اِس لیے تو نہیں کہ یہاں سے ن لیگ کے اُمیدوار بُری طرح ہارے ہیں ۔اگر یہ
قیاس درست ہے تو پنجاب حکومت کا رویہ غلط ہے، جب صوبائی اور وفاقی حکومتیں اُس کے پاس ہیں تو عوام سے سلوک بھی یکساں ہونا
چاہیے۔ دُہرے معیارسے تو محبت نہیں نفرت جنم لے گی جبکہ نااہل ،کام چوراور بدعنوان افسران اور اداروں کی سرپرستی سے یہ نفرت دوچند
ہوسکتی ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں