میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
مکہ معاہدے میں بنگلہ دیش کی دلچسپی..بھارتی خدشات، ڈھاکہ کے مفادات اور پاکستان، چین ، امریکا کے لیے مضمرات

مکہ معاہدے میں بنگلہ دیش کی دلچسپی..بھارتی خدشات، ڈھاکہ کے مفادات اور پاکستان، چین ، امریکا کے لیے مضمرات

جرات ڈیسک
پیر, ۲۴ اگست ۲۰۲۶

شیئر کریں

نجم انوار

 

٭مکہ معاہدہ فی الوقت صرف تین ممالک، سعودی عرب، ترکیے اور پاکستان، کے درمیان ہے ۔ اس کی بنیادی شق ہی ایک اجتماعی دفاعی وابستگی پر مبنی ہے جس کے تحت کسی ایک رکن پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا

٭ معاہدے میں دفاعی تعاون، مشترکہ فوجی مشقوں، دفاعی صنعت میں تعاون اور جدید فوجی شعبوں میں اشتراک کے امکانات بھی شامل کیے گئے ہیں۔ ترکیے کے مطابق یہ معاہدہ کسی موجودہ اتحاد کا متبادل نہیں

٭بنگلہ دیشی وزیراعظم کے امورِ خارجہ کے مشیر ہمایوں کبیر نے کہا کہ وہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیے سے متعلق کسی معاشی یا دفاعی ڈھانچے میں شمولیت کے امکان کو اپنے قومی مفادمیں مثبت نظر سے دیکھتا ہے

٭ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ نئی دہلی مغربی ایشیا میں ہونے والی پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہے ، اس سے پہلے بھارتی وزارت خارجہ بھی مکہ معاہدے کا جائزہ لینے کی بات کر چکی ہے

٭ بعض حلقوں میں مکہ معاہدہ کو ‘‘اسلامی نیٹو’’ کہا جا رہا ہے ، لیکن یہ تعبیر ابھی قبل ازوقت ہے کیونکہ نیٹو کی طرح مکمل مربوط فوجی کمان، مستقل مشترکہ فوج اور وسیع ادارہ جاتی ڈھانچہ ابھی اس معاہدے میں موجود نہیں

٭بنگلہ دیش کی ممکنہ شمولیت صرف ایک نئے رکن کے اضافے کا معاملہ نہیں ہوگی، اس سے اس معاہدے کا جغرافیائی دائرہ ‘‘خلیج سے جنوبی ایشیا اور خلیجِ بنگال تک’’پھیل سکتا ہے

٭‘‘دی ڈپلومیٹ’’کے ایک حالیہ تجزیے کے مطابق بھارت کے ساتھ کسی نئے بحران میں پاکستان اس معاہدے کو اپنے حق میں متحرک کرنے کی کوشش کر سکتا ہے ، لیکن معاہدے کی اصل عملی حدود ابھی ایک کھلا سوال ہیں

٭اگر ڈھاکہ بیک وقت چین، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے ساتھ اپنے تعلقات بڑھاتا ہے تو نئی دہلی کے پاس بنگلہ دیش پر اثر انداز ہونے کے لیے پہلے کے مقابلے میں کم ذرائع رہ سکتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بنگلہ دیش کی جانب سے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیے کے درمیان ہونے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت کے امکان کو مثبت نظر سے دیکھنے کے اشارے نے جنوبی ایشیا کی علاقائی سیاست میں ایک اہم سوال پیدا کر دیا ہے ۔کیا ڈھاکہ محض اپنی خارجہ پالیسی میں توازن پیدا کر رہا ہے یا وہ بھارت پر اپنے روایتی انحصار کو کم کرکے ایک نئے علاقائی تزویراتی دائرے کی طرف بڑھ رہا ہے ؟

یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ مکہ معاہدہ فی الوقت صرف تین ممالک، سعودی عرب، ترکیے اور پاکستان، کے درمیان ہے ۔ لیکن اس کی بنیادی شق ہی ایسی اجتماعی دفاعی وابستگی پر مبنی ہے جس کے تحت کسی ایک رکن پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا۔ معاہدے میں دفاعی تعاون، مشترکہ فوجی مشقوں، دفاعی صنعت میں تعاون اور جدید فوجی شعبوں میں اشتراک کے امکانات بھی شامل کیے گئے ہیں۔ ترکیے کے مطابق یہ معاہدہ کسی موجودہ اتحاد کا متبادل نہیں اور اس میں مزید ممالک کی شمولیت کی گنجائش موجود ہے ۔

اسی پس منظر میں بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان کے امورِ خارجہ کے مشیر ہمایوں کبیر کا حالیہ بیان غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش سعودی عرب، پاکستان اور ترکیے سے متعلق کسی معاشی یا دفاعی ڈھانچے میں شمولیت کے امکان کو اپنے قومی مفاد اور عالمی معیشت و تجارت میں آنے والی تبدیلیوں کو سامنے رکھتے ہوئے مثبت نظر سے دیکھتا ہے ۔اگر چہ بنگلہ دیش تاحال مکہ معاہدے میں شامل نہیں ہوا اور نہ ہی اس پر کوئی پیش رفت عوامی سطح پر دکھائی دی ہے ۔ مگر بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان کے امورِ خارجہ کے مشیر ہمایوں کبیر کی طرف سے اس معاہدے کے لیے مثبت نقطہ نظر نے بھارت میں ایک ہلچل پید اکی ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال سے جب بنگلہ دیش کی ممکنہ شمولیت کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ نئی دہلی مغربی ایشیا میں ہونے والی پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہے ۔ اس سے پہلے بھارتی وزارت خارجہ مکہ معاہدے کے قومی سلامتی اور علاقائی استحکام پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لینے کی بات کر چکی ہے ۔

مکہ معاہدہ آخر ہے کیا؟
7 ؍اگست 2026 کو سعودی عرب، ترکیے اور پاکستان نے مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ۔ اس کا بنیادی اصول یہ ہے کہ تینوں میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں کے خلاف حملہ تصور ہوگا۔ اس کے علاوہ دفاعی تعاون، مشترکہ فوجی مشقوں، دفاعی پیداوار، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مختلف فوجی شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے ۔اسے بعض حلقوں میں ‘‘اسلامی نیٹو’’ کہا جا رہا ہے ، لیکن یہ تعبیر ابھی قبل ازوقت ہے کیونکہ نیٹو کی طرح مکمل مربوط فوجی کمان، مستقل مشترکہ فوج اور وسیع ادارہ جاتی ڈھانچہ ابھی اس معاہدے میں موجود نہیں۔ البتہ کسی ایک رکن پر حملے کو سب پر حملہ قرار دینے کی شق اسے معمول کے دفاعی تعاون سے کہیں زیادہ اہم بناتی ہے ۔یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں سلامتی کا پورا ڈھانچہ تیزی سے بدل رہا ہے ۔ ایران کے ساتھ کشیدگی، اسرائیل کے کردار، خلیجی ریاستوں کے تحفظات اور امریکا کی سلامتی کی ضمانتوں پر بڑھتی ہوئی بحث نے سعودی عرب سمیت کئی ممالک کو اپنی دفاعی صلاحیت اور علاقائی شراکت داریوں پر ازسرنو غور کرنے پر مجبور کیا ہے ۔ ‘فنانشل ٹائمز’نے بھی مکہ معاہدے کو مشرق وسطیٰ میں ابھرتی ہوئی نئی صف بندی کے تناظر میں دیکھا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ بنگلہ دیش کی ممکنہ شمولیت صرف ایک نئے رکن کے اضافے کا معاملہ نہیں ہوگی، اس سے اس معاہدے کا جغرافیائی دائرہ ‘‘خلیج سے جنوبی ایشیا اور خلیجِ بنگال تک’’پھیل سکتا ہے ۔

بنگلہ دیش کو کیا مل سکتا ہے ؟
بنگلہ دیش کے لیے مکہ معاہدے کی کشش کو صرف فوجی تحفظ کے زاویے سے دیکھنا شاید درست نہیں۔ اس کے مفادات زیادہ وسیع ہیں اور ان میں معیشت، تجارت، توانائی، روزگار، دفاعی ٹیکنالوجی اور سفارتی گنجائش سب شامل ہیں۔
سعودی عرب:سرمایہ کاری، توانائی اور روزگار
سعودی عرب بنگلہ دیش کے لیے محض ایک سیاسی اتحادی نہیں بلکہ ایک اہم معاشی شراکت دار ہے ۔ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے رابطوں میں سرمایہ کاری، تجارت، توانائی اور بنگلہ دیشی افرادی قوت کے لیے روزگار نمایاں موضوعات ہیں۔اس لیے اگر مکہ معاہدہ دفاع سے آگے بڑھ کر معاشی تعاون کا ذریعہ بنتا ہے تو ڈھاکہ کے لیے اس کا سب سے قابلِ پیمائش فائدہ سعودی سرمایہ کاری، توانائی کے طویل المدت انتظامات اور بیرون ملک روزگار کے نئے مواقع کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے ۔یہی وہ نکتہ ہے جسے بنگلہ دیش کے سابق وزیر خارجہ اے کے عبدالمومن نے اٹھایا ہے :اگر سعودی عرب اس ڈھانچے میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے تو بنگلہ دیش کو پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ اسے ‘‘سرمایہ کاری، روزگار اور توانائی کے تحفظ’’کی صورت میں ٹھوس فائدہ کیا ملے گا۔اس سوال کو نظر انداز کرکے صرف ‘‘مسلم ممالک کے اتحاد’’ کے جذباتی تصور کی بنیاد پر فیصلہ کرنا بنگلہ دیش کی معاشی ضروریات سے مطابقت نہیں رکھے گا۔
ترکیہ: دفاعی ٹیکنالوجی کا دروازہ
بنگلہ دیش کے لیے ترکیے کی اہمیت دوسری نوعیت کی ہے ۔ترکیہ نے ڈرونز، میزائل، بحری نظام، برقی جنگ، مصنوعی ذہانت اور دیگر دفاعی شعبوں میں اپنی صلاحیت کو تیزی سے بڑھایا ہے ۔ مکہ معاہدے میں دفاعی صنعت اور جدید فوجی ٹیکنالوجی میں مشترکہ تعاون کا ذکر بھی کیا گیا ہے ۔بنگلہ دیش اگر اس نظام کا حصہ بنتا ہے تو اسے ترکیے کے ساتھ دفاعی تعاون کو زیادہ منظم اور وسیع بنانے کا موقع مل سکتا ہے ۔لیکن یہاں بھی ایک اہم سوال ہے :‘‘کیا بنگلہ دیش کو مکمل اجتماعی دفاعی عہد درکار ہے یا اسے صرف دفاعی ٹیکنالوجی، تربیت اور پیداوار میں تعاون چاہیے ’’؟اگر اصل ضرورت دوسری چیز ہے تو ڈھاکہ مکمل دفاعی معاہدے کا رکن بنے بغیر بھی ان میں سے کئی فوائد حاصل کر سکتا ہے ۔
پاکستان:تعلقات میں تاریخی موڑ
مکہ معاہدے میں بنگلہ دیش کی ممکنہ شمولیت کا سب سے حساس پہلو پاکستان کے ساتھ اس کے تعلقات ہیں۔1971کے بعد پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات ایک طویل تاریخی بوجھ کے زیر اثر رہے ہیں۔ لیکن حالیہ عرصے میں دونوں ممالک نے تجارت، سفارت کاری اور عوامی روابط کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے ۔اگر بنگلہ دیش مکہ معاہدے میں شامل ہوتا ہے تو پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات محض دوطرفہ سفارتی معمول پر آنے سے آگے بڑھ کر ‘‘تزویراتی تعاون’’کے دائرے میں داخل ہو سکتے ہیں۔یہ تبدیلی نئی دہلی کے لیے یقینا اہم ہوگی۔

بھارت کے لیے اصل تشویش کیا ہے ؟
بھارت کے لیے بنگلہ دیش کی ممکنہ شمولیت کا سب سے بڑا مسئلہ یہ نہیں کہ ڈھاکہ اچانک بھارت کا دشمن بن جائے گا۔ اس کا امکان کم ہے۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ بنگلہ دیش ‘‘بھارت پر انحصار کم کرکے اپنے متبادل بڑھا رہا ہے ’’۔بھارت کی جغرافیائی پوزیشن ایسی ہے کہ بنگلہ دیش کے ساتھ اس کے گہرے معاشی، زمینی، آبی، توانائی اور سلامتی کے مفادات ہیں۔ لیکن اگر ڈھاکہ بیک وقت چین، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے ساتھ اپنے تعلقات بڑھاتا ہے تو نئی دہلی کے پاس بنگلہ دیش پر اثر انداز ہونے کے لیے پہلے کے مقابلے میں کم ذرائع رہ سکتے ہیں۔یہ تبدیلی کسی فوجی محاصرے سے زیادہ ‘‘اثر و رسوخ کی سیاست’’میں اہم ہوگی۔

پاکستان کا مشرقی سمت میں بڑھتا ہوا اثر
اگر مکہ معاہدے میں بنگلہ دیش شامل ہوتا ہے تو ایک ایسا تزویراتی ربط تشکیل پا سکتا ہے جس میں:‘‘ترکیہ ، سعودی عرب ، پاکستان، بنگلہ دیش’’ایک مشترکہ دفاعی یا سلامتی کے ڈھانچے میں موجود ہوں۔یہ بھارت کے لیے اس لیے اہم ہے کہ پاکستان کا تزویراتی دائرہ صرف مغربی سمت تک محدود نہیں رہے گا۔لیکن یہاں بھی احتیاط ضروری ہے ۔ اسے ‘‘بھارت کا محاصرہ’’ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا۔ مکہ معاہدہ ابھی نیا ہے اور اس کی عملی دفاعی صلاحیت اور مستقبل کی ادارہ جاتی شکل واضح نہیں ہوئی۔‘‘دی ڈپلومیٹ’’کے ایک حالیہ تجزیے میں بھی اس خدشے کی نشاندہی کی گئی ہے کہ بھارت کے ساتھ کسی نئے بحران میں پاکستان اس معاہدے کو اپنے حق میں متحرک کرنے کی کوشش کر سکتا ہے ، لیکن معاہدے کی اصل عملی حدود ابھی ایک کھلا سوال ہیں۔

بنگلہ دیش بھارت سے دور جا رہا ہے یا صرف اپنے اختیارات بڑھا رہا ہے ؟
یہ شاید پورے معاملے کا سب سے اہم سوال ہے ۔
ہمایوں کبیر نے حالیہ گفتگو میں کہا کہ چین کے ساتھ بنگلہ دیش کے تعلقات ‘‘نئی بلندی’’ پر پہنچ چکے ہیں، تاہم ڈھاکہ بیجنگ کے ساتھ گہرے روابط کے باوجود جغرافیائی سیاسی دباؤ سے بچنا چاہتا ہے ۔ انہوں نے بھارت کے ساتھ اعلیٰ سطحی رابطے کے معاملے میں بھی قومی مفاد کو جلد بازی پر ترجیح دینے کا عندیہ دیا۔یہ رویہ کسی ایک ملک کے ساتھ صف بندی کے بجائے ‘‘کثیر جہتی خارجہ پالیسی’’ (Multi-vector Foreign Policy) کی علامت ہے ۔
ڈھاکہ شاید یہ چاہتا ہے کہ:
* بھارت سے تجارت اور زمینی رابطے برقرار رہیں؛
* چین سے سرمایہ کاری اور بنیادی ڈھانچے کے فوائد حاصل ہوں؛
* سعودی عرب سے سرمایہ کاری، توانائی اور روزگار ملے ؛
* ترکیے سے دفاعی ٹیکنالوجی اور تربیت حاصل ہو؛
* پاکستان کے ساتھ سیاسی اور تجارتی تعلقات بہتر ہوں۔
اس حکمت عملی کو ‘‘پاکستان کی طرف جھکاؤ’’کہنا شاید ادھورا تجزیہ ہوگا۔
زیادہ درست تعبیر یہ ہے کہ ‘‘بنگلہ دیش اپنے لیے زیادہ سے زیادہ متبادل پیدا کرنا چاہتا ہے ’’۔

بھارت-بنگلہ دیش کشیدگی کا پس منظر
مکہ معاہدے کو بھارت اور بنگلہ دیش کے موجودہ سیاسی تعلقات سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔شیخ حسینہ کی بھارت میں موجودگی، ان کی حوالگی کا بنگلہ دیشی مطالبہ اور 2024کے سیاسی بحران کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ برقرار ہے ۔ رائٹرز کے مطابق طارق رحمان کی حکومت بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی خواہش تو ظاہر کرتی ہے لیکن اعلیٰ سطح کے دورے سے پہلے زیادہ سازگار سفارتی ماحول چاہتی ہے ۔یہی پس منظر مکہ معاہدے کی اہمیت بڑھاتا ہے ۔
اگر بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات مکمل طور پر معمول پر ہوتے تو ڈھاکہ کے لیے کسی نئے دفاعی ڈھانچے میں پاکستان کے ساتھ بیٹھنا زیادہ حساس سیاسی فیصلہ ہوتا۔ موجودہ کشیدگی میں یہ فیصلہ ایک وسیع تر سفارتی پیغام بھی بن سکتا ہے :‘‘بنگلہ دیش اب اپنی خارجہ پالیسی کے لیے نئی شرائط طے کرنا چاہتا ہے ’’۔

چین کا نقطۂ نظر:خاموش مگر اہم فریق
مکہ معاہدے کے بارے میں چین کا کوئی ایسا واضح سرکاری مؤقف سامنے نہیں آیا جس کی بنیاد پر یہ کہا جا سکے کہ بیجنگ اس معاہدے کی حمایت یا مخالفت کرتا ہے ۔ اس لیے چین کے ‘‘موقف’’ اور چین کے ‘‘ممکنہ مفادات’’ کو الگ رکھنا ضروری ہے ۔چین کے لیے اس معاہدے میں کئی امکانات موجود ہیں۔
سب سے پہلے پاکستان چین کا دیرینہ تزویراتی شراکت دار ہے ۔ دوسری طرف سعودی عرب چین کے لیے توانائی، تجارت اور سرمایہ کاری کے اعتبار سے انتہائی اہم ہے ۔ ترکیہ چین کے لیے یورپ، مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے درمیان ایک اہم جغرافیائی پل ہے ۔اگر بنگلہ دیش بھی اسی وسیع تر دائرے میں آتا ہے تو بیجنگ کے کئی اہم شراکت دار ایک دوسرے کے ساتھ زیادہ قریب آ جائیں گے ۔لیکن چین اس پیش رفت کو احتیاط سے بھی دیکھے گا۔اگر مکہ معاہدہ صرف ‘‘علاقائی دفاعی تعاون، دفاعی صنعت، توانائی اور اقتصادی شراکت داری’’تک محدود رہتا ہے تو چین کے لیے یہ ایک مثبت پیش رفت ہو سکتی ہے ۔ لیکن اگر یہ مستقبل میں واضح طور پر امریکا مخالف یا کسی ایک بڑی طاقت کے خلاف فوجی اتحاد بن جاتا ہے تو بیجنگ کے لیے اس میں اپنی جگہ متعین کرنا زیادہ پیچیدہ ہو جائے گا۔ یہاں بنگلہ دیش کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے ۔ ڈھاکہ خود چین کے ساتھ تعلقات کو بڑھاتے ہوئے یہ واضح کر رہا ہے کہ وہ کسی ایک طاقت کے ساتھ مکمل صف بندی نہیں چاہتا۔ ہمایوں کبیر نے بھی چین کے ساتھ تعلقات میں اضافے کے باوجود جغرافیائی سیاسی دباؤ سے بچنے کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔یوں بنگلہ دیش شاید چین کے لیے بھی ایک ایسا ملک ہے جو ‘‘کسی ایک کیمپ میں جانے کے بجائے متعدد طاقتوں کے درمیان رابطے کا کردار ادا کر سکتا ہے ’’۔

امریکا:مخالف یا خاموش حامی؟
مکہ معاہدے کے بارے میں امریکی زاویہ شاید اس پوری بحث کا سب سے زیادہ غلط سمجھا جانے والا حصہ ہے ۔بعض تجزیہ کار اسے امریکی سلامتی کے نظام سے خلیجی ممالک کے فاصلے کی علامت سمجھتے ہیں۔ ‘فنانشل ٹائمز’ نے بھی مشرق وسطیٰ میں امریکی سلامتی کی ضمانتوں پر بڑھتے ہوئے سوالات اور سعودی عرب، ترکیے اور پاکستان کے باہمی دفاعی معاہدے کو نئی علاقائی صف بندی کے تناظر میں دیکھا ہے ۔
لیکن دوسری طرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود مکہ معاہدے کا خیر مقدم کیا اور اسے اس بات کی علامت قرار دیا کہ خطے کے ممالک اپنی حفاظت کے لیے زیادہ مؤثر طور پر خود ذمہ داری اٹھا رہے ہیں۔یہ بظاہر متضاد بات دراصل امریکی حکمت عملی کے ایک اہم پہلو کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔واشنگٹن لازماً یہ نہیں چاہتا کہ ہر علاقائی سلامتی کا مسئلہ امریکی فوجی قوت کے ذریعے حل ہو۔ اگر سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان اپنی دفاعی صلاحیت اور باہمی تعاون بڑھاتے ہیں تو امریکا اسے بعض حالات میں اپنے وسائل پر دباؤ کم کرنے کے طور پر بھی دیکھ سکتا ہے ۔لہٰذا مکہ معاہدے کو ‘‘امریکا مخالف اتحاد’’قرار دینا فی الحال درست نہیں۔زیادہ محتاط نتیجہ یہ ہے کہ یہ ایک ایسا علاقائی دفاعی انتظام ہے جو امریکی اثر و رسوخ کو لازماً ختم نہیں کرتا، لیکن اس پر پہلے جیسا انحصار کم کر سکتا ہے ۔اور یہی فرق اہم ہے ۔

پاکستان کے لیے اصل فائدہ کیا ہے ؟
بنگلہ دیش کی ممکنہ شمولیت پاکستان کے لیے تین بڑی سطحوں پر اہمیت رکھتی ہے ۔
سفارتی فائدہ
سب سے بڑا فائدہ سفارتی ہوگا۔اگر بنگلہ دیش کسی ایسے دفاعی و سلامتی کے ڈھانچے میں پاکستان کے ساتھ شامل ہوتا ہے جس میں سعودی عرب اور ترکیہ بھی موجود ہوں تو پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات کو ایک نئی تزویراتی بنیاد مل سکتی ہے ۔یہ 1971کے بعد تعلقات کی ایک نئی منزل ہوگی۔
دفاعی فائدہ
پاکستان پہلے ہی اس ڈھانچے میں اپنی فوجی صلاحیت اور دفاعی تجربہ لے کر آیا ہے ۔ بنگلہ دیش کی شمولیت سے مشترکہ فوجی مشقوں، تربیت، دفاعی پیداوار، بحری سلامتی، معلوماتی تعاون اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں نئے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔مکہ معاہدے میں مشترکہ مشقوں، بغیر پائلٹ نظام، برقی جنگ، مصنوعی ذہانت اور دفاعی ٹیکنالوجی میں تعاون کا ذکر بھی کیا گیا ہے ۔
جغرافیائی سیاسی فائدہ
یہ سب سے دور رس فائدہ ہو سکتا ہے ۔پاکستان کی تزویراتی شراکت داری پہلے زیادہ تر مغربی سمت میں دیکھی جاتی تھی۔ بنگلہ دیش کی ممکنہ شمولیت سے ایک ایسا رابطہ پیدا ہوگا جو ‘‘خلیج، پاکستان اور خلیجِ بنگال’’کو ایک ہی دفاعی و سفارتی بحث میں لے آئے گا۔یہ پاکستان کے لیے جنوبی ایشیا میں اپنی سفارتی اہمیت بڑھانے کا موقع ہوگا۔لیکن پاکستان کے لیے خطرہ بھی موجود ہے ۔اگر اسلام آباد مکہ معاہدے کو بھارت کے خلاف کسی وسیع اتحاد کے طور پر پیش کرتا ہے تو بنگلہ دیش کے لیے اس میں شامل ہونا مشکل ہوجائے گا۔ڈھاکہ بھارت کے ساتھ اپنی تجارت، توانائی، سرحدی رابطوں اور جغرافیائی ضرورتوں کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔پاکستان کے لیے بہتر راستہ یہی ہوگا کہ وہ معاہدے کو ‘‘اجتماعی سلامتی اور دفاعی تعاون’’ کے طور پر پیش کرے ، نہ کہ بھارت مخالف فوجی اتحاد کے طور پر۔اس سلسلے میں خود پاکستان کی سرکاری زبان اہم ہے :اسلام آباد مسلسل اسے دفاعی نوعیت کا معاہدہ قرار دے رہا ہے ، کسی مخصوص ملک کے خلاف اتحاد نہیں۔ یہ موقف بنگلہ دیش کی ممکنہ شمولیت کے لیے بھی زیادہ قابلِ قبول فضا پیدا کر سکتا ہے ۔

بنگلہ دیش کے لیے اصل سوال: فائدہ کتنا، قیمت کتنی؟
یہی وہ جگہ ہے جہاں ڈھاکہ محتاط ہے۔ایک طرف ممکنہ فوائد ہیں:
سعودی سرمایہ کاری، توانائی، روزگار، ترکیے کی دفاعی ٹیکنالوجی، پاکستان کے ساتھ بڑھتی تجارت، نئے سفارتی روابط اور عالمی سطح پر زیادہ مذاکراتی قوت۔
دوسری طرف ممکنہ قیمتیں بھی ہیں:
بھارت کے ساتھ مزید کشیدگی، کسی ایسے علاقائی تنازع میں شامل ہونے کا خطرہ جس سے بنگلہ دیش کا براہ راست مفاد وابستہ نہ ہو، اور امریکا، چین، بھارت اور دیگر طاقتوں کے درمیان زیادہ پیچیدہ توازن قائم رکھنے کی ضرورت۔
اسی لیے سابق بنگلہ دیشی وزیر خارجہ اے کے عبدالمومن کا یہ سوال خاص اہمیت رکھتا ہے کہ مکہ معاہدے میں شمولیت سے حاصل ہونے والے عملی فوائد پہلے واضح کیے جائیں۔اگر ڈھاکہ سعودی عرب سے سرمایہ کاری اور توانائی، ترکیے سے دفاعی ٹیکنالوجی اور پاکستان سے تجارت و تعاون حاصل کرسکتا ہے تو اس معاہدے کی معاشی منطق مضبوط ہوگی۔لیکن اگر اسے بنیادی طور پر صرف ایک علامتی مسلم دفاعی اتحاد میں شامل ہونا ہے تو اس کے لیے سیاسی اور سفارتی قیمت زیادہ ہوسکتی ہے ۔

کیا مکہ معاہدہ جنوبی ایشیا تک پہنچ سکتا ہے ؟
فی الحال اس سوال کا حتمی جواب دینا ممکن نہیں۔لیکن تین عوامل قابلِ ذکر ہیں۔
پہلا:پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے معاہدے کو توسیع کی گنجائش کے ساتھ پیش کیا ہے ۔
دوسرا:بنگلہ دیش نے خود شمولیت کے امکان کو مسترد نہیں کیا بلکہ قومی مفاد کی بنیاد پر اسے مثبت امکان قرار دیا ہے ۔
تیسرا:بھارت نے اس معاملے کو نظر انداز کرنے کے بجائے باضابطہ طور پر اس کی نگرانی اور اثرات کے جائزے کی بات کی ہے ۔
اس لیے مکہ معاہدے کی اصل اہمیت شاید اس کی موجودہ تین رکنی ساخت سے زیادہ اس سوال میں ہے کہ ‘‘آگے کون شامل ہوتا ہے اور معاہدہ کس سمت میں بڑھتا ہے ’’۔
آخری بات:یہ ‘‘اتحاد’’ سے زیادہ ‘‘اختیارات’’کی کہانی ہے
بنگلہ دیش کی ممکنہ شمولیت کو صرف پاکستان کی سفارتی کامیابی یا بھارت کے لیے خطرہ قرار دینا معاملے کو بہت سادہ بنا دے گا۔اصل میں ڈھاکہ ایک ایسی خارجہ پالیسی تشکیل دیتا دکھائی دے رہا ہے جس میں وہ اپنی جغرافیائی مجبوریوں کو تسلیم کرتے ہوئے بھی اپنے اختیارات بڑھانا چاہتا ہے ۔
بھارت کے ساتھ تعلقات ضروری ہیں، مگر بھارت پر انحصار کم کرنا بھی مطلوب ہے ۔
چین سے سرمایہ کاری اور بنیادی ڈھانچے کے فوائد درکار ہیں، مگر چینی کیمپ میں مکمل طور پر جانا مقصود نہیں۔
سعودی عرب سے سرمایہ کاری، توانائی اور روزگار اہم ہیں۔
ترکیے سے دفاعی ٹیکنالوجی اور صنعتی تعاون اہم ہیں۔
پاکستان کے ساتھ تاریخی فاصلے کم کرکے تجارت اور سفارتی تعلقات بڑھانے کا موقع موجود ہے ۔
اور
امریکا کے ساتھ تعلقات کو اس طرح برقرار رکھنا ہے کہ کسی ایک بڑی طاقت کے ساتھ وابستگی بنگلہ دیش کی خارجہ پالیسی کی آزادی محدود نہ کرے ۔
اس تناظر میں مکہ معاہدے کی طرف بنگلہ دیش کا جھکاؤ دراصل ایک بڑی حکمت عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے :‘‘اپنے لیے زیادہ سے زیادہ راستے کھلے رکھنا’’۔
بھارت کے لیے اصل چیلنج یہی ہے ۔ اسے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات کو صرف جغرافیائی مجبوری یا تاریخی قربت کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایک ایسے خودمختار پڑوسی کے طور پر دیکھنا ہوگا جو اب اپنی خارجہ پالیسی میں زیادہ انتخاب چاہتا ہے ۔
پاکستان کے لیے یہ ایک موقع ہے ، لیکن ایسا موقع جسے دانش مندی سے استعمال کرنا ہوگا۔ اگر اسلام آباد اسے بھارت مخالف صف بندی میں بدلنے کے بجائے تجارت، دفاعی تعاون، تربیت، ٹیکنالوجی اور باہمی احترام کا پلیٹ فارم بناتا ہے تو اس کے فوائد زیادہ پائیدار ہوں گے ۔چین کے لیے یہ خطے میں اپنے کئی شراکت داروں کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کا موقع ہے ، لیکن وہ اسے کسی ایسے فوجی بلاک کی صورت اختیار کرتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہے گا جو نئی عالمی محاذ آرائی کو بڑھائے ۔اور امریکا کے لیے یہ ایک نئے علاقائی انتظام کا امتحان ہے :کیا علاقائی ممالک کی اپنی دفاعی صلاحیت میں اضافہ امریکی اثر و رسوخ کو کم کرتا ہے ، یا واشنگٹن کے لیے اپنے وسائل اور ذمہ داریوں کو محدود کرنے کا موقع پیدا کرتا ہے ؟یوں مکہ معاہدے کی اصل کہانی ابھی کسی نئے ‘‘اسلامی نیٹو’’کے قیام کی نہیں بلکہ ‘‘مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں طاقت، سلامتی اور سفارت کاری کے نئے راستوں کے کھلنے کی ہے ’’۔اور بنگلہ دیش کا دروازے پر کھڑا ہونا اس نئی صف بندی کا شاید سب سے اہم اشارہ ہے ۔
بنگلہ دیش نے ابھی مکہ معاہدے میں قدم نہیں رکھا؛ لیکن اس نے یہ ضرور دکھا دیا ہے کہ وہ آئندہ کہاں کھڑا ہوگا، اس کا فیصلہ صرف نئی دہلی نہیں کرے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں