موت کے ساتھ آخری شطرنج
شیئر کریں
انسان نے اپنی پوری تاریخ میں موت سے زیادہ کسی حقیقت سے خوف نہیں کھایا، مگر موت سے زیادہ کسی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش بھی نہیں کی۔
غار کی دیوار پر بنائی گئی پہلی تصویر سے لے کر اہرامِ مصر، یونانی المیوں، صوفیانہ حکمت، مذہبی صحیفوں، فلسفے، شاعری اور جدید نفسیات تک ایک ہی
سوال مختلف زبانوں میں بار بار انسان کے سامنے آتا رہا ہے: میں کون ہوں، اور اس وقت تک کیوں ہوں جب تک مجھے ہونا نہیں ہے؟Owe Zerge کی پینٹنگVictoria Mortis اسی ازلی سوال کو ایک شطرنج کی بساط پر رکھ دیتی ہے؛ ایک طرف زندہ انسان ہے، دوسری طرف
موت، اور درمیان میں ریت کا وہ گھڑیال ہے جو خاموشی سے اعلان کر رہا ہے کہ کھیل جتنا بھی دلچسپ ہو، وقت کسی کھلاڑی کا وفادار نہیں۔ یہ محض
ایک پینٹنگ نہیں، انسانی وجود کا ایک آئینہ ہے، اور اس آئینے میں ہمیں اپنا چہرہ نہیں بلکہ اپنی آخری منزل دکھائی دیتی ہے۔
انسان شاید دنیا کا واحد جاندار ہے جو جانتا ہے کہ وہ مرے گا، مگر پھر بھی زندگی کے ایسے منصوبے بناتا ہے جیسے اسے ہمیشہ زندہ رہنا ہو۔ یہی
انسانی نفسیات کا سب سے بڑا تضاد ہے۔ وہ قبرستان دیکھ کر بھی گھر بناتا ہے، جنازہ دیکھ کر بھی شادی کی تیاری کرتا ہے، اپنے عزیز کو مٹی میں اتار کر
بھی اپنے مستقبل کے خواب دیکھتا ہے، اور ہر شام سورج کو ڈوبتے دیکھ کر اگلی صبح کا انتظار کرتا ہے۔ شاید یہی انسان کی سب سے بڑی کمزوری بھی
ہے اور سب سے بڑی طاقت بھی۔ موت کے شعور نے ہی انسان کو تہذیب بنانے پر مجبور کیا۔ اگر موت نہ ہوتی تو شاید اہرام نہ بنتے، مقبرے نہ
بنتے، شاعری نہ لکھی جاتی، یادگاریں نہ تعمیر ہوتیں، تاریخ نہ لکھی جاتی اور انسان اپنے نام کو آنے والی نسلوں تک پہنچانے کے لیے اتنا بے چین نہ ہوتا۔
انسان نے موت کو شکست دینے کی کوشش میں یادداشت ایجاد کی۔ وہ جانتا تھا کہ جسم فنا ہوگا، اس لیے اس نے اپنے خیالات کو کتابوں میں محفوظ کیا،
اپنے جذبات کو شاعری میں، اپنی عظمت کو مجسموں میں، اپنے عقائد کو عبادت گاہوں میں اور اپنے وجود کو اولاد کی آنکھوں میں زندہ رکھنے کی کوشش
کی۔
مصر کے فرعونوں سے لے کر جدید انسان تک، قبر ایک ہی نفسیاتی خواہش کی علامت رہی ہے: میں ختم نہیں ہونا چاہتا۔ مگر موت انسان کی
خواہشوں سے کبھی متاثر نہیں ہوئی۔ اس کے سامنے بادشاہ اور فقیر، فاتح اور شکست خوردہ، فلسفی اور جاہل، عاشق اور قاتل سب ایک ہی خاموشی میں
داخل ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس پینٹنگ میں موت کو کسی تلوار یا جنگی ہتھیار کی ضرورت نہیں؛ وہ صرف بیٹھی ہے۔ اسے معلوم ہے کہ اسے حملہ کرنے کی ضرورت نہیں، وقت خود اس کا سپاہی ہے۔ میز پر رکھا ریت کا گھڑیال اس پوری تصویر کا شاید سب سے خوفناک فلسفیانہ استعارہ ہے۔ ریت کا ہر ذرہ دراصل انسان کی زندگی کا ایک لمحہ ہے، اور عجیب بات یہ ہے کہ ہم سب اس گھڑیال کو دیکھتے ہوئے بھی وقت کو اپنا سمجھتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں: میرے پاس وقت ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وقت ہمارے پاس نہیں ہوتا، ہم وقت کے پاس ہوتے ہیں۔ وقت ہمیں اپنے اندر سے گزارتا ہوا آخرکار وہاں لے جاتا ہے جہاں کوئی گھڑی نہیں چلتی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسانی نفسیات کا ایک اور عجیب راز سامنے آتا ہے: انسان موت سے اتنا نہیں ڈرتا جتنا بے معنویت سے ڈرتا ہے۔ اسے خوف ہوتا ہے کہ کہیں اس کی زندگی بے مقصد نہ گزر جائے، کہیں اس کی محبت بے معنی نہ ہو، کہیں اس کی جدوجہد کسی ایسے خلا میں تحلیل نہ ہو جائے جہاں کسی کو یاد ہی نہ رہے کہ وہ کبھی موجود تھا۔ اسی خوف نے انسان کو عظمت کی طرف بھی دھکیلا اور تباہی کی طرف بھی۔ سکندر نے دنیا فتح کرنے کی کوشش کی، فاتحین نے سلطنتیں قائم کیں، بادشاہوں نے اپنے نام پتھروں پر لکھوائے، آمر تاریخ کو اپنی مرضی سے لکھنا چاہتے رہے، شاعر نے لفظوں میں پناہ لی، فلسفی نے معنی تلاش کیے اور عاشق نے دوسرے انسان میں اپنی بقا ڈھونڈی۔ مگر موت نے سب کے سامنے ایک ہی سوال رکھا: تم نے دنیا کو فتح کیا، مگر اپنے وقت کو کہاں محفوظ کیا؟ شطرنج یہاں ایک نہایت گہری علامت بن جاتی ہے۔ شطرنج عقل، منصوبہ بندی اور انسانی اختیار کی علامت ہے۔ انسان سمجھتا ہے کہ وہ اپنی چال خود چلتا ہے، اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرتا ہے، اپنے مہرے خود ترتیب دیتا ہے۔ یہی جدید انسان کا بنیادی فریب بھی ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ علم، دولت، سائنس اور طاقت اسے تقدیر پر اختیار دے دیں گے۔ مگر موت اس کھیل میں ایسا حریف ہے جسے آخرکار ہر انسان کے تمام منصوبے معلوم ہوتے ہیں۔ انسان کی ہر چال، خواہ وہ کتنی ہی ذہین کیوں نہ ہو، ایک دن آخری چال تک پہنچتی ہے۔ انسان کی پوری تاریخ شاید اسی کوشش کا نام ہے کہ وہ فنا کے اندر بقا کا کوئی راستہ تلاش کرے۔ مذاہب نے ابدیت کا وعدہ دیا، فلسفے نے معنی تلاش کیے، فن نے لمحے کو دائمی بنانے کی کوشش کی، محبت نے دوسرے وجود میں پناہ لی، اور تاریخ نے انسان کو یاد رکھنے کا وعدہ کیا۔ لیکن آخرکار شطرنج کی بساط پر آخری مہرہ بھی خاموش ہو جاتا ہے۔
ریت کا آخری ذرہ بھی نیچے گر جاتا ہے۔ کمرے میں خاموشی اتر آتی ہے۔ تب شاید انسان کو پہلی مرتبہ سمجھ آتا ہے کہ زندگی کی سب سے بڑی نعمت اس کا طویل ہونا نہیں بلکہ اس کا محدود ہونا تھا۔ کیونکہ اگر وقت لامحدود ہوتا تو شاید ایک بوسہ معمولی ہوتا، ایک ملاقات معمولی ہوتی، ماں کی آواز معمولی ہوتی، دوست کی ہنسی معمولی ہوتی، بارش کی خوشبو معمولی ہوتی، سورج کا طلوع ہونا معمولی ہوتا۔ موت ہی ہے جو زندگی کے معمولی لمحوں کو غیر معمولی بناتی ہے۔ اس لیے Victoria Mortis کو دیکھتے ہوئے شاید ہمیں موت سے خوفزدہ ہونے کے بجائے زندگی سے سوال کرنا چاہیے: اے انسان! جب تم جانتے ہو کہ تمہاری چالیں محدود ہیں، تو تم اپنی اگلی چال کیسے چلو گے؟ شاید یہی اس پینٹنگ کی سب سے گہری چیخ ہے اس تصویر کو اگر پاکستان کے آئینے میں دیکھا جائے تو اس کی معنویت اور بھی تلخ ہو جاتی ہے۔ یہاں بھی کئی دہائیوں سے اقتدار، دولت، زمین، اختیار، نظریات اور شناخت کی شطرنج کھیلی جا رہی ہے، مگر بساط کے کنارے وہی ریت کا گھڑیال رکھا ہے جسے ہم دیکھتے ہوئے بھی دیکھنا نہیں چاہتے۔ پاکستان کی تاریخ دراصل صرف حکومتوں کے بدلنے کی تاریخ نہیں؛ یہ امیدوں کے بننے اور ٹوٹنے، وعدوں کے پیدا ہونے اور مرنے، اور عام انسان کے مسلسل انتظار کی تاریخ بھی ہے۔ 1947ء میں ایک نئی ریاست کا خواب دیکھا گیا تھا؛ اس خواب میں انصاف، مساوات، عزت اور ایک بہتر زندگی کی خواہش تھی۔ مگر وقت گزرتا گیا اور پاکستانی انسان کبھی آمریت، کبھی سیاسی اشرافیہ، کبھی جاگیرداری، کبھی بیوروکریسی، کبھی مذہبی انتہاؤں اور کبھی معاشی نابرابری کی بساط پر مہرہ بنتا رہا۔ مسئلہ یہ نہیں کہ پاکستان میں وسائل کم تھے؛ مسئلہ یہ ہے کہ طاقت کی شطرنج ہمیشہ چند ہاتھوں میں رہی اور عام آدمی کو اکثر صرف چال کا حصہ بنایا گیا۔Victoria Mortis میں موت کے سامنے انسان کی برہنگی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اقتدار کے تمام لباس عارضی ہیں۔ ہمارے ہاں بھی منصب، دولت، پروٹوکول، خاندان، جماعت اور طاقت انسان کو یہ فریب دیتے ہیں کہ وہ دوسروں سے مختلف ہے؛ مگر قبر کے دروازے پر کوئی عہدہ نہیں چلتا۔ وہاں نہ جاگیردار اپنی زمین ساتھ لے جاتا ہے، نہ صنعت کار اپنی دولت، نہ سیاست دان اپنا ووٹ بینک، نہ افسر اپنی فائلیں۔ موت پاکستانی سماج سے بھی وہی سوال کرتی ہے جو ہر انسان سے کرتی ہے: تم نے اپنی زندگی میں انسان کے ساتھ کیا کیا؟ ہم نے تاریخ میں کئی مرتبہ ریاست کو مضبوط کرنے کی بات کی، مگر انسان کو مضبوط کرنے کی بات کم کی۔ ہم نے عمارتیں بنائیں، منصوبے بنائے، سڑکیں بنائیں، ادارے بنائے، مگر ایک ایسا معاشرہ بنانے میں ناکام رہے جہاں غریب کی عزت بھی اتنی ہی ہو جتنی طاقتور کی۔ شاید ہماری سب سے بڑی اجتماعی شکست یہی ہے کہ ہم نے ترقی کو اعداد میں تلاش
کیا اور انسان کو بھول گئے۔ پاکستانی انسان آج بھی اسی شطرنج کی بساط پر بیٹھا ہے؛ مہنگائی، بے روزگاری، طبقاتی تقسیم، سیاسی بے یقینی اور محرومی
کے درمیان وہ اپنی اگلی چال سوچ رہا ہے۔ مگر ریت گرتی جا رہی ہے۔ نسلیں بدل رہی ہیں، چہرے بدل رہے ہیں، نعرے بدل رہے ہیں، مگر اگر
سماج کی بنیادی ناانصافیاں وہی رہیں تو تاریخ صرف اپنے کردار بدل کر وہی کہانی دوبارہ لکھتی رہے گی۔ اس پینٹنگ کا سب سے بڑا سبق شاید یہی
ہے کہ موت آخرکار ہر انسان کو برابر کر دیتی ہے، مگر ایک مہذب معاشرے کی ذمہ داری یہ ہے کہ انسانوں کو مرنے سے پہلے بھی برابر سمجھے۔ اگر
پاکستان کو اپنی تاریخ کی شطرنج سے نکلنا ہے تو اسے موت کے خوف سے نہیں، زندگی کی قدر سے سیاست سیکھنی ہوگی۔
٭٭٭


