سلیم حبیب ایجوکیشن فاونڈیشن پر قابضین کا مقدمہ عدالت میں
شیئر کریں
ارم آفاق نے جعلی نکاح نامے کو بیریٹ ہاڈسن کے مالی و انتظامی حقوق کے لیے استعمال کیا
تحقیقات کے دوران قابضین کی آزادی سے اہم ریکارڈ، دستاویزات متاثر ہونے کا خدشہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر سلیم حبیب کے قائم کردہ تعلیمی و فلاحی ادارے سلیم حبیب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کو قابضین سے چھڑانے کی جدوجہدکا آج ایک اہم دن ہے، جس میں ارم آفاق ایک ایسے مقدمے (225/2026)کا سامنا کرے گی جو اُن کے مبینہ جعلی نکاح نامے اور اس سے منسلک دستاویزات کی قانونی حیثیت سے متعلق ہے۔ مذکورہ مقدمے میں شکایت کنندہ کا موقف ہے کہ ان جعلی دستاویزات کو ڈاکٹر سلیم حبیب کو مالی نقصان پہنچانے اور سلیم حبیب ایجوکیشن فاؤنڈیشن اور بیریٹ ہاڈسن سے متعلق مالی و انتظامی حقوق حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ ان الزامات کا حتمی فیصلہ عدالت کو کرنا ہے ۔آج کی عدالتی کارروائی اس لیے بھی اہم ہے کہ شکایت کنندہ کی جانب سے یہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اگر تحقیقات کے دوران متعلقہ افراد کو مکمل آزادی حاصل رہی تو اہم ریکارڈ، دستاویزات یا دیگر شواہد متاثر ہونے کا خدشہ ہے ۔ تاہم ضمانت دینا یا مسترد کرنا اور اس حوالے سے مناسب شرائط عائد کرنا مکمل طور پر معزز عدالت کا قانونی اختیار ہے ۔یہ معاملہ صرف ایک مقدمے یا ایک خاندان تک محدود نہیں یہ سوال ان ہزاروں طلبہ، والدین اور مریضوں کے مستقبل سے بھی جڑا ہوا ہے جو ان اداروں پر اعتماد کرتے ہیں۔ایک طرف وہ تعلیمی نظام ہے جس کے لیے ڈاکٹر سلیم حبیب نے اربوں روپے فراہم کیے تاکہ مستحق بچوں کو معیاری اور بالخصوص مفت یا معاونت یافتہ تعلیم مل سکے ؛ دوسری طرف فیسوں، اسکالرشپس، عطیات اور فنڈز کے استعمال کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔اسی طرح ادویات اور صحت کے شعبے سے متعلق قیمتوں اور کاروباری معاملات پر اٹھائے جانے والے اعتراضات بھی متعلقہ ریگولیٹری اداروں سے شفاف جانچ کے متقاضی ہیں۔یہ فیصلہ صرف آج کا نہیں یہ سوال بچوں کی تعلیم، مریضوں کی صحت اور فلاحی اداروں پر عوام کے اعتماد کا ہے ۔ ڈاکٹر سلیم حبیب اپنی پیرانہ سالی میں بھی اس مقصد کے لیے قانونی جدوجہد کر رہے ہیں کہ ان کے قائم کردہ اور مالی وسائل سے پروان چڑھنے والے تعلیمی و فلاحی ادارے اسی مقصد کے لیے کام کریں جس کے لیے انہیں بنایا گیا تھا۔ یہ تمام معلومات اور دستاویزی معاملات عوام کے سامنے لانے کا مقصد کسی شخص کو عدالتی فیصلے سے پہلے مجرم قرار دینا نہیں، بلکہ شفاف تحقیقات، مالی جواب دہی اور قانون کی بالادستی کا مطالبہ کرنا ہے ۔قارئین کو آج (22 اگست )کی عدالتی کارروائی کے بعد مقدمے کی اگلی پیش رفت اور عدالتی کارروائی سے آگاہ کیا جائے گا۔واضح رہے کہ مذکورہ مقدمہ اور اس سے متعلق الزامات عدالتی و تحقیقاتی کارروائی کا حصہ ہیں۔


