میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
آپ کے مسائل اور اُن کا حل

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

جرات ڈیسک
جمعه, ۲۱ اگست ۲۰۲۶

شیئر کریں

مفتی محمد وقاص رفیع

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹھیکے پر زمین دینے کا حکم:
سوال: ایک شخص کی سو کنال زمین ہے اور وہ ایک دوسرے شخص کو اس شرط پر دے رہا ہے کہ وہ شخص اس کو (یعنی زمین کے مالک کو) ایک سو بوری گندم دے گا۔کیا زمین کو اس طرح ٹھیکے پر دینا جائز ہے یا یہ سود کے زمرے میں آتا ہے؟ سائل: عمران مغل ہری پور
جواب: زمین ٹھیکے پر دینا شرعاً فی نفسہ جائز ہے،البتہ اسی زمین کے پیداوار میں سے مالک کے لیے سو کنال میں سے متعین سو بوری گندم کی شرط لگانا جائز نہیں ہے،جواز کی صور ت یہ ہے کہ اسی پیداوار میں سے فیصد کے اعتبار سے زمین کے مالک کے لیے پیدا وار کا خاص حصہ متعین کرکے دیا جائے یااسی زمین کی پیداوار کے علاوہ مطلق سو بوری گندم یا اس کی رقم متعین کرکے زمین کا کرایہ مالک کو دیا جائے۔ فقط واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم

سولر سسٹم بیچ کر اجارہ پر لینے اور پھر اس کو خریدنے کا حکم:

سوال:میرا سولر سسٹم تقریباً بیس لاکھ روپے مالیت کا ہے۔ ایک شخص میری مالی مدد کرنا چاہتا ہے۔ وہ بینک سے بیس لاکھ روپے کی رقم حاصل کرے گا اور اس رقم سے میرے موجودہ سولر سسٹم کو مجھ سے بیس لاکھ روپے میں خرید کر اس کا مالک بن جائے گا۔ اس کے بعد وہ اسی سولر سسٹم کو مجھے ماہانہ مقررہ کرایہ پر (اجارہ کی بنیاد پر) استعمال کرنے کے لیے دے گا۔ میں ہر ماہ اس کا کرایہ ادا کروں گا، جبکہ سولر سسٹم کی ملکیت اس شخص کی رہے گی۔ ایک سال بعد میں اسی سولر سسٹم کو دوبارہ اس شخص سے بیس لاکھ روپے میں خریدنے کا ارادہ رکھتا ہوں، یعنی ایک سال تک اجارہ کے بعد الگ بیع کے ذریعے سولر دوبارہ میری ملکیت میں آ جائے گا۔
میرا سوال یہ ہے کہ:
1۔ کیا مذکورہ طریقہ بیع + اجارہ کی شرعی طور پر جائز صورت بن سکتا ہے؟
2۔ کیا اس شخص کا پہلے مجھ سے سولر خرید کر مالک بننا، پھر مجھے وہ ہی سولر اجارہ پر دینا اور ایک سال بعد دوبارہ مجھے فروخت کرنا شرعاً درست ہے؟
3۔ اگر وہ شخص یہ بیس لاکھ روپے بینک سے سودی قرض لے کر حاصل کرے، تو کیا اس کے باوجود میرے اور اس شخص کے درمیان مذکورہ بیع و اجارہ کا معاملہ شرعاً جائز ہوگا؟
4۔ کیا ایک سال بعد سولر کو دوبارہ اسی بیس لاکھ روپے کی قیمت پر خریدنے کا پہلے سے طے شدہ معاملہ رکھنا جائز ہے، یا اس خریداری کو ایک سال بعد الگ اور آزاد بیع کے طور پر کرنا ضروری ہے؟
5۔ اگر ماہانہ کرایہ کی رقم اس شخص کے بینک قرض کی قسط یا سود کے اخراجات کے مطابق مقرر کی جائے، تو کیا اس سے معاملہ شرعاً ناجائز ہو جائے گا؟
6۔ اس پورے معاملے کو شرعی طور پر درست رکھنے کے لیے بیع، اجارہ اور بعد میں دوبارہ بیع کی شرائط اور طریقہ کیا ہونا چاہیے؟
جواب: 1۔ مذکورہ طریقہ بیع + اجارہ کی شرعی طور پر جائز صورت بن سکتا ہے، بہ شرطے کہ ہر ایک معاملہ الگ الگ مجلس عقد میں کیا جائے یعنی ایک معاملہ ایک جگہ طے کرکے پھر وہاں سے علیحدگی اختیار کیا جائے اور پھر کسی دوسرے وقت دوسرا معاملہ کسی دوسری جگہ بیٹھ کر نئے سرے سے طے کیا جائے۔ کیوں کہ ایک معاملہ میں دوسرا معاملہ کرنا شرعاً جائز نہیں ہوتا۔
۲۔ جی ہاں اس شخص کا پہلے آپ سے سولر خرید کر مالک بننا، پھر آپ ہی کو وہ سولر اجارہ پر دینا اور ایک سال بعد دوبارہ آپ کو فروخت کرنا شرعاً درست ہے۔
3۔ جی ہاں اگر وہ شخص یہ بیس لاکھ روپے بینک سے سودی قرض لے کر حاصل کرے، تو اس کے باوجود آپ کے اور اس شخص کے درمیان مذکورہ بیع و اجارہ کا معاملہ شرعاً جائز ہوگا۔
4۔ اس خریداری کو ایک سال بعد الگ اور آزاد بیع کے طور پر کرنا ضروری ہے۔
5۔ ماہانہ کرایہ کی رقم اس شخص کے بینک قرض کی قسط یا سود کے اخراجات کے مطابق مقرر کی جائے، تو کیا اس سے معاملہ شرعاً ناجائز نہیں ہو گا بلکہ بہ دستور جائزرہے گا۔
6۔ اس پورے معاملے کو شرعی طور پر درست رکھنے کے لیے بیع، اجارہ اور بعد میں دوبارہ بیع کی شرائط اور طریقہ کار یہ ہونا چاہیے کہ ہر ایک معاملہ کو دوسرے معاملہ سے بالکل علیحدہ اور آزاد رکھا جائے اور کسی بھی دوسرے معاملہ کو بنیاد بنا کر موجودہ معاملہ کو طے نہ کیا جائے تو پھر تمام معاملات جائز ہوں گے۔ فقط واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم

بچی کے علاج کے لیے بینک سے قرض لینے کا حکم:
سوال: ایک شخص کی بچی کو کینسر ہے اس کے پاس اور کچھ نہیں ہے، اب مقروض ہے،مزید تین سال علاج چلنا ہے، بینک سے قرضہ ملے گا، پی ٹی سی ایل کا ملازم ہے تو تنخواہ سے کٹے گا، کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟
جواب: اگر قرضہ پر زائد رقم واپس نہ کرنا پڑے تو جائز ہے ورنہ سود ہے جو کہ حرام ہے۔ فقط واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم

روزے کی حالت میں بال ڈائی کرنے کا حکم:
سوال: مفتی صاحب کیا روزے کی حالت میں بال ڈائی کرسکتے ہیں؟
جواب: جی ہاں روزے کی حالت میں بال ڈائی کرسکتے ہیں بہ شرطے کہ بالکل کالے کلر سے ڈائی نہ کریں کہ حدیث شریف میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بالوں کو کالا کلر کرنے سے منع کیا ہے چاہے روزہ رکھ کر یا بغیرہ روزہ کے کریں ہر حالت میں حرام اور ناجائز ہے،
اس کے علاوہ کسی بھی کلر سے بالوں کو ڈائی کرنا جائز ہے اس سے روزے پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ فقط واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں