عمران خان کی ہسپتال منتقلی فیصلے پر نظرثانی دوبارہ دائر کردی، رانا ثناء اللہ
شیئر کریں
سپریم کورٹ فیصلے سے کریمنل جسٹس سسٹم متاثر ہوگا، سوال یہ ہے فیصلہ ماتحت عدالتوں پر بائنڈنگ ہوتا ہے
کیا اس فیصلے کے بعد پھر ہر قیدی کو پرائیویٹ ہسپتال منتقل کیا جائے گا؟ عدالتی فیصلے سے چیزیں واضح ہوجائیں گی، گفتگو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ خان نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کی کوئی ڈیڈ لائن نہیں ہے، ہسپتال منتقلی فیصلے پر نظرثانی دوبارہ دائر کردی، عدالتی فیصلے سے چیزیں واضح ہوجائیں گی۔
پارلیمنٹ ہائوس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ حکومت آئین اور قانون کی پابند ہے، اپیل کا فیصلہ آج کل میں آ جائے گا فیصلے سے چیزیں واضح ہو جائیں گی۔ انہوں نے کہا حکومت اس بات پر کلیئر ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے کریمنل جسٹس سسٹم متاثر ہوگا،
سوال یہ ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ماتحت عدالتوں پر بائنڈنگ ہوتا ہے، کیا اس فیصلے کے بعد پھر ہر قیدی کو پرائیویٹ ہسپتال منتقل کیا جائے گا؟ اس طرح تو پھر ماتحت عدالتوں کے پاس کوئی عذر ہی نہیں رہیگا۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ نوازشریف جیل سے سرکاری سروسزہسپتال گئے تھے جہاں ڈاکٹروں کے میڈیکل بورڈ نے تجویز کیا تھا کہ نواز شریف کا علاج بیرون ملک ہونا چاہیے، میڈیکل بورڈ کی تجویز پر نوازشریف کا علاج بیرون ملک ہوا اور حکومت نے اجازت دی۔


