کاشتکاروں پر انکم ٹیکس عائد کرنے کی تیاری
شیئر کریں
زرعی انکم ٹیکس وصولی کے اہداف مقرر، صوبوں سے مشاورت کا فیصلہ، 30 ستمبر تک اہداف حاصل کرنے کی تجویز
…………………………….
حکومت نے آئی ایم ایف کے مطالبات پورے کرنے اور ٹیکس وصولی میں اضافے کے لیے زرعی شعبے سے انکم ٹیکس وصولی بڑھانے پر غور شروع کردیا ہے، جبکہ کاشتکاروں سے زرعی انکم ٹیکس وصول کرنے کے لیے صوبوں کے اشتراک سے متبادل لائحہ عمل بھی تیار کرلیا گیا ہے۔
ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے زرعی انکم ٹیکس کی وصولی اور ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کے حوالے سے اہداف مقرر کرلیے ہیں، جن کے حصول کے لیے صوبائی حکومتوں سے مشاورت کی جائے گی۔ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے مطالبات پورے کرنے کے لیے زرعی شعبے سے ٹیکس وصولی میں اضافے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جارہا ہے، جبکہ زرعی آمدن کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے صوبوں کے تعاون کو اہم قرار دیا گیا ہے۔
حکومت نے زرعی انکم ٹیکس وصولی کے مقررہ اہداف حاصل کرنے کے لیے صوبوں کے ساتھ مشاورت کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں صوبائی حکومتوں سے ٹیکس وصولی کے طریقہ کار اور اہداف کے حصول سے متعلق تجاویز بھی طلب کی جائیں گی۔
ذرائع کے مطابق کاشتکاروں سے انکم ٹیکس وصولی کے اہداف پورے کرنے کے لیے صوبوں کو 30 ستمبر تک کی مہلت دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
حکومتی ذرائع نے بتایا کہ زرعی شعبے سے ٹیکس وصولی بڑھانے کا مقصد ٹیکس نظام کو مزید وسیع کرنا اور آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ اہداف پر عمل درآمد یقینی بنانا ہے۔ تاہم زرعی انکم ٹیکس کے نفاذ اور وصولی کے حتمی طریقہ کار کا فیصلہ صوبوں سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔


