میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
ایم کیو ایم پاکستان اختلافات، بہادرآباد مرکز پر کشیدگی برقرار

ایم کیو ایم پاکستان اختلافات، بہادرآباد مرکز پر کشیدگی برقرار

جرات ڈیسک
منگل, ۴ اگست ۲۰۲۶

شیئر کریں

تصادم میں ملوث کارکنوں کے خلاف کارروائی کا دائرہ وسیع، تنظیمی سطح پر اختلافات ختم کرانے کی کوششیں جاری

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایم کیو ایم پاکستان کے بہادرآباد مرکز پر اتوار کو ہونے والے تصادم کے بعد صورتحال بظاہر معمول پر آ گئی ہے، تاہم تنظیم کے دونوں دھڑوں کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔

پولیس نے ہنگامہ آرائی میں مبینہ طور پر ملوث کارکنوں کے خلاف کارروائی کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے مزید افراد کی شناخت کا عمل تیز کر دیا ہے، جبکہ تنظیمی قیادت بھی اختلافات ختم کرانے کے لیے اندرونی رابطے جاری رکھے ہوئے ہے۔

ذرائع کے مطابق تصادم میں مبینہ طور پر ملوث 200 سے زائد کارکنوں کی فہرستیں مختلف تفتیشی اداروں کو فراہم کر دی گئی ہیں۔

سی سی ٹی وی فوٹیجز، موبائل ویڈیوز اور دیگر شواہد کی مدد سے شرپسندی، فائرنگ اور املاک کو نقصان پہنچانے میں ملوث افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے، جبکہ شہر کے مختلف علاقوں سے بعض کارکنوں کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں بھی لیا گیا ہے۔

پولیس ذرائع نے بتایا کہ واقعے سے متعلق قانونی کارروائی کو شواہد کی بنیاد پر آگے بڑھایا جا رہا ہے اور کسی بھی شخص کے خلاف کارروائی قانون کے مطابق کی جائے گی۔ تفتیش مکمل ہونے کے بعد مزید گرفتاریاں بھی عمل میں لائی جا سکتی ہیں۔

دوسری جانب بہادرآباد میں قائم ایم کیو ایم پاکستان کے عارضی مرکز پر پیر کے روز معمول کی تنظیمی سرگرمیاں جاری رہیں۔ اس دوران سینئر رہنما سید مصطفیٰ کمال، انیس قائم خانی، ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اور ان کے حامی کارکن مرکز پہنچے، جبکہ خالد مقبول صدیقی گروپ کے مرکزی رہنما اس موقع پر موجود نہیں تھے، جس سے دونوں دھڑوں کے درمیان اختلافات کی فضا برقرار رہنے کا تاثر مزید گہرا ہوا۔

ذرائع کے مطابق دونوں گروپوں کے درمیان رابطوں کا سلسلہ جاری ہے اور سینئر رہنما تنظیمی اتحاد برقرار رکھنے کے لیے پس پردہ کوششیں کر رہے ہیں۔

اختلافات کے بنیادی نکات پر مشاورت جاری ہے اور آئندہ چند روز میں اہم ملاقاتوں کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ادھر اتوار کے واقعے کے بعد بہادرآباد مرکز اور اطراف میں سیکیورٹی بدستور سخت رکھی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔

پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے حالات پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔تنظیمی ذرائع نے بتایا کہ قیادت کی کوشش ہے کہ اندرونی اختلافات کو جلد از جلد بات چیت کے ذریعے حل کر کے پارٹی کی سیاسی اور تنظیمی سرگرمیوں کو معمول کے مطابق جاری رکھا جائے، تاہم موجودہ صورتحال میں دونوں دھڑوں کے درمیان اعتماد کی بحالی سب سے بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں