مقبوضہ کشمیر کی تاریخ کا سیاہ دن
شیئر کریں
بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں 1990 کے پٹن قتل عام کی المناک یادیں 36 برس کا ایک طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود متاثرہ خاندانوں کے ذہنوں میں تازہ ہیں، قتل عام میں شہید ہونے والوں کے اہلخانہ تاحال انصاف کے منتظر ہیں۔ قابض بھارتی فوج کے اہلکاروں نے یکم اگست 1990 کو ضلع بارہمولہ کے قصبے پٹن بازار میں اندھا دھند فائرنگ سے کم از کم 12بے گناہ کشمیریوں کو شہید جبکہ 82 زخمی کر دیے تھے۔زندہ بچ جانے والوں نے بتایا کہ یکم اگست 1990 کو بھارتی فوج کا ایک قافلہ بارہمولہ سے سری نگر جا رہا تھا۔ پٹن قصبے کے مقام پر سڑک خستہ حالی کا شکار تھی اور جگہ جگہ گڑھے تھے، فوج کی ایک گاڑی کا ٹائر اچانک پھٹ گیا اور فوجیوں نے اسے حملہ سمجھ کر اندھان دھند گولیاں چلائیں۔وحشیانہ فائرنگ کا یہ عمل پانچ سے آٹھ منٹ تک جاری رہا۔
پٹن بازار میں موجود لوگوں اور دکانداروں میں بھگدڑ مچ گئی اور وہ ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ بھگدڑ میں ایک سو سے زیادہ شہریوں کو گولیاں لگیں جن میں سے 12 اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔زندہ بچ جانے والوں میں سے ایک غلام حسن بٹ نے بتایا کہ اسے سولہ گولیاں لگیں لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کی جان بچائی۔ بازوؤں، ٹانگوں اور پیٹ کے نچلے حصے میں گولیاں لگنے کے بعد وہ ایک گٹر میں گر گیاتھا۔ میں نے بے لگام فوجی اہلکاروں کو لوگوں کی چن چن کر نشانہ بناتے ہوئے دیکھا۔ ایک پھل فروش کو بھی گولیاں ماری گئیں۔ لاشیں اور زخمی خون میں لت پت پڑے تھے۔ پٹن قصبے سے تعلق رکھنے والے ایک عینی شاہد غلام محی الدین نے بتایا کہ قتل عام کی واردات کے بعد فوجی میاں محلہ پٹن میں داخل ہوئے اور مختلف رہائشی مکانات کو آگ لگا دی۔ میرے دوست محمد اکرم کے گھر کو آگ لگائی گئی۔ جب بھی میں اس واقعہ کو یاد کرتا ہوں تو میں کانپ اٹھتا ہوں۔ اس قتل عام کے خلاف پورے علاقے میں زبردست بھارت مخالف مظاہرے پھوٹ پڑے تھے جو کئی دنوں تک جاری رہے۔
مقبوضہ جموں وکشمیر کے ضلع رام بن میں بھارتی انتظامیہ نے چار افراد کی املاک ضبط کر لی ہیں۔بھارتی پولیس نے نئی دلی کے مسلط کر دہ لیفٹیننٹ گورنرمنوج سہنا کے حکم پر ضلع کے علاقوں کندن کھاری، کوٹ کھاری اور بانہال میں غلام رسول، عبداللطیف نائیک، عبدالرشید اور مشتاق احمد کی اراضی کالے قانون ‘‘یو اے پی اے ’’ کے تحت ضبط کی۔بی جے پی کی ہندوتوا بھارتی حکومت نے اگست 2019میں مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد کشمیریوں کے گھروں ، زمینوں اور دیگر املاک کی ضبطی کا سلسلہ تیز کر دیا جسکا بنیادی مقصد انہیں معاشی طور پر مفلاک الحال بنانا اور ضبط شدہ جائیدادیں بھارتی ہندوؤں کو دیکر علاقے میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے مذموم ایجنڈے کو آگے بڑھانا ہے۔دوسری جانب شمالی کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں لوگوں نے قابض بھارتی انتظامیہ کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف زبردست مظاہرہ کیا۔ ضلع کے علاقے سرمرگ میں لوگوں نے ہسپتال میں بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی پر شدید احتجاج کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ علاقے میں قائم صحت مرکز میں نہ عملہ پوری طرح سے دستیاب ہے اور نہ ہی ضروری سہولیات موجود ہیں۔ ہسپتال کو سات برس قبل اپ گریڈ کیا گیا تھا اور یہ آس پاس کے تقریبا ایک درجن کے قریب دیہات کیلئے واحد ہسپتال ہے لیکن ہسپتال کی مناسب عمارت موجود ہے اور نہ ہی ایمبولینس کی سہولت دستیاب ہے۔
کشمیریوں کے پیدائشی اور بنیادی انسانی حق خود ارادیت کے لئے پاکستان نے دنیا کے ہر فورم پر اپنی آواز بلند کی۔ سارک سے لے کر اقوام متحدہ تک اس مسئلے کو لے کر گیا۔ صدر ایوب خان، ذوالفقار علی بھٹو،جنرل ضیاء الحق نے عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے کوشش کی۔یہ امر افسوسناک ہے کہ انسانی حقوق کے نام نہاد چیمپئن اقوام متحدہ اور مغرب نے کشمیر میں بھارتی نسل کشی ، ظلم و ستم پر آنکھیں موند رکھی ہیں۔ اگر عالمی بیٹھک میں ایسٹ تیمور اور جنوبی سوڈان میں ہونیوالی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر واویلا ہو سکتا ہے، تو کشمیر میں ظلم و جبر کی انمٹ داستانیں نظر کیوں نہیں آتیں؟مسئلہ کشمیر پر اقوام عالم کی پراسرار اور متعصبانہ خاموشی سوالیہ نشان ہے۔غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں کل جماعتی حریت کانفرنس نے عالمی برادری کو گمراہ کرنے کے لیے خطے میں امن اور حالات معمول کے مطابق ہونے کا سفید جھوٹ پھیلانے پر نریندر مودی کی زیر قیادت بھارتی حکومت کی مذمت کی ہے۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے بھارت کی سیاسی اور عسکری قیادت کی طرف سے سیکورٹی کی صورتحال میں بہتری کے بے بنیاد دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے دعوے مضحکہ خیز ہیں کیونکہ پورا علاقہ فوج اور پولیس کے محاصرے میں ہے۔ترجمان نے بھارتی فوجی حکام اور بی جے پی رہنماؤں کے حالیہ دھمکی آمیز بیانات کی مذمت کرتے ہوئے انہیں انتہائی اشتعال انگیز اور خطرناک قرار دیا کہ اس طرح کی بیان بازی خطے کو تباہ کن جنگ کے دہانے کی طرف دھکیل رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے اقلیتی امور سے متعلق خصوصی نمائندے فرنینڈ ڈی ورینس نے خبردار کیا ہے کہ 2019 کے بعد سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ڈرامائی انداز میں بڑھی ہیں۔جی ٹوئنٹی جیسی عالمی تنظیموں کو اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اعلامیہ پر عمل درآمد کی حمایت جاری رکھنی چاہیے اور جموں و کشمیر کی سنگین صورتحال کی مذمت کرنی چاہئے۔ مودی حکومت جموں و کشمیر کی صورتحال کے بارے میں عالمی برادری کو گمراہ کرنا چاہتی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال انتہائی سنگین ہے اور 2021 میں مودی حکومت کو ایک مراسلے میں مقبوضہ علاقے کی صورتحال پر تشویش بھی ظاہر کی تھی۔مودی حکومت نے غیر کشمیریوں کو بھارت سے بڑی تعداد میں مقبوضہ علاقے میں لاکر آباد کیا ہے، تاکہ وہاں کی آبادی کے تناسب کو بدلا جاسکے۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ سیاسی ظلم و تشدد، پابندیاں، آزاد میڈیا پر قدغن میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
٭٭٭


