افغانستان میں انسانی بحران شدید
شیئر کریں
افغان طالبان کے بدترین نظام اقتدار سے افغان عوام کے بعد تارکین وطن کیلئے بھی افغانستان جان لیوا سرزمین بن چکی ہے۔ افغان طالبان نے لاکھوں معصوم شہریوں کو روزانہ تشدد کا شکار بنا کر افغانستان کو انسانی حقوق کا قبرستان بنا دیا ہے۔ طالبان رجیم کے بڑھتے خوف سے لاکھوں افغان شہری اپنے گھر بار چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہو گئے۔طالبان نے محض داڑھی کاٹنے، موسیقی سننے جیسے بہانوں کی آڑ میں 350 معصوم افغانوں کو قید خانوں میں ڈال دیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے افغانستان کے محقق زمن سلطانی کے مطابق ظالم طالبان کے زیر سایہ افغانستان تارکین وطن کی واپسی کے لیے دنیا کا خطرناک ترین ملک ہے۔افغان طالبان بین الاقوامی شناخت حاصل کرنے کیلئے یورپ میں قائم افغان سفارت خانوں پر زبردستی قبضہ جما رہے ہیں۔ملالہ یوسف زئی نے طالبان کو دنیا کے بدترین انسانی بحران کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے عالمی بائیکاٹ کا مطالبہ کیا ہے۔ طالبان رجیم افغان مہاجرین کی واپسی کے نام پر بین الاقوامی برادری کو اندھیرے میں رکھ کر گمراہ کر رہی ہے۔یورپی یونین کے خصوصی ایلچی جیل برٹرانڈ کے مطابق افغانستان پر مسلط طالبان رجیم انسانی حقوق کی تاریخ میں سب سے بڑی اور بھیانک مجرم ہے،معصوم شہریوں پر ظلم ڈھانے والے افغان طالبان مہاجرین کی واپسی کے نام پر دنیا کو گمراہ کر کے مزید ظلم کا بہانہ ڈھونڈ رہے ہیں۔
تصور کیجیے کہ آپ کا گھرانہ نو افراد پر مشتمل ہے جسے آلو کے چھلکوں اور دیگر بچی کھچی چیزوں سے تیار شوربے کے علاوہ کوئی کھانا میسر نہیں۔ افغانستان کے بے شمار غریب اور کمزور خاندانوں کو اسی تلخ حقیقت کا سامنا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی، خشک سالی، غذائی قلت اور خواتین پر پابندیوں نے انہیں اس حال تک پہنچا دیا ہے۔ہنگامی امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) کی نمائندہ اولگا چیریوکوو نے بتایا ہے کہ افغانستان میں تقریباً دو کروڑ 20 لاکھ افراد انسانی امداد کے محتاج ہیں، لیکن رواں سال ان کے لیے اقوام متحدہ کی جانب سے 1.7 ارب امداد کی اپیل پر اب تک 14 فیصد وسائل ہی مہیا ہو سکے ہیں۔ اس وجہ سے دور افتادہ اور دشوار گزار علاقوں میں زندگی کرنا تقریباً ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔
رواں سال جنوری سے اپریل کے دوران امدادی شراکت داروں نے افغانستان میں 59 لاکھ افراد تک کم از کم ایک قسم کی مدد پہنچائی۔ ان میں سے 35 لاکھ افراد کو غذائی امداد فراہم کی گئی، جس سے ملک میں خوراک کے شدید بحران کی سنگینی کا اندازہ ہوتا ہے۔علاقائی امن کو داؤ پر لگانے والی طالبان رجیم کی ناقص پالیسیوں نے افغان خواتین کے مستقبل کو بھی تاریک بنا دیا۔افغان طالبان کے جابرانہ طرز حکومت نے ان کا انتہا پسند چہرہ دنیا پر عیاں کر دیا
اقوام متحدہ میں افغان مشن کے سربراہ نصیر احمد فائق نے طالبان پالیسیوں کو انصاف کے اصولوں سے خلاف قرار دے دیا، رپورٹس کے مطابق خواتین کی گرفتاریوں، صنفی تشدد اور جبری شادیوں نے طالبان کے طرز عمل پر سنگین سوالات اٹھا دیے۔ طالبان پردہ کی آڑ میں حراست میں لی گئی خواتین کو جسمانی تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔اقوام متحدہ کے نمائندے رچرڈ بینٹ کا کہنا ہے کہ طالبان جنس کی بنیاد پر ظلم و ستم سمیت غیر انسانی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں، طالبان قیادت اپنے اہلکاروں کے اقدامات سے باخبر ہے اور یہ سب اس کی منظوری سے ہو رہا ہے۔ افغانستان میں طالبان انتظامیہ کی انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ افغان عوام اس وقت شدید جبر اورمظالم کا شکار ہیں۔
افغانستان میں طالبان رجیم کے جبر کے حوالے سے یوناما رپورٹ میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں سامنے آ گئی ہیں۔افغانستان کے لیے اقوامِ متحدہ کے امدادی مشن (یوناما) کی تازہ ترین سہ ماہی رپورٹ نے افغان عوام کی زبوں حالی، ریاستی جبر اور بنیادی انسانی حقوق کی منظم پامالیوں کو اجاگر کیا ہے۔یوناما کی جنوری تا مارچ کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ طالبان رجیم میں افغان خواتین پر تعلیم، ملازمت اور آزادانہ نقل و حرکت کی پابندیاں پانچویں سال بھی برقرار ہیں۔ افغانستان کے اروزگان، پکتیا، قندھار اور غزنی میں محرم کے بغیر خواتین کے علاج اور خریداری پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔ طالبان رجیم کے عام معافی کے دعوؤں کے برعکس سابق افغان فوجی اہلکار بدستور نشانے پر ہیں، جن میں اب تک 23 گرفتاریاں، 9 پر تشدد اور 5 کے قتل کی تصدیق ہوئی ہے۔
افغانستان میں سخت میڈیا سنسرشپ بھی برقرار ہے اور رجیم کی پالیسیوں پر تنقید کے باعث ٹی وی چینل ‘‘راہِ فردا’’ کی نشریات تاحال معطل ہیں۔ افغان طالبان کے نئے فوجداری قوانین میں رجیم پر تنقید اور اختلافِ رائے کو قابلِ سزا جرم قرار دیا گیا ہے۔عالمی ماہرین کے مطابق افغان طالبان رجیم بنیادی آزادیوں کو محدود کر کے افغانستان میں خوف، خاموشی اور جبر کا نظام قائم کیے ہوئے ہے۔طالبان رجیم کی سخت گیر پالیسیاں افغانستان کو انسانی بحران، عالمی تنہائی اور داخلی گھٹن کی طرف لے جا رہی ہیں۔ں میں بے حرمتی کی جاتی ہے۔ بھارت میں رہنا ہے تو ‘‘ہندوتوا’’ کہنا ہو گا۔ اب وہاں کے جنونیوں کا نعرہ ہے۔
٭٭٭


