میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
قوم کا خسارہ

قوم کا خسارہ

جرات ڈیسک
جمعه, ۲۴ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

پاکستان اس وقت شاید اپنی تاریخ کے سب سے اہم موڑ پر کھڑا ہے ۔ یہ فیصلہ صرف حکومتوں، سیاسی جماعتوں یا ریاستی اداروں کو نہیں کرنا بلکہ اس ملک کے کروڑوں نوجوانوں کو بھی کرنا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کا نوجوان مایوسی کے اندھیروں میں گم ہوتا جائے گا، اپنے خواب کسی دوسرے ملک کی سرزمین پر تلاش کرے گا، یا پھر اسی مٹی پر کھڑے ہو کر ایک نئی تعمیر کی بنیاد رکھے گا؟چند برس پہلے تک نوجوانوں کے خواب مختلف تھے ۔ کوئی اچھا روزگار چاہتا تھا، کوئی اپنا کاروبار شروع کرنے کا خواہش مند تھا، کوئی اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے ملک کی خدمت کا جذبہ رکھتا تھا۔ آج منظر بدل چکا ہے ۔ یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہونے والے ہزاروں نوجوان اپنی ڈگریاں ہاتھ میں لیے دروازے کھٹکھٹا رہے ہیں مگر مواقع محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ ایسے میں ان کے ذہن میں ایک ہی سوال جنم لیتا ہے ،کیا میرا مستقبل اس ملک میں ہے؟یہ سوال صرف پاکستان تک محدود نہیں۔

دنیا کے کئی ممالک سے لوگ بہتر مواقع کی تلاش میں ہجرت کرتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں مسئلہ صرف بہتر تنخواہ کا نہیں، بلکہ غیر یقینی مستقبل، معاشی دباؤ، مہنگائی، میرٹ پر سوالات اور مسلسل بے یقینی نے نوجوانوں کی امید کو کمزور کیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بیرونِ ملک تعلیم، ملازمت یا مستقل رہائش کا خواب پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو چکا ہے ۔ہر روز سوشل میڈیا پر ایسے نوجوان دکھائی دیتے ہیں جو کسی نئے ملک پہنچنے کی خوشخبری سنا رہے ہوتے ہیں۔ دوسری طرف وہ بھی ہیں جو زبان، مہارت یا وسائل نہ ہونے کی وجہ سے جان جوکھوں میں ڈال کر غیر قانونی راستے اختیار کرتے ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ بعض اوقات یہ سفر خوابوں کی تعبیر نہیں بلکہ سمندر کی بے رحم لہروں یا انسانی اسمگلروں کے ہاتھوں ایک المناک انجام بن جاتا ہے ۔لیکن کیا ہجرت ہی ہر مسئلے کا حل ہے ؟ کیا سترہ کروڑ سے زیادہ نوجوان آبادی رکھنے والا ملک صرف اپنے قابل ترین دماغ دنیا کے مختلف ممالک کو تحفے میں دیتا رہے گا؟ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو کل نئی صنعتیں کون لگائے گا، نئی تحقیق کون کرے گا، نئی معیشت کون کھڑی کرے گا اور اس وطن کو آگے کون لے کر جائے گا؟یہ وہ سوالات ہیں جن پر صرف نوجوانوں کو ہی نہیں بلکہ حکومت، تعلیمی اداروں، صنعت کاروں اور پورے معاشرے کو سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا، کیونکہ کسی بھی قوم کا مستقبل اس کے نوجوانوں کی امید سے بنتا ہے ، ان کی مایوسی سے نہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ نوجوانوں سے صرف صبر، قربانی اور حب الوطنی کے تقاضے کرنا کافی نہیں۔ انہیں ایسے مواقع بھی دینا ہوں گے جہاں ان کی محنت کا صلہ ملے ، ان کی صلاحیتوں کو پہچانا جائے اور انہیں یہ احساس ہو کہ ان کا مستقبل اسی سرزمین سے وابستہ ہے ۔ دنیا کی ترقی یافتہ قوموں نے اپنے نوجوانوں کو صرف نصیحتوں سے نہیں، بلکہ تعلیم، تحقیق، صنعت، ٹیکنالوجی، انصاف اور میرٹ کے مضبوط نظام سے آگے بڑھایا ہے ۔ جب نوجوان کو یقین ہو کہ اس کی قابلیت ہی اس کی شناخت ہے تو وہ اپنا وطن چھوڑنے کے بجائے اسے سنوارنے کا خواب دیکھتا ہے ۔اس کے ساتھ نوجوانوں پر بھی ایک ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔ اگرچہ حالات مشکل ہیں، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ بڑی تبدیلیاں ہمیشہ انہی نسلوں نے پیدا کیں جنہوں نے مشکلات کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا۔ آج کا نوجوان اگر نئی مہارتیں سیکھے ، جدید ٹیکنالوجی سے خود کو جوڑے ، کاروباری سوچ اپنائے اور دیانت و محنت کو اپنا شعار بنائے تو وہ صرف اپنی تقدیر ہی نہیں بلکہ ملک کی سمت بھی بدل سکتا ہے ۔ دنیا بدل چکی ہے ۔ اب مواقع صرف سرکاری ملازمتوں تک محدود نہیں رہے ۔ ڈیجیٹل معیشت، مصنوعی ذہانت، فری لانسنگ، ای کامرس اور جدت کے بے شمار دروازے کھل چکے ہیں۔لیکن یہ بھی سچ ہے کہ صرف نوجوانوں کے جذبے سے معجزے نہیں ہوتے ۔

ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسا ماحول پیدا کرے جہاں سرمایہ کاری بڑھے ، صنعتیں قائم ہوں، روزگار پیدا ہو، انصاف پر اعتماد بحال ہو اور میرٹ کو ہر سطح پر یقینی بنایا جائے ۔ جب ملک میں امید کا چراغ روشن ہوگا تو ہجرت کا رجحان خود بخود کم ہونے لگے گا۔پاکستان کی سب سے بڑی دولت اس کے سونے ، گیس یا معدنیات کے ذخائر نہیں بلکہ اس کے نوجوان ہیں۔ اگر یہی نوجوان مایوسی میں ڈوب گئے تو نقصان صرف ایک نسل کا نہیں، پوری قوم کا ہوگا۔ لیکن اگر ان کے دل میں امید زندہ رہی، اگر انہیں آگے بڑھنے کا موقع ملا، اگر ان کی صلاحیتوں پر اعتماد کیا گیا، تو یہی نوجوان پاکستان کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتے ہیں۔آج سوال صرف یہ نہیں کہ نوجوان پاکستان چھوڑ رہے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایسا پاکستان بنا رہے ہیں جہاں نوجوان رکنا چاہیں؟ کیونکہ قوموں کی تعمیر صرف اینٹوں اور سڑکوں سے نہیں ہوتی، بلکہ ان خوابوں سے ہوتی ہے جو ان کے نوجوان اپنی ہی سرزمین پر دیکھنے کی ہمت رکھتے ہیں۔ جب خواب اپنے وطن سے وابستہ ہو جائیں تو ہجرت مجبوری نہیں رہتی، اور نئی تعمیر ایک حقیقت بن جاتی ہے ۔

آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ ہم نوجوانوں کو صرف یہ کہیں کہ ‘‘ملک نہ چھوڑو ’’۔اصل ضرورت یہ ہے کہ ہم انہیں ملک میں رہنے
کی ایک مضبوط وجہ دیں۔ ایسا نظام دیں جہاں محنت کا احترام ہو، قابلیت کی قدر ہو، انصاف پر یقین ہو اور مستقبل دھندلا نہیں بلکہ روشن
دکھائی دے ۔ جب ریاست اور معاشرہ اپنے نوجوانوں پر اعتماد کرے گا تو نوجوان بھی اپنے وطن پر اعتماد کرنا سیکھ جائیں گے ۔پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ اس قوم نے ہر مشکل وقت میں خود کو سنبھالا ہے ۔ آج بھی اگر ہم مایوسی کے بجائے امید، نفرت کے بجائے تعمیر، اور شکایت کے بجائے عمل کا راستہ اختیار کریں تو یہ ملک دوبارہ اٹھ سکتا ہے ۔ اس کے لیے حکومت، نجی شعبے ، تعلیمی اداروں، والدین اور خود نوجوانوں کو اپنی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی۔ہجرت جرم نہیں، اور نہ ہی بہتر مستقبل کی تلاش کوئی گناہ ہے ۔ لیکن اگر ایک ملک کی بہترین صلاحیتیں مسلسل اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں تو یہ صرف افراد کا نقصان نہیں، پوری قوم کا خسارہ ہوتا ہے ۔ ہمیں اس خسارے کو روکنا ہوگا۔آخر میں صرف ایک سوال ،ہم اپنے نوجوانوں سے یہ کیوں پوچھتے ہیں کہ وہ پاکستان کیوں چھوڑ رہے ہیں؟کبھی خود سے بھی یہ سوال کیجیے کہ ہم نے انہیں پاکستان میں رکنے کی کتنی وجوہات دی ہیں؟شاید اسی سوال کا جواب پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ کرے گا۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں