میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے آفٹر شاکس

پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے آفٹر شاکس

جرات ڈیسک
جمعرات, ۲۳ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

محمد آصف

پٹرول کی قیمت میں اضافہ محض ایک سرکاری نوٹیفکیشن نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک ایسا معاشی زلزلہ ہے جس کے آفٹر شاکس ہفتوں نہیں بلکہ
مہینوں تک عوام کی زندگیوں کو ہلاتے رہتے ہیں۔ جب حکومت چند روپے فی لیٹر اضافے کا اعلان کرتی ہے تو بظاہر یہ ایک عددی تبدیلی
محسوس ہوتی ہے ، مگر حقیقت میں اس کی بازگشت ہر گھر کے باورچی خانے ، ہر دکان، ہر فیکٹری، ہر کھیت اور ہر مزدور کی جیب تک سنائی دیتی
ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں پہلے ہی مہنگائی نے عوام کی قوتِ خرید کو کمزور کر دیا ہے ، وہاں پٹرول کی قیمت میں ہر اضافہ ایک نئے
معاشی امتحان کا آغاز بن جاتا ہے ۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں مہنگائی صرف قیمتوں کے بڑھنے کا نام نہیں بلکہ یہ امیدوں کے سکڑنے کا عمل بھی ہے ۔ پٹرول
مہنگا ہوتا ہے تو صرف گاڑی کا ٹینک نہیں بھرنا مشکل ہوتا بلکہ زندگی کا ہر پہیہ مہنگا ہو جاتا ہے ۔ ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھتے ہیں، اشیائے
ضروریہ کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں، صنعتوں کی پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے ، کسان کی فصل مہنگی ہو جاتی ہے اور عام آدمی
کی تنخواہ مہینے کے اختتام سے پہلے ہی دم توڑ دیتی ہے ۔

بدقسمتی سے ہمارے بازاروں میں ایک غیر تحریری اصول رائج ہو چکا ہے کہ پٹرول کی قیمت میں معمولی اضافہ بھی ہر چیز کو مہنگا کرنے کا جواز بن جاتا ہے ، مگر جب عالمی منڈی میں تیل سستا ہو یا مقامی سطح پر قیمتیں کم ہوں تو اشیائے ضروریہ کی قیمتیں شاید ہی کبھی اپنی سابقہ سطح پر واپس آتی ہوں۔ یہی وہ رویہ ہے جو عوام کے دلوں میں مایوسی اور نظام پر عدم اعتماد کو جنم دیتا ہے ۔ پٹرول مہنگا ہونے کے بعد سب سے پہلے
ٹرانسپورٹر کرایے بڑھاتے ہیں، پھر تھوک فروش نرخ تبدیل کرتے ہیں، اس کے بعد پرچون فروش اپنی قیمتیں بڑھا دیتے ہیں۔ چند ہی
دنوں میں دودھ، سبزیاں، پھل، آٹا، چینی، گوشت، دالیں، حتیٰ کہ روزمرہ استعمال کی معمولی اشیا بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہونے لگتی
ہیں۔ مہنگائی کی یہ لہر صرف اعداد و شمار میں اضافہ نہیں بلکہ لاکھوں خاندانوں کے دسترخوان کی وسعت کو محدود کرنے کا سبب بنتی ہے ۔اس
صورتحال کا سب سے زیادہ نقصان متوسط اور غریب طبقے کو ہوتا ہے ۔ امیر آدمی شاید چند ہزار روپے اضافی خرچ برداشت کر لے ، مگر ایک
مزدور، ریڑھی بان، رکشہ ڈرائیور، دیہاڑی دار یا کم تنخواہ والا ملازم اپنے محدود وسائل میں کس طرح زندگی گزارے ؟ اس کے لیے پٹرول کی
قیمت میں اضافہ صرف ایندھن مہنگا ہونے کا مسئلہ نہیں بلکہ بچوں کی فیس، بجلی کا بل، راشن اور علاج کے درمیان ایک نئی کشمکش کا نام ہے ۔

معاشی ماہرین اسے کاسٹ پُش انفلیشن (Cost-Push Inflation) قرار دیتے ہیں، مگر عام آدمی کے لیے اس کی تشریح بہت
سادہ ہے ‘‘آمدنی وہی، خرچے دوگنے ’’۔جب آمدنی اور اخراجات کے درمیان فاصلہ بڑھتا جاتا ہے تو معاشرے میں بے چینی، اضطراب
اور عدم اطمینان بھی بڑھنے لگتا ہے ۔ یہی وہ آفٹر شاکس ہیں جو کسی بھی معاشرے کی سماجی ہم آہنگی کو متاثر کرتے ہیں۔دوسری جانب
حکومت کا مؤقف بھی اپنی جگہ موجود ہوتا ہے ۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں، روپے کی قدر میں کمی، درآمدی بل میں اضافہ اور مالیاتی
اداروں کی شرائط حکومت کو ایسے فیصلے کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔ لیکن عوام کے لیے معاشی دلائل سے زیادہ اہم ان کی روزمرہ زندگی ہوتی ہے۔ اگر ایک سرکاری ملازم، مزدور یا چھوٹا دکاندار اپنی بنیادی ضروریات پوری نہیں کر پا رہا تو معاشی اشاریوں کی بہتری بھی اس کے لیے
کوئی معنی نہیں رکھتی۔

اصل ضرورت یہ ہے کہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کو محض ریونیو اکٹھا کرنے کا ذریعہ نہ سمجھا جائے بلکہ اس کے معاشرتی اثرات کو بھی سنجیدگی سے دیکھا جائے ۔ اگر حکومت عوام پر اضافی بوجھ ڈالتی ہے تواس کے ساتھ سستی اور معیاری پبلک ٹرانسپورٹ، اشیائے ضروریہ کی
قیمتوں پر سخت نگرانی، ذخیرہ اندوزی کے خلاف مؤثر کارروائی اور کم آمدنی والے طبقات کے لیے ریلیف پیکج بھی فراہم کرے ۔ اس کے
ساتھ ساتھ متبادل توانائی، الیکٹرک گاڑیوں، شمسی توانائی اور مقامی وسائل میں سرمایہ کاری وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں عالمی
منڈی کے اتار چڑھاؤ سے ملک کو کم سے کم نقصان پہنچے ۔

ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ صرف حکومت ہی نہیں بلکہ معاشرے کے مختلف طبقات بھی اس مہنگائی کو بڑھانے میں کردار ادا کرتے
ہیں۔ ناجائز منافع خوری، مصنوعی قلت، ذخیرہ اندوزی اور بلاجواز قیمتوں میں اضافہ وہ عوامل ہیں جو پٹرول کے آفٹر شاکس کو کئی گنا زیادہ
شدید بنا دیتے ہیں۔ اگر ریاست اپنی ذمہ داری ادا کرے اور تاجر برادری بھی اخلاقی اصولوں کی پابندی کرے تو مہنگائی کے اس طوفان کی
شدت کو کم کیا جا سکتا ہے ۔

پاکستان کو اب وقتی فیصلوں سے آگے بڑھ کر ایک جامع توانائی اور معاشی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے ۔ جب تک معیشت درآمدی
ایندھن پر انحصار کرتی رہے گی، ہر عالمی بحران، ہر جنگ اور ہر بین الاقوامی قیمت میں اضافہ براہِ راست پاکستانی عوام کے دسترخوان تک
پہنچتا رہے گا۔ خود کفالت، توانائی کے متبادل ذرائع اور مضبوط معاشی منصوبہ بندی ہی اس مسئلے کا دیرپا حل ہیں۔اس تمام صورتحال میں
حکومت کی ذمہ داری صرف پٹرول کی قیمتوں کا تعین کرنا نہیں بلکہ عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کرنا بھی ہے ۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ
قومی اسمبلی، سینیٹ، صوبائی اسمبلیوں کے اراکین اور اعلیٰ بیوروکریسی کو دیے جانے والے غیر ضروری پٹرول کوٹے ، سرکاری مراعات اور
فضول اخراجات پر ازسرِنو نظرثانی کی جائے ۔ قومی وسائل پر سب سے پہلے عوام کا حق ہے ، نہ کہ غیر ضروری سرکاری آسائشوں کا۔ اگر
حکمران طبقہ اپنی مراعات میں کمی لا کر اس بچت کو غریب، متوسط اور مزدور طبقے کی فلاح، سستی ٹرانسپورٹ، اشیائے ضروریہ پر سبسڈی اور
سماجی تحفظ کے منصوبوں پر صرف کرے تو عوام کو حقیقی ریلیف مل سکتا ہے ۔ بصورتِ دیگر معاشی دباؤ کے یہ آفٹر شاکس مزید سنگین صورت
اختیار کر سکتے ہیں۔ مسلسل مہنگائی، بے روزگاری اور مایوسی بعض افراد کو انتہائی اور افسوسناک اقدامات کی طرف دھکیل سکتی ہے ، جبکہ لاکھوں
بچوں اور نوجوانوں کو اپنا مستقبل تاریک دکھائی دینے لگتا ہے ۔ یہی بچے اور نوجوان کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ اور مستقبل کے معمار
ہوتے ہیں۔ اگر آج ان کی تعلیم، صحت اور امیدوں کا تحفظ نہ کیا گیا تو کل ایک مضبوط، خوشحال اور مستحکم پاکستان کا خواب بھی کمزور پڑ سکتا
ہے ۔ لہٰذا ریاست کے تمام اداروں کو چاہیے کہ وہ عوامی مشکلات کو محض اعداد و شمار کا مسئلہ نہ سمجھیں بلکہ ایک قومی ذمہ داری تصور کرتے ہوئے
انصاف، کفایت شعاری اور عوام دوست پالیسیوں کو ترجیح دیں۔

آخر میں صرف اتنا کہنا کافی ہے کہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ وقتی خبر ضرور ہوتا ہے ، مگر اس کے آفٹر شاکس عوام کی زندگیوں میں طویل عرصے تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ کامیاب حکومت وہ نہیں جو صرف معاشی اعداد و شمار بہتر دکھائے بلکہ وہ ہے جو عام آدمی کی زندگی آسان بنائے ، اس کی قوتِ خرید کو محفوظ رکھے اور اسے یہ یقین دلائے کہ ریاست اس کے ساتھ کھڑی ہے ۔ کیونکہ جب عوام مطمئن ہوں تو معیشت بھی مضبوط ہوتی ہے ، اور جب عوام ہی معاشی دباؤ تلے دب جائیں تو ترقی کے تمام دعوے محض اعداد و شمار تک محدود رہ جاتے ہیں۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں