امریکا ایران کے ساتھ سفارتی حل کیلئے تیار ،امریکی وزیر خارجہ کا عندیہ
شیئر کریں
ایران آبنائے ہرمز کو بطورِ دباؤ استعمال کر رہا ہے، ایران رویہ بدلے تو سفارت کاری ممکن
امریکا عالمی بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کے تحفظ کیلئے اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امریکا نے ایران تنازعہ کے سفارتی حل کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران رویہ بدلے تو سفارت کاری ممکن ہے،
ایران آبنائے ہرمز کو بطورِ دباؤ استعمال کر رہا ہے، امریکا عالمی بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کے تحفظ کے لئے اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا،
تاہم اس ذمہ داری کا بوجھ صرف امریکا پر نہیں ہونا چاہئے ، دیگر ممالک کو بھی اس مشترکہ ذمہ داری میں حصہ ڈالنا چاہئے ۔
ان خیالات کااظہار امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے لبنان کے صدر سے ملاقات کے دوران اور فلپائن روانگی کے موقع پر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کیا
غیرملکی میڈیا کے مطابق مارکو روبیو نے کہا امریکا ایران کیساتھ سفارتی حل کیلئے تیار ہے۔
پاکستان بھی فریقین پر زور دے رہا ہے کہ تنازع کا واحد حل صرف مذاکرات اور سفارتکاری سے ہی ممکن ہے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ عراق میں امریکی فوجی کی ہلاکت ایک حادثہ تھی، حادثہ گرے ہوئے ایرانی ڈرون کو سنبھالتے وقت پیش آیا۔ ایرانی میزائل اردن کے فضائی دفاع کو عبور کرنے میں کامیاب ہوا۔
دریں اثناآسیان اجلاس کیلئے فلپائن روانگی کے موقع پر مارکو روبیو نے کہا کہ ایران کے ساتھ تنازع کے حل کیلئے امریکا سفارت کاری کے لیے ہمیشہ تیار ہے لیکن سفارت کاری حقیقی ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایران کسی مفاہمت کی شرائط کی خلاف ورزی کررہا ہے تو وہ معاہدہ مور نہیں رہ سکتا ، امریکا نے ایران کے ساتھ کئی بار کوشش کی اور یہ کوشش جاری رکھیں گے۔امریکا ایران کے ساتھ سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کرنا چاہتا۔
ایران رویہ بدلے تو سفارت کاری ممکن ہے۔امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران آبنائے ہرمز کو بطور دباؤ استعمال کررہا ہے، امریکا عالمی جہاز رانی کے تحفظ کیلئے ضروری اقدامات اٹھاتا رہے گا لیکن دیگر ممالک کو بھی آگے آکر بوجھ بانٹنا ہوگا، چاہے وہ عسکری سازوسامان کی فراہمی ہو یا مالی معاونت کی۔ ایران نے آبنائے ہرمز کو محفوظ اور کھلا رکھنے کے بجائے 3 بحری جہازوں پر حملے کیے، ایرانی اقدامات کسی بھی مفاہمتی کوشش کے برعکس ہیں ۔
انہوں نے دعوی کیا کہ ایران مختلف ذرائع سے مذاکرات کی خواہش کے اشارے دے رہا ہے، ایران کے اندر معاشی بحران کے باعث پالیسی پر اختلافات بڑھ رہے ہیں، ایران میں ایک حلقہ مذاکرات کا حامی جبکہ دوسرا سخت مقف پر قائم ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر ایران میں مذاکرات کے حامی فیصلہ سازی میں کامیاب ہوتے ہیں تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہوگی، موجودہ صورتحال میں امریکا اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا عالمی بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کے تحفظ کے لیے اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا، تاہم اس ذمہ داری کا بوجھ صرف امریکا پر نہیں ہونا چاہئے۔
امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ دیگر ممالک کو بھی اس مشترکہ ذمہ داری میں حصہ ڈالنا چاہئے اور اس مقصد کے لیے فوجی سازوسامان، بحری وسائل یا مالی معاونت فراہم کرنی چاہئے تاکہ عالمی بحری تجارت کے تحفظ کی ذمہ داری مشترکہ طور پر ادا کی جا سکے۔


