شاہ سرکار کی نااہلی، سندھ حکومت نے ترقیاتی بجٹ کے اربوں روپے ضائع کر دیے
شیئر کریں
مختلف ترقیاتی اسکیموں کے لیے جاری محکمہ ٹرانسپورٹ کے 20؍ارب، محکمہ بلدیات، تھر کول منصوبوں کے دس دس ارب، محکمہ صحت کے تین ارب روپے اورمحکمہ ورکس کے 2؍ارب روپے خرچ ہونے سے رہ گئے
محکمہ آبپاشی کے لئے خزانہ کھول کر 43ارب 69کروڑ جاری ہوئے مگر مہارت سے 42ارب 95کروڑ خرچ ہونے کے باوجود بدین، ٹھٹھہ، عمرکوٹ، میرپورخاص اور سانگھڑ میں زرعی پانی کی شدید کمی رہی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حکومت سندھ نے گزشتہ مالی سال میں محکمہ بلدیات کی ترقیاتی اسکیموں کے لئے 69ارب، محکمہ ورکس اینڈ سروسز کے لئے 71ارب، محکمہ آبپاشی کے لئے 43ارب، محکمہ ٹرانسپورٹ کے لئے 27ارب، محکمہ صحت کے لئے 17ارب، محکمہ پبلک ہیلتھ کے لئے 15 ارب، تھر کول منصوبوں کے لئے 16ارب68کروڑ اور کراچی کے بڑے ترقیاتی منصوبوں کے لئے صرف 6ارب 49 کروڑ روپے جاری کئے، خرچ نہ کرنے کے باعث محکمہ ٹرانسپورٹ کے 20ارب، محکمہ بلدیات، تھر کول منصوبوں کے دس دس ارب، محکمہ صحت کے تین ارب روپے لیپس ہوگئے۔
جرأت کی رپورٹ کے مطابق محکمہ خزانہ سندھ نے گزشتہ مالی سال کے دوران محکمہ صحت کی 178اسکیموں کے لئے 17ارب 11کروڑ 70 لاکھ روپے جاری کئے جس میں سے محکمہ صحت 14 ارب 25 کروڑ روپے خرچ کرسکا، اس طرح پونے 3ارب روپے خرچ نہ ہوسکے اور بھاری رقم لیپس ہوگئی۔
محکمہ آبپاشی کے لئے خزانہ کھول کر 43ارب 69 کروڑ روپے جاری کئے گئے اور محکمہ آبپاشی سندھ نے بڑی مہارت سے 42ارب 95 کروڑ روپے خرچ بھی کر لئے، کینالوں اور نہروں پر بھاری رقم خرچ کرنے کے باوجود بدین، ٹھٹھہ، عمرکوٹ، میرپورخاص اور سانگھڑ میں زرعی پانی کی شدید کمی رہی۔
محکمہ بلدیات سندھ کی 756 اسکیموں کے لئے 69ارب 77کروڑ روپے جاری ہوئے اور محکمہ بلدیات سندھ نے 59ارب 23کروڑ روپے خرچ کئے، اس طرح ترقیاتی منصوبوں کے 10ارب روپے لیپس ہوگئے ۔
کراچی کے 9بڑے ترقیاتی منصوبوں کے لئے صرف 6؍ارب 49 کروڑ 80 لاکھ روپے جاری کئے گئے جس میں 6؍ارب 21 کروڑ روپے خرچ کئے گئے ۔ محکمہ پبلک ہیلتھ اور دیہی ترقی کو 293اسکیموں کے لئے 19ارب 65 کروڑ روپے جاری ہوئے جس میں سے محکمہ پبلک ہیلتھ نے 18 ارب روپے خرچ کئے اس طرح ایک ارب روپیہ لیپس ہوگیا۔
محکمہ خزانہ کی جانب سے تھر کول انفرااسٹرکچر ڈولپمنٹ کو 16ارب 68 کروڑ روپے جاری کئے گئے لیکن تھر کول کی ترقیاتی اسکیموں پر صرف 6 ارب 61 کروڑ روپے خرچ ہو سکے جس کی وجہ سے 10 ارب روپے لیپس ہوگئے ۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کو کراچی سمیت سندھ کے دیگر شہروں کی اہم ترقیاتی منصوبوں کے لئے 27ارب 18 کروڑ روپے جاری کئے گئے لیکن محکمہ ٹرانسپورٹ کی انتظامیہ سے صرف 7 ارب 97 کروڑ روپے خرچ ہوسکے اس طرح تقریباً 20ارب روپے کی خطیر رقم لیپس ہوگئی جس کی وجہ بی آر ٹی ییلو لائن، بس ٹرمینلز کے منصوبے تاحال مکمل نہیں ہوسکے ۔
محکمہ ورکس اینڈ سروسز کے لئے بھی خزانہ کھول دیا گیا اور گذشتہ مالی سال کے دوران 71 ارب روپے کی بھاری رقم جاری کی گئی جس میں سے 69 ارب 87 کروڑ روپے خرچ کئے گئے اور 2 ارب روپے لیپس ہوگئے۔
محکمہ زراعت کی 43 اسکیموں کے لئے 4 ارب 68 کروڑ روپے جاری کئے گئے جس میں سے 4 ارب 15 کروڑ روپے خرچ ہو سکے ، محکمہ اوقاف کی 35 اسکیموں کے لئے 44کروڑ 70لاکھ روپے جاری ہوئے جس میں 31 کروڑ روپے خرچ کئے گئے ہیں،
اس طرح 13 کروڑ روپے لیپس ہوگئے ۔ محکمہ ثقافت، سیاحت اور آثار قدیمہ کو ایک ارب 97کروڑ روپے جاری کئے گئے اور محکمہ ثقافت نے ایک ارب 86 کروڑ روپے خرچ کئے ،
محکمہ تعلیم (کالج ایجوکیشن) کو 4 ارب 94 کروڑ روپے جاری کئے گئے اور 4 ارب روپے خرچ ہوسکے اس طرح 94 کروڑ روپے لیپس ہوگئے، محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کو ترقیاتی بجٹ کی مد میں 4 ارب 16 کروڑ روپے جاری ہوئے جس میں سے 3 ارب 92 کروڑ روپے خرچ ہوئے کئے گئے ہیں۔
(رپورٹ:علی آزاد)


