اسکریپٹڈ بیانیہ
شیئر کریں
آپ نے کبھی اسکرپٹڈ بیانیہ سنا ہے؟
ایسا بیانیہ جو بہترین ڈائریکشن اور جینوئن ادا کاری سے جاری ہو!
جو دو فریقوں کی باہمی رضا مندی سے ترتیب پائے جس شخص کی ساری زندگی مقتدریہ کی چھتری تلے گزری ہو، اس کے اچانک انقلابی
بننے کی اسٹوری سمجھ سے بالاتر ہوتی ہے ،جس کا جمہور کے خلاف غیر آئینی ترامیم پاس کرانے میں اہم رول رہا ہو ۔
جمہوریت پسند حلقوں میں آج کل مولانا فضل الرحمان کے اس بیان پر خوب تالیاں بجائی جا رہی ہیں جس میں انہوں نے روایتی سخت لہجہ
اپناتے ہوئے اپنے ‘‘سہولت کاروں ’’کو سیاست سے دور رہنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ ”اگر آپ کو سیاست کرنی ہے تو وردی اتار کر میدان
میں آئیں۔” پہلی نظر میں یہ بیان کسی سچے جمہوریت پسند کی آواز لگتا ہے اور اس پر واہ واہ کرنا فطری معلوم ہوتا ہے، لیکن تاریخ کے اوراق
پلٹیں تو سمجھ آتا ہے کہ مولانا کے ان بیانات پر تالیاں بجانے والوں کو ابھی جشن منانے میں جلدی نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ
مولانا اپنی تزویراتی چالوں سے لاکھ روپے مالیت کا قالین بھی محض سو روپے میں بیچ کر نکل جانے کی حیرت انگیز صلاحیت رکھتے ہیں۔
اگر ہم مولانا فضل الرحمان کے سیاسی ماضی کا باریک بینی سے جائزہ لیں تو ان کا کردار ہمیشہ مقتدرہ کے ساتھ پسِ پردہ معاملات طے
کرنے اور اقتدار کی غلام گردشوں میں اپنا حصہ وصول کرنے کے گرد گھومتا نظر آتا ہے۔ ان کی سیاست کا سب سے بڑا تضاد جنرل پرویز
مشرف کے دورِ آمریت میں کھل کر سامنے آیا۔ ایک طرف وہ مشرف کی آمریت کے خلاف بظاہر نعرے لگا رہے تھے، لیکن دوسری طرف
انہوں نے متحدہ مجلسِ عمل (ایم ایم اے) کے پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے سترہویں آئینی ترمیم کے ذریعے پرویز مشرف کو باوردی
صدر منتخب کرانے کے لیے نہ صرف راہ ہموار کی بلکہ عملاً ان کی کرسی کو دوام بخشا۔ اس کے بدلے میں انہوں نے خود کو قومی اسمبلی میں قائد
حزبِ اختلاف کے منصب پر فائز کروایا، جبکہ صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں اپنی حکومتیں قائم کیں۔ یہ وہ دور تھا جب مولانا نے اپنے
سیاسی اثر و رسوخ کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے انتظامیہ میں اپنے من پسند بیوروکریٹس اور ڈپٹی کمشنرز (ڈی سی) تعینات کروائے تاکہ نچلی
سطح پر اپنی طاقت کو مضبوط کر سکیں۔ وہ بظاہر اپوزیشن میں رہے لیکن خاموشی سے فوجی آمر کے اقتدار کو طول دینے کا باعث بنے رہے۔ کچھ
یہی طرزِ عمل ہمیں حالیہ برسوں میں بھی دیکھنے کو ملا۔
سال 2018 میں جب تحریکِ انصاف برسرِاقتدار آئی تو مولانا فضل الرحمان کو اقتدار کی چھتری سے محروم ہونا پڑا، جو انہیں شدید ناگوار
گزرا۔ انہوں نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا اتحاد قائم کیا اور مقتدرہ کے ساتھ مل کر اس وقت کی منتخب حکومت کا تختہ
الٹنے کی بھرپور مہم چلائی۔ عمران خان کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کو کامیاب بنانے میں مولانا فضل الرحمان اور ان کی جماعت کا
کردار کلیدی تھا، جہاں انہوں نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ اقتدار کی منتقلی کے کھیل میں کتنے بڑے مہرہ ساز ہیں۔کھیل یہیں ختم نہیں
ہوتا۔ حالیہ دور میں جب چھبیسویں اور ستائیسویں آئینی ترمیم کے نازک مراحل آئے، تو بظاہر مولانا فضل الرحمان نے ڈبل گیم کھیلی۔ وہ
ایک طرف عوام کے سامنے آئین کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کا راگ الاپتے رہے، تو دوسری طرف پسِ پردہ مقتدر قوتوں اور حکومت
کے ساتھ مسلسل مذاکرات کے دور چلاتے رہے۔ ان ترامیم کی منظوری میں ان کا کردار ایک ایسے سہولت کار کا رہا جس نے حکومت کا کام
بھی آسان کر دیا اور عوام میں یہ تاثر بھی دے دیا کہ انہوں نے سخت مزاحمت کی ہے۔ یہ ان کی سیاسی سودے بازی کا وہ کمال تھا جس نے
ثابت کیا کہ وہ دباؤ کو اپنے فائدے میں بدلنے کے ماہر ہیں،چنانچہ آج جب وہ سیاسی مداخلت کے خلاف گرج دار بیانات دے رہے
ہیں، تو ان کے ماضی کو سامنے رکھنا بے حد ضروری ہے۔ ان کی سیاست اصولوں پر نہیں بلکہ موقع پرستی اور ذاتی مفادات کے تحفظ پر قائم
ہے۔ وہ جب مقتدرہ کے خلاف بولتے ہیں تو یہ جمہوریت کی محبت میں نہیں بلکہ اپنی سیاسی قیمت بڑھانے کے لیے ہوتا ہے۔ تاریخ کے ان
حقائق کی روشنی میں عوام اور سیاسی مبصرین کو یہ سمجھنا ہوگا کہ مولانا کا غصہ عارضی اور ان کا سمجھوتہ مستقل ہوتا ہے، اس لیے ان کے بیانات پر
تالیاں بجانے سے پہلے ان کی اگلی سیاسی ڈیل کا انتظار کرنا زیادہ دانشمندی ہوگی!
عمران خان کے خلاف بھی مولانا کو مبینہ طور پر ان کے سہولت کاروں نے سیاسی میدان میں اتارا تھا اور انہیں یہودی ایجنٹ کہنے کی
ڈیوٹی بھی مولانا صاحب نے خوب نبھائی۔پاکستان پہ امریکی ڈرون گرانے کے اجازت نامے کی دستاویز پر مولانا دستخط کرنے والوں میں
نمایاں تھے۔گزشتہ حکومت کے خلاف جنرل باجوہ کی ڈائریکشن پہ ریلیاں نکالنے میں بھی مولانا صاحب پیش پیش رہے ۔ سائفر کیس، عدم
اعتماد اور عبوری حکومت تک تمام معاملات میں مولانا صاحب سہولت کاروں کے معتمد کھلاڑی نظر آئے ۔اس کے علاوہ اور بھی بہت کچھ مولانا
سے کام لیے جاتے رہے ہیں۔اور مولانا صاحب خوب استعمال ہوتے آئے ہیں۔قرائن بتاتے ہیں کہ مولانا صاحب نے اپنے پرانے
داغ دھونے اور سہولت کاروں پہ ہونے والی شدید تنقیدوں سے توجہ ہٹانے کی خاطر عوامی مزاج کی انقلابی تقریر کی۔مبینہ اطلاعات ہیں کہ
اس گفتگو کی کھلی اجازت مولانا کو دی گئی تھی۔سہولت کاروں کے خلاف ٹاپ ٹرینڈ کو بہت پیچھے دھکیلنا مطلوب ہے؟مولانا کے چہرے پہ
سہولت کاروں کا کارندہ ہونے کے نمایاں داغ کو دھو کر انہیں عوامی لیڈر بنانا مطلوب ہے؟یہ بھی ممکن ہے کہ مولانا صاحب کو گرفتار کر کے
کسی،، ائیر کنڈیشنڈ ریسٹ ہاؤس،میں رکھا جائے۔اور پھر،، مولانا صاحب،کے حق میں مظاھروں کی کھلی چھٹی بھی دی جائے۔سہولتیں مہیا
کر کے لاکھوں لوگوں کے شو کرائے جائیں اور عوامی طاقت سے مولانا کو ریلیز کر کے آرٹیفیشلی،، طاقتور اور قابل قبول،، لیڈر شو کرایا
جائے۔ کیونکہ جن نامرادوں کو مسند اقتدار پرسہولت کاروں نے بٹھایا ہے۔۔وہ عوامی اعتماد کھو چکے ہیں۔اب ممکنہ نیا کارڈ کھیلنے اور مولانا کو
فرنٹ پہ لانے کا شاید نیا ڈرامہ نئے ڈائریکٹر کے ذریعے شروع ہونے والا ہے!!!
٭٭٭


