میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
ہم سے کہاں غلطی ہوئی ؟

ہم سے کہاں غلطی ہوئی ؟

جرات ڈیسک
اتوار, ۱۹ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

انسانی تاریخ کا ایک تلخ مگر مستقل المیہ یہ رہا ہے کہ اکثر معاشروں نے جرم سے زیادہ اس شخص کو خطرناک سمجھا ہے جس نے جرم پر سے پردہ
اٹھایا۔ طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ ہمیشہ سے جانتے رہے ہیں کہ ظلم کی بقا خاموشی پر قائم ہوتی ہے، جبکہ سچائی کی ایک آواز صدیوں سے
تعمیر کی گئی فریب کی پوری عمارت کو لرزا سکتی ہے۔ اسی لیے تاریخ میں بارہا ایسا ہوا کہ مجرم محفوظ رہے مگر گواہ مجرم قرار پایا، ظالم باعزت رہا مگر سچ بولنے والا معتوب ٹھہرا۔انسانی تہذیب کا سفر دراصل سچ اور اقتدار کے درمیان ایک مسلسل کشمکش کی داستان ہے۔ جب سقراط نے ایتھنز سے
سوال پوچھنے کی جسارت کی تو اسے زہر کا پیالہ دیا گیا۔ جب گیلیلیونے کائنات کے بارے میں ایک نئی حقیقت بیان کی تو اسے خاموش کرانے کی
کوشش کی گئی۔ جب مارٹن لوتھرنے مذہبی اختیار سے سوال کیا تو اسے باغی قرار دیا گیا۔ مسئلہ اکثر سچائی نہیں ہوتی؛ مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ سچائی کس
کے مفاد کو زخمی کر رہی ہے۔ہر کرپٹ نظام ایک نفسیاتی اصول پر چلتا ہے: اگر حقیقت کو رد نہیں کیا جا سکتا تو حقیقت بیان کرنے والے کی کردار
کشی کرو۔ یوں بحث جرم سے ہٹ کر پیغام رساں پر منتقل ہو جاتی ہے۔ سوال یہ نہیں رہتا کہ ”کیا ہوا؟” بلکہ یہ بنا دیا جاتا ہے کہ ”کس نے
بتایا؟”۔ سچائی کٹہرے سے نکل جاتی ہے اور سچ بولنے والا کٹہرے میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔یہ انسانی فطرت کی ایک کمزوری بھی ہے۔ لوگ اکثر
حقیقت کا سامنا کرنے سے زیادہ اس شخص کے ارادوں پر بحث کرنا پسند کرتے ہیں جو حقیقت سامنے لایا ہو۔ کیونکہ حقیقت انسان کو اپنے بارے
میں، اپنے معاشرے کے بارے میں اور اپنے عقائد کے بارے میں غیر آرام دہ سوالات پوچھنے پر مجبور کرتی ہے۔ اور تاریخ گواہ ہے کہ انسان
ہمیشہ جھوٹ سے نہیں ڈرا؛ وہ اکثر سچ سے زیادہ ڈرا ہے۔

طاقت کی اصل دشمن تنقید نہیں بلکہ احتساب ہے۔ ایک حکومت تنقیدی مضامین برداشت کر سکتی ہے، ایک کارپوریشن منفی خبروں کو برداشت کر
سکتی ہے، ایک مذہبی یا سماجی ادارہ اختلافی آوازوں کو بھی برداشت کر سکتا ہے؛ لیکن جب سوال جواب دہی کا آ جائے، جب ثبوت سامنے آ
جائیں، جب پردے اٹھنے لگیں، تب اقتدار کی بے چینی شروع ہوتی ہے۔ کیونکہ تنقید رائے ہے، مگر احتساب حقیقت کا مطالبہ ہے۔انسانی تاریخ
کے بیشتر بڑے انقلابات دراصل انہی لوگوں کے مرہونِ منت ہیں جنہوں نے اپنے عہد کی خاموشی توڑی۔ جو لوگ اپنے زمانے میں غدار،
باغی، فتنہ پرداز یا خطرناک سمجھے گئے، آنے والی نسلوں نے اکثر انہی کو ضمیر کی آواز قرار دیا۔ وقت کا سب سے دلچسپ مذاق یہی ہے کہ جس سچائی
کو ایک نسل جرم سمجھتی ہے، اگلی نسل اسے بدیہی حقیقت مان لیتی ہے۔اسی لیے کسی بھی معاشرے کی اخلاقی صحت کا پیمانہ یہ نہیں کہ وہاں کتنے
لوگ طاقتور ہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہاں سچ بولنے والوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے۔ کیونکہ جب ایک معاشرہ جرم کو نظر انداز کر کے اس شخص کو
سزا دینا شروع کر دے جو جرم کو بے نقاب کرتا ہے، تو وہ دراصل یہ اعلان کر رہا ہوتا ہے کہ اسے انصاف سے زیادہ خاموشی عزیز ہے۔اور تاریخ
کا فیصلہ ہمیشہ ایک ہی رہا ہے: سچائی کو قید کیا جا سکتا ہے، بدنام کیا جا سکتا ہے، تاخیر کا شکار کیا جا سکتا ہے، مگر اسے ہمیشہ کے لیے دفن نہیں کیا جا
سکتا۔ سلطنتیں، حکومتیں، نظریات اور طاقت کے مراکز بدل جاتے ہیں، مگر آخرکار زندہ وہی رہتا ہے جو سچ کے قریب ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دور کا
سب سے اہم سوال یہ نہیں ہوتا کہ سچ کس نے بتایا، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ سچ کیا تھا اور اسے چھپانے کی ضرورت کس کو تھی۔

انسانی تاریخ کی طرح پاکستان کی تاریخ بھی ایک ایسے المیے سے بھری پڑی ہے جہاں اکثر سوال یہ نہیں پوچھا گیا کہ حقیقت کیا ہے، بلکہ یہ
پوچھا گیا کہ حقیقت بیان کس نے کی ہے۔ یہاں بھی بارہا ایسا ہوا کہ مسئلہ جرم نہیں بنا، مسئلہ جرم کو بے نقاب کرنے والا بن گیا۔ یوں سچائی
کٹہرے سے نکل گئی اور سچ بولنے والا کٹہرے میں کھڑا کر دیا گیا۔پاکستان کی سیاسی، سماجی اور فکری تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو ایک عجیب سا
تسلسل دکھائی دیتا ہے۔ یہاں طاقت کے مختلف مراکز بدلتے رہے، چہرے بدلتے رہے، نعرے بدلتے رہے، مگر ایک چیز تقریباً مستقل رہی:
احتساب سے خوف۔ ہر دور میں کچھ سوال ایسے رہے جنہیں پوچھنا گستاخی سمجھا گیا، کچھ حقائق ایسے رہے جنہیں بیان کرنا خطرناک قرار دیا گیا،
اور کچھ زخم ایسے رہے جن پر بات کرنے والوں کو ہی مسئلہ بنا دیا گیا۔ہمارے ہاں اکثر سانحے سے زیادہ اس شخص پر بحث ہوتی ہے جو سانحے کی
طرف اشارہ کرے۔ کرپشن سے زیادہ کرپشن کی نشاندہی کرنے والے کی نیت زیرِ بحث آتی ہے۔ ناانصافی سے زیادہ ناانصافی پر آواز اٹھانے
والے کا پس منظر کھنگالا جاتا ہے۔ دلیل سے زیادہ بولنے والے کی وفاداری کا امتحان لیا جاتا ہے۔ گویا سچائی کی جانچ ثبوت سے نہیں بلکہ سچ
بولنے والے کی شناخت سے کی جاتی ہے۔یہ رویہ محض سیاسی نہیں بلکہ گہرا نفسیاتی اور تہذیبی مسئلہ ہے۔ صدیوں کی محکومی، نوآبادیاتی ورثے،
طاقت کے خوف اور اجتماعی عدمِ تحفظ نے پاکستانی سماج میں ایک ایسی ذہنیت پیدا کر دی ہے جو اکثر حقیقت کا سامنا کرنے کے بجائے حقیقت
بیان کرنے والے پر حملہ آور ہو جاتی ہے۔ کیونکہ حقیقت تکلیف دیتی ہے، جبکہ پیغام رساں کو مجرم بنا دینا آسان ہوتا ہے۔پاکستانی تاریخ کے کئی
اہم موڑ اسی المیے کی گواہی دیتے ہیں۔ یہاں بارہا قومی غلطیوں پر سنجیدہ مکالمہ کرنے کے بجائے اختلاف کرنے والوں کی حب الوطنی پر سوال
اٹھائے گئے۔ اداروں کی کارکردگی پر بحث کرنے والوں کو دشمن کا آلہ کار کہا گیا۔ معاشرتی بیماریوں کی نشاندہی کرنے والوں کو مایوسی پھیلانے
والا قرار دیا گیا۔ یوں مسئلہ وہی رہا جسے جرمن فلسفیوں نے ”حقیقت سے فرار” کہا تھا: حقیقت کو رد نہیں کر سکتے تو حقیقت بیان کرنے والے کو
رد کر دو۔

سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ پاکستانی سماج نے اکثر اپنی تاریخ کو سمجھنے کے بجائے اس سے خوف کھایا ہے۔ ہم نے اپنے زخموں کا تجزیہ کم اور
ان پر پردے زیادہ ڈالے ہیں۔ ہم نے اپنی ناکامیوں کی وجوہات جاننے سے زیادہ ان کے ذکر کو ناپسند کیا ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ غلطیاں ماضی کا
حصہ بننے کے بجائے حال کا مقدر بنتی گئیں۔ کیونکہ جو قومیں اپنے سچ کا سامنا نہیں کرتیں، وہ بار بار اسی سچ کے ہاتھوں شکست کھاتی ہیں۔

پاکستان کی تاریخ میں کئی ایسے لمحات آئے جب اصل سوال یہ ہونا چاہیے تھا کہ ”ہم سے کہاں غلطی ہوئی؟” لیکن سوال یہ بنا دیا گیا کہ ”یہ سوال
اٹھانے والا کون ہے؟”۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب ایک معاشرہ سچائی کی تلاش چھوڑ کر اپنی اجتماعی خود فریبی کی حفاظت شروع کر دیتا ہے۔فلسفیانہ
اعتبار سے دیکھا جائے تو کسی قوم کا زوال صرف معاشی یا سیاسی نہیں ہوتا، بلکہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب وہ سچائی سے زیادہ اپنے فریبوں
سے محبت کرنے لگتی ہے۔ جب قومی بیانیے حقیقت سے زیادہ مقدس ہو جائیں، جب سوال پوچھنا جرم بن جائے، جب تنقید کو دشمنی سمجھ لیا
جائے، اور جب احتساب کو سازش قرار دیا جانے لگے، تو معاشرہ بظاہر زندہ رہتا ہے مگر فکری طور پر اندر سے کھوکھلا ہونے لگتا ہے۔شاید یہی وجہ
ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا بحران وسائل کی کمی، جغرافیہ یا سیاست نہیں، بلکہ سچائی کے ساتھ اس کا پیچیدہ تعلق ہے۔ کیونکہ قومیں جھوٹ کی
وجہ سے تباہ نہیں ہوتیں؛ قومیں اس وقت تباہ ہوتی ہیں جب وہ جھوٹ کو بچانے کے لیے سچ بولنے والوں کو قربان کرنا شروع کر دیتی ہیں۔اور
تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ بے رحم ہوتا ہے۔ وہ طاقتوروں کے بیانات نہیں، حقیقت کے نشانات محفوظ رکھتی ہے۔ وقت گزرنے کے بعد نہ شور باقی
رہتا ہے، نہ پروپیگنڈا، نہ الزامات؛ صرف ایک سوال باقی رہ جاتا ہے: جب سچ بولنے کی ضرورت تھی، تب کون خاموش تھا اور کون بولنے کی
جرأت کر رہا تھا؟ یہی سوال قوموں کے ضمیر کا آخری امتحان بنتا ہے، اور پاکستان بھی اس امتحان سے مستثنیٰ نہیں۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں