آبنائے ہرمز کی نگہبانی کے دعوے!
شیئر کریں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹیکس عائد کرنے کی دھمکی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ اگرچہ امریکی صدر اپنے اس اعلان کے بعد یوٹرن لے چکے ہیں مگر سی این این کے مطابق ایران نے صدر ٹرمپ کی حکمت عملی میں تضادات کو ان ہی کے خلاف استعمال کرکے مذاکرات میں اپنی پوزیشن مضبوط کرلی ہے۔امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق ایران ٹرمپ کے طرزِ سیاست کو بھرپور طریقے سے ان ہی کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے جنگ شروع کئے جانے کے بعد اب اسے ختم کرنے کا راستہ تلاش کرنا پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو گیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کو اب تک یہ واضح کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے کہ اس نے اس جنگ کو دوبارہ کیوں شروع کیا ،کیوں کہ صدر ٹرمپ نے چند ہفتے قبل ہی مفاہمتی معاہدے کو ایران کے جوہری پروگرام کے خاتمے اور مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا تھا۔صدر ٹرمپ کا اس وقت سب سے بڑا امتحان یہی ہے کہ جس جنگ کو وہ پہلے اپنی کامیابی قرار دے رہے تھے، اب اس سے باہر نکلنے کا راستہ کیسے تلاش کررہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز ایران کے دوبارہ محاصرے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کھلی رہے گی، تاہم ایران اور اس کے ساتھ تجارتی تعلق رکھنے والے جہازوں کی آمدورفت پر پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی اعلان کیا کہ امریکہ ایران کی ناکہ بندی کو دوبارہ نافذ کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیاتھا کہ امریکہ آبنائے ہرمز کی نگرانی سنبھال سکتا ہے اور اس اہم بحری گزرگاہ کی حفاظت کے بدلے اسے مالی معاوضہ ملنا چاہیے۔ قطری نشریاتی ادارے ‘الجزیرہ’ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ‘فاکس نیوز’ کو ٹیلی فونک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہم آبنائے ہرمز کو محفوظ رکھیں گے اور ممکن ہے اسے ہم ہی چلائیں۔ ہم اس آبنائے کے نگہبان بن جائیں گے اور اس کے لیے ہمیں معاوضہ ملنا چاہیے۔صدر ٹرمپ نے انٹرویو میں کہا کہ امریکہ سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ یہ ذمہ داری بلا معاوضہ انجام دے۔ ان کے بقول دیگر ممالک بہت خوش حال ہیں اور وہ امریکہ کے ساتھ ہیں اور امریکہ آبنائے ہرمز کی حفاظت کے بدلے میں بہت زیادہ رقم حاصل کرے گا۔ ٹرمپ نے ایران کو سخت انتباہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے تازہ ترین حملوں میں ایرانی فوجی سازوسامان کو شدید نقصان پہنچایا ہے اب ایران کے بیشتر عسکری آلات تباہ ہو چکے ہیں اور امریکی کارروائیوں میں فضائی دفاعی نظام کو بھی نشانہ بنایا گیاہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھالنے سے متعلق بیان پر ایرانی عسکری ہیڈکوارٹر ‘خاتم الانبیا’ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھالنے سے متعلق بیان پر سخت ردِ عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کسی
صورت امریکہ کو اس اہم آبی گزرگاہ کے انتظام و انصرام میں مداخلت کی اجازت نہیں دے گا۔ ایران کی عسکری قیادت نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عدم استحکام کا ذمہ دار امریکہ اور اس کے ساتھ تعاون کرنے والے ممالک کو قرار دیا ہے۔ایرانی خبر رساں ادارے ‘تسنیم’ کے مطابق خاتم الانبیا ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کے انتظام میں امریکی مداخلت اور بار بار کی مہم جوئی نے خطے کی سلامتی، بین الاقوامی تجارت اور تیل بردار و تجارتی جہازوں کی آمدورفت کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ہم کسی بھی صورت امریکہ کو آبنائے ہرمز کے انتظام و انصرام میں مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے۔ ان کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج امریکی فوج کی جانب سے تجارتی اور تیل بردار جہازوں کی آمدورفت میں پیدا کی جانے والی کسی بھی رکاوٹ یا عدم تحفظ کا مضبوطی سے مقابلہ کریں گی۔بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ حالیہ دنوں میں پاسدارانِ انقلاب اور ایرانی فوج کی کارروائیاں اس عزم کا ثبوت ہیں کہ ایران اپنی سمندری حدود اور تجارتی راستوں کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گا۔خاتم الانبیا ہیڈکوارٹر نے امریکہ کے ساتھ تعاون کرنے والے علاقائی ممالک کو بھی سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی قسم کا عسکری یا لاجسٹک تعاون ایران کی خودمختاری اور قومی سلامتی کے خلاف جنگی اقدام تصور کیا جائے گا۔ترجمان کے مطابق اگر جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہوا تو اس کے اثرات پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔
بیان میں ایک بار پھر زور دیا گیا کہ خطے میں پیدا ہونے والی بدامنی، کشیدگی اور جنگ کے پھیلاؤ کی ذمہ داری امریکہ اور ان ممالک پر عائد ہوتی ہے جو اس کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔بعد ازاں، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جاری پیغام میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی یہ بات درست ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے والوں کو اس خدمت کا معاوضہ ملنا چاہیے۔تاہم انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران ہمیشہ آبنائے ہرمز کا محافظ رہا ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ عراقچی نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگرچہ معاوضے کی بات اپنی جگہ درست ہو سکتی ہے، لیکن 20 فی صد وصول کرنا بہت زیادہ ہے۔ ان کے بقول ایران اس معاملے میں منصفانہ رویہ اختیار کرے گا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت جس کا مقصد دشمنی کا خاتمہ اور ایک وسیع تر سیاسی حل کے لیے ایک فریم ورک تیار کرنا تھا پر دستخط ہوئے ابھی چند ہی ہفتے گزرے ہیں کہ یہ معاہدہ خطرے میں پڑ گیا ہے۔ واشنگٹن اور تہران کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والا یہ تنازع محض دونوں ممالک کی پرانی رقابت کا ایک اور باب نہیں ہے۔ یہ اب سہ فریقی تزویراتی مقابلے کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس میں تل ابیب کے مفادات اور حساب کتاب بھی واقعات کی رفتار اور سمت پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔اسرائیل نے کبھی بھی امریکہ اور ایران کے درمیان کسی ممکنہ مفاہمت کو روکنے کی اپنی خواہش کو پوشیدہ نہیں رکھا۔ اسرائیلی نقط نظر سے، کوئی بھی عارضی سمجھوتہ تہران پر دباؤ کم کر سکتا ہے جبکہ ایران کے علاقائی اثر و رسوخ اور جوہری پروگرام سے متعلق غیر حل شدہ خدشات برقرار رہ سکتے ہیں۔ حالیہ رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد ان فریقوں سے مختلف ہیں جو علاقائی استحکام برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں۔یہ صورتحال اس لیے اہم ہے کیونکہ ایم او یو ابتدا ہی سے کوئی مکمل امن معاہدہ نہیں بلکہ سیاسی ضرورتوں کے باعث قائم رہنے والی جنگ بندی تھی۔
واشنگٹن کے اپنے فیصلے بھی اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں۔ امریکی انتظامیہ مسلسل متضاد دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔ فوجی کارروائی سے گریز ان ووٹروں کو مطمئن کرتا ہے جو مشرق وسطیٰ کے نہ ختم ہونے والے بحرانوں سے تھک چکے ہیں۔ لیکن ایران کے ساتھ کسی بھی رعایت کا تاثر امریکی اندرونی حلقوں کے سخت گیر عناصر کی شدید تنقید کو دعوت دیتا ہے۔ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں مہنگائی، صارفین کے اعتماد اور انتخابی امکانات کے لیے خطرہ ہیں، جبکہ نئی فوجی کارروائی سے وہی توانائی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے جسے پہلے معاہدے کے ذریعے روکنے کی کوشش کی گئی تھی۔ چنانچہ واشنگٹن نے بیک وقت فوجی کارروائیاں بھی دوبارہ شروع کر دی ہیں اور مذاکرات کی طرف واپسی پر آمادگی کا عندیہ بھی دیا ہے۔ بظاہریہ تضاد دراصل تزویراتی ہم آہنگی کے بجائے سیاسی مجبوری کی عکاسی کرتا ہے۔امریکہ کی جانب سے فوجی طاقت کے استعمال سے بارہا یہ ظاہر ہو چکا ہے کہ اس طرح کی کارروائیوں کے ذریعہ امریکہ ایران کو جھکانے میں کامیاب نہیں ہوسکے گاصدر ٹرمپ کو اچھی طرح معلوم ہے کہگزشتہکئی ماہ کی فضائی کارروائیوں اور حملوں کے باوجود نہ تو ایران کے بنیادی تزویراتی فیصلوں میں کوئی بڑی تبدیلی آئی ہے اور نہ ہی کوئی پائیدار سفارتی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ اس کے برعکس، میزائلوں کے ہر تبادلے کے ساتھ اعتماد مزید کمزور ہوتا ہے جبکہ کسی غلط اندازے یا تیسرے فریق کے اقدام سے ایک بڑے علاقائی جنگ کے خطرات بڑھ جاتے ہیں اور مشرق وسطیٰ میں سفارت کاری کی ہر ناکامی کا مالی بوجھ دنیا بھر کے صارفین کو اٹھانا پڑتا ہے۔ اسی لیے آج سب سے بڑا خطرہ صرف دوبارہ شروع ہونے والی جنگ نہیں بلکہ کم شدت والے مسلسل تنازع کو معمول بنا لینا ہے۔ اگر ایم او یو کسی قابلِ اعتماد سفارتی متبادل کے بغیر ختم ہو جاتا ہے تو خطہ ایک ایسے مانوس مگر خطرناک توازن میں پھنس سکتا ہے جس میں وقفے وقفے سے حملے، جوابی کارروائیاں، بحری راستوں میں خلل اور بار بار ہونے والی ایسی سفارتی کوششیں شامل ہوں گی جو بنیادی تنازعات کو حل کرنے میں ناکام رہیں گی۔ ایران کے جوہری معاملے پر سلامتی
کونسل کی بریفنگ کے دوران چین کے نائب مستقل نمائندے سن لئی نے بھی خلیج میں جنگ بندی برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ سن لئی نے کہا کہ چین تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیتا ہے کہ وہ خلل ڈالنے والے عوامل پر قابو پائیں، طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی سے گریز کریں، ایم او یو کو برقرار رکھیں اور اس پر عمل درآمد کریں اور مسئلے کا ایسا حل تلاش کریں جو تمام فریقوں کے خدشات کو مدنظر رکھے، ایران پر عائد پابندیاں جلد ختم کی جائیں اور سیاسی حل کے عمل میں ٹھوس پیش رفت حاصل کی جائے ۔ انھوں نے واضح کیا کہ ایران کے جوہری مسئلے کا درست حل متعلقہ فریقوں کے جائز مطالبات اور قانونی حقوق و مفادات کا احترام کرتے ہوئے ہی ممکن ہے۔جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کا رکن ایک غیر جوہری ریاست ہونے کے ناطے ایران کو پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا جائز حق حاصل ہے۔ سن لئی نے کہا کہ امریکہ کو ایران کے جوہری مسئلے کے سیاسی حل کیلئے سازگار حالات پیدا کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں ۔یہ بات واضح ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ایک اور طویل کشمکش کسی کو فیصلہ کن فتح نہیں دے گی۔ یہ صرف علاقائی سلامتی کو کمزور کرے گی، عالمی منڈیوں کو غیر یقینی کا شکار بنائے گی، پہلے سے دباؤ کا شکار معیشتوں پر مزید بوجھ ڈالے گی اور عالمی نظام میں تقسیم کو مزید گہرا کرے گی۔لہٰذا متعلقہ فریقوں کے سامنے انتخاب بالکل واضح ہے۔ ایم او یو چاہےکتنا ہی غیر تسلی بخش کیوں نہ ہو، اس پر عمل درآمد ایک اور عدم استحکام کے دور سے کہیں بہتر ہے۔ ایک کمزور امن بھی ہمیشہ مستقل جنگ سے بہتر ہوتا ہے۔ دنیا کو یہ سبق ایک بار پھر سیکھنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ بیانات اور الزامات نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آیا دونوں ممالک سفارتی راستہ اختیار کریں گے یا کشیدگی مزید بڑھنے کا خطرہ برقرار رہے گا۔ تاہم اس وقت دونوں فریق ایک دوسرے پر سخت تنقید کرتے ہوئے اپنے اپنے مؤقف پر قائم دکھائی دیتے ہیں۔قبل ازیں، ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کہہ چکے ہیں کہ کوئی بھی ملک ایران پر وعدہ خلافی کا الزام نہیں لگا سکتا۔ تہران میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ طے پانے والی ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ کے تحت اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کیں امریکہ نے مختلف بہانوں سے معاہدے کی کئی شقوں کی خلاف ورزی کی۔اسماعیل بقائی نے خبردار کیا کہ اگر واشنگٹن جنگ کے خاتمے سے متعلق اپنے وعدے پورے نہیں کرتا تو تہران بھی اس معاہدے پر مزید عمل درآمد جاری رکھنے کا پابند نہیں رہے گا۔ ایرانی ترجمان نے واضح کیاکہ ایران اپنے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور مارے جانے والے تمام شہریوں کے خون کے لیے انصاف کے حصول کو اپنی بنیادی پالیسی سمجھتا ہے۔ ان کے بقول تہران امریکہ اور اسرائیل کے
اقدامات کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے اور انصاف کے حصول کے لیے تمام قانونی اور بین الاقوامی راستے اختیار کرے گا۔ اسماعیل بقائی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت کے لیے عمان کے ساتھ ایک مشترکہ طریقہ کار وضع کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم مسقط پر امریکی دباؤ ان کوششوں میں رکاوٹ بن رہا ہے۔
٭٭٭


