غیر قانونی تعمیرات پر سندھ ہائیکورٹ برہم، مسماری کے اخراجات متعلقہ بلڈنگ افسر کی تنخواہ سے وصولی کا حکم
شیئر کریں
عدالتی حکم امتناع کے باوجود تعمیرات جاری رہیں، ڈی جی ایس بی سی اے کے خلاف توہین عدالت کی درخواست نمٹا دی گئی
………
سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے عدالتی حکم امتناع کے باوجود سائٹ ٹاؤن کی قصبہ کالونی میں غیر قانونی تعمیرات نہ رکوانے کے معاملے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات گرانے کے اخراجات متعلقہ ایس بی سی اے افسر کی تنخواہ سے وصول کیے جائیں۔
عدالت نے ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) اور دیگر کے خلاف توہین عدالت کی درخواست نمٹا دی۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالتی حکم کے باوجود قصبہ کالونی میں غیر قانونی تعمیرات جاری رہیں۔
اس پر سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی حکم پر عملدرآمد کرتے ہوئے مزید تعمیرات رکوا دی گئی ہیں اور قانونی کارروائی جاری ہے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ جو غیر قانونی تعمیرات پہلے ہی مکمل ہو چکی ہیں، انہیں کون گرائے گا؟ بعد ازاں عدالت نے حکم دیا کہ غیر قانونی تعمیرات کو مسمار کیا جائے اور اس کارروائی پر آنے والے اخراجات متعلقہ ڈائریکٹر کی تنخواہ سے وصول کیے جائیں۔


