میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
پاکستان کی ضرورت کیا؟

پاکستان کی ضرورت کیا؟

جرات ڈیسک
منگل, ۱۴ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ اگر ایک صبح ہم سب کی آنکھ صرف نیند سے نہیں بلکہ ضمیر کے جاگنے سے کھلے تو کیا ہوگا؟ اگر اس دن کسی عدالت
کو اضافی جج نہ چاہیے ہوں، کسی تھانے میں مقدمات کی قطاریں نہ لگیں، کسی ہسپتال میں سفارش کی ضرورت نہ پڑے ، کسی دفتر میں رشوت کا
لفافہ میز کے نیچے سے نہ گزرے ، کسی دکان پر ترازو جھوٹ نہ بولے اور کسی زبان سے ایسا لفظ نہ نکلے جو کسی بے گناہ کا دل توڑ دے، تو کیا
ہماری دنیا ویسی ہی رہے گی جیسی آج ہے ؟

ضمیر کوئی قانون نہیں، مگر ہر قانون سے زیادہ طاقتور ہے ۔ یہ کوئی پولیس والا نہیں جو سڑک کے کنارے کھڑا ہو، نہ کوئی کیمرہ ہے جو ہر حرکت ریکارڈ کرے ، نہ کوئی جج ہے جو سزا سنائے ۔ یہ تو انسان کے سینے میں رکھا وہ خاموش نگہبان ہے جو ہر غلط قدم سے پہلے دھیرے سے کہتا ہے ‘‘رک جاؤ، یہ راستہ درست نہیں ’’۔افسوس یہ ہے کہ ہم نے اپنے ضمیر کو مارا نہیں، صرف اتنا شور مچا دیا ہے کہ اس کی آواز سنائی دینا بند ہوگئی ہے ۔ دولت کی چمک، طاقت کا نشہ، شہرت کی خواہش اور مفاد کی دوڑ نے اس نرم آواز کو دبا دیا ہے ۔ آج انسان کو یہ فکر زیادہ ہے کہ لوگ کیا کہیں گے ، مگر یہ فکر کم رہ گئی ہے کہ اس کا اپنا ضمیر اس سے کیا کہہ رہا ہے ۔سوچیے ، اگر ایک سرکاری افسر صرف ایک دن اپنے ضمیر کی آواز پر فیصلہ کرے ، اگر ایک تاجر صرف ایک دن ملاوٹ سے انکار کر دے ، اگر ایک استاد صرف ایک دن پوری دیانت سے پڑھائے ، اگر ایک ڈاکٹر صرف ایک دن مریض کو دولت نہیں بلکہ انسان سمجھ کر دیکھے ، اگر ایک سیاست دان صرف ایک دن اقتدار کے بجائے قوم کے بارے میں سوچے ، تو شاید وہ ایک دن ہی آنے والے کئی برسوں کا رخ بدل دے ۔قومیں صرف بڑی شاہراہوں، بلند عمارتوں اور ترقیاتی منصوبوں سے عظیم نہیں بنتیں۔ ان کی اصل طاقت ان لاکھوں انسانوں کے زندہ ضمیر میں ہوتی ہے جو اندھیروں میں بھی روشنی کا انتخاب کرتے ہیں، نقصان اٹھا کر بھی سچ کا ساتھ دیتے ہیں اور تنہائی میں بھی امانت میں خیانت نہیں کرتے ۔

کسی بزرگ نے کہا تھا کہ معاشرے اس وقت تباہ نہیں ہوتے جب ان کے پاس وسائل کم ہو جائیں، بلکہ اس وقت تباہ ہوتے ہیں جب ان کے لوگوں کے ضمیر سو جائیں۔ تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ بہت سی قومیں غربت سے نکل آئیں، جنگوں کے زخم بھر گئیں، قدرتی آفات کے بعد دوبارہ آباد ہو گئیں، لیکن جن معاشروں نے اپنے ضمیر کی آواز کھو دی، وہ دولت کے انبار ہونے کے باوجود اندر سے کھوکھلے ہوتے چلے گئے ۔ ہم اکثر اپنی تمام مشکلات کا الزام نظام پر ڈال دیتے ہیں۔ نظام یقینااہم ہے ، مگر ہر نظام کو چلانے والے انسان ہی ہوتے ہیں۔ اگر ایک بہترین قانون پر عمل کرنے والا شخص بے ضمیر ہو تو وہ قانون بھی ظلم کا ہتھیار بن جاتا ہے ، اور اگر ایک کمزور قانون کے پیچھے کھڑا انسان باضمیر ہو تو وہ انصاف کی ایک نئی مثال قائم کر دیتا ہے ۔ اسی لیے دنیا کی بڑی تبدیلیاں پہلے انسان کے اندر پیدا ہوئیں، پھر اداروں تک پہنچیں۔ذرا تصور کیجیے کہ اگر کل صبح پاکستان میں ہر شخص اپنے ضمیر کے مطابق اپنا فرض ادا کرنے کا فیصلہ کر لے ۔ ایک ٹریفک اہلکار رشوت لینے کے بجائے قانون پر عمل کرائے ، ایک ٹھیکیدار ناقص تعمیراتی سامان استعمال کرنے سے انکار کر دے ، ایک تاجر ذخیرہ اندوزی چھوڑ دے ، ایک استاد نقل کی حوصلہ شکنی کرے ، ایک طالب علم محنت کو کامیابی کا راستہ سمجھے ، ایک صحافی خبر کو ذاتی پسند یا ناپسند کی عینک سے نہیں بلکہ سچائی کی روشنی میں پیش کرے ، ایک جج صرف قانون اور انصاف کو سامنے رکھ کر فیصلہ دے ، اور ایک سیاست دان اگلے الیکشن کے بجائے اگلی نسل کے بارے میں سوچنا شروع کر دے ، تو یقین کیجیے ، کسی انقلاب کا اعلان کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ انقلاب خاموشی سے ہمارے رویوں میں اتر آئے گا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ضمیر کبھی مرتا نہیں، صرف خاموش ہو جاتا ہے ۔ کبھی کسی یتیم کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر، کبھی کسی مزدور کے پسینے کی خوشبو محسوس کر کے ، کبھی کسی ماں کی دعا سن کر، اور کبھی رات کی تنہائی میں اپنے اعمال کا حساب کرتے ہوئے وہ پھر سے جاگنے لگتا ہے ۔ انسان کے اندر موجود یہی بیداری اسے عام انسان سے عظیم انسان بنا دیتی ہے ۔شاید اسی لیے دنیا کے بڑے مصلحین نے انسان کو دوسروں کو بدلنے سے پہلے اپنے آپ کو بدلنے کی دعوت دی۔ کیونکہ جب ایک دل جاگتا ہے تو ایک گھر بدلتا ہے ، ایک گھر بدلتا ہے تو ایک محلہ بدلتا ہے ، اور جب ہزاروں دل جاگ جائیں تو قوموں کی تقدیر بدلنے لگتی ہے ۔

ذرا اپنے اردگرد نظر دوڑائیے ۔ کتنے ہی مسائل ہیں جن کے حل کے لیے اربوں روپے نہیں، صرف ایک زندہ ضمیر درکار ہے ۔ گلی میں پڑا
ہوا کچرا، سرکاری املاک کی توڑ پھوڑ، قطار توڑنے کی عادت، بجلی اور گیس کی چوری، ملاوٹ، جھوٹ، سفارش، ذخیرہ اندوزی، ٹیکس چوری،
نفرت انگیز گفتگو، سوشل میڈیا پر جھوٹی خبروں کی اشاعت۔ان میں سے کون سا مسئلہ ایسا ہے جسے صرف قانون ختم کر سکتا ہے ؟ قانون سزا
دے سکتا ہے ، مگر ضمیر انسان کو جرم کرنے سے پہلے ہی روک دیتا ہے ۔اگر ہماری درسگاہوں میں علم کے ساتھ دیانت داری بھی پڑھائی
جائے ، اگر گھروں میں بچوں کو صرف نصیحت نہیں بلکہ عملی مثال بھی ملے ، اگر میڈیا سنسنی سے زیادہ سچائی کو اہمیت دے ، اگر مذہبی، سماجی اور
سیاسی قیادت اپنے کردار سے رہنمائی کرے ، تو ضمیر کو جگانے کے لیے کسی بڑے انقلاب کی ضرورت نہیں رہے گی۔ ایک نسل کے اندر ہی
معاشرے کا مزاج بدلنا شروع ہو جائے گا۔

ہم اکثر دعا کرتے ہیں کہ یااللہ ہمارے حالات بدل دے ، ہماری معیشت سنبھل جائے ، ہمارے شہر محفوظ ہو جائیں، ہمارے ادارے مضبوط ہو جائیں اور ہماری آنے والی نسلیں خوشحال زندگی گزاریں۔ یہ تمام دعائیں اپنی جگہ درست ہیں، مگر شاید ان سب دعاؤں کی قبولیت کا پہلا دروازہ ہمارے اپنے ضمیر سے ہو کر گزرتا ہے ۔ کیونکہ جب انسان خود بدلنے کا فیصلہ کر لیتا ہے تو قدرت بھی اس کے لیے راستے کھولنا شروع کر دیتی ہے ۔ہمارے معاشرے کو شاید کسی نئے نظریے سے زیادہ ایک نئے بیدار ضمیر کی ضرورت ہے ۔ ہمیں ایسی نسل تیار کرنی ہے جو یہ نہ پوچھے کہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ بلکہ یہ پوچھے کہ مجھے کیا کرنا چاہیے ؟ کیونکہ تاریخ ہمیشہ ہجوم کے نام سے نہیں، کردار کے نام سے لکھی جاتی ہے ۔ ایک باضمیر انسان سینکڑوں بے حس لوگوں پر بھاری پڑ سکتا ہے ، اور ایک زندہ ضمیر لاکھوں دلوں میں امید کی شمع روشن کر سکتا ہے ۔آئیے ، آج دوسروں کے ضمیر کو جگانے سے پہلے اپنے دل کے دروازے پر دستک دیں۔ خود سے ایک سوال کریں،اگر آج میرا ضمیر پوری طرح بیدار ہو جائے تو کیا میں وہی انسان رہوں گا جو کل تھا؟ اگر اس سوال کا جواب ‘‘ نہیں ’’ہے تو سمجھ لیجیے کہ تبدیلی کا سفر شروع ہو چکا ہے ۔کیونکہ جب ضمیر جاگ اٹھتا ہے تو صرف ایک انسان نہیں بدلتا، ایک گھر بدلتا ہے ، ایک معاشرہ بدلتا ہے ، اور پھر آہستہ آہستہ پوری قوم کی تقدیر بدلنے لگتی ہے ۔شاید پاکستان کو آج سب سے زیادہ کسی نئے قانون، نئے نعرے یا نئے چہرے کی نہیں، بلکہ جاگتے ہوئے ضمیروں کی ضرورت ہے ۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں