جب ایمانداری فیشن بن گئی!
شیئر کریں
صبح جب آنکھ کھلی تو سب کچھ ویسا ہی تھا۔ سورج بھی مشرق سے نکلا تھا، ہوا بھی اسی طرح چل رہی تھی، پرندے بھی اسی طرح چہک رہے
تھے ، مگر نہ جانے کیوں فضا میں ایک عجیب سا سکون تھا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے رات کی تاریکی اپنے ساتھ صرف اندھیرا ہی نہیں بلکہ بے
ایمانی، دھوکے اور فریب کا ایک بڑا حصہ بھی سمیٹ کر لے گئی ہو۔
میں گھر سے نکلا تو پہلی حیرت بازار میں میرا انتظار کر رہی تھی۔ ایک دکاندار اپنے گاہک سے کہہ رہا تھا، بھائی، یہ چیز آپ کو اتنی مہنگی نہیں دینی چاہیے تھی، کل غلطی سے زیادہ قیمت لے لی تھی، یہ آپ کے باقی پیسے ہیں، گاہک کی آنکھوں میں حیرت تھی اور دکاندار کے چہرے پر اطمینان۔ پہلی بار محسوس ہوا کہ نفع صرف پیسوں سے نہیں، کردار سے بھی کمایا جا سکتا ہے ۔چند قدم آگے بڑھا تو ایک نوجوان کو سڑک پر پڑا ہوا پرس ملا۔ اس نے پرس کھول کر رقم گننے کے بجائے شناختی کارڈ تلاش کیا اور مالک کو فون کر دیا، آس پاس کھڑے لوگ اسے بے وقوف نہیں بلکہ قابل احترام نگاہوں سے دیکھ رہے تھے ، تب مجھے احساس ہوا کہ معاشرے بدلتے اسی دن ہیں جب اچھائی پر طنز ختم ہو جائے اور دیانت داری عزت کی علامت بن جائے ۔شاید یہی وہ دن تھا جب ایمانداری محض ایک نصیحت نہیں رہی تھی، بلکہ فیشن بن گئی تھی۔ لوگ اسے اس لیے اختیار نہیں کر رہے تھے کہ کوئی انہیں دیکھ رہا ہے ، بلکہ اس لیے کہ انہیں اپنے ضمیر کے سامنے سرخرو رہنا تھا۔ اس روز پہلی مرتبہ مجھے محسوس ہوا کہ اگر کردار کو عزت ملنے لگے تو قوموں کی تقدیر بدلنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔
میں آگے بڑھا تو شہر کا منظر جیسے برسوں بعد پہلی بار مسکراتا ہوا دکھائی دیا۔ ایک سرکاری دفتر کے باہر لوگوں کا ہجوم ضرور تھا، مگر چہروں پر بے بسی نہیں تھی۔ نہ کوئی سفارش ڈھونڈ رہا تھا، نہ کسی کی جیب میں لفافہ تھا۔ کاؤنٹر پر بیٹھے افسر نے ایک بزرگ سے کہا، آپ کی فائل میں ایک کاغذ کم ہے ، لیکن فکر نہ کریں، یہ ذمہ داری ہماری بھی ہے ۔ ہم خود متعلقہ شعبے سے منگوا لیتے ہیں،میں دیر تک اس افسر کو دیکھتا رہا،حیرت اس بات پر نہیں تھی کہ وہ اپنا فرض ادا کر رہا تھا، حیرت اس بات پر تھی کہ فرض ادا کرنا اب غیر معمولی واقعہ نہیں رہا تھا۔عدالت کے دروازے پر ایک وکیل اپنے مؤکل سے کہہ رہا تھا، آپ کا مقدمہ کمزور ہے ، میں آپ کو جھوٹی امید نہیں دوں گا۔ بہتر ہے صلح کر لیجیے ،مجھے محسوس ہوا کہ شاید انصاف صرف فیصلوں سے نہیں آتا، انصاف تو سچ بولنے کی پہلی ہمت سے جنم لیتا ہے ۔اسکول کے راستے سے گزرا تو ایک استاد بچوں سے کہہ رہا تھا، زندگی میں سب سے بڑی ڈگری ایمانداری ہے ، اگر یہ حاصل کر لی تو باقی کامیابیاں خود راستہ ڈھونڈ لیں گی، بچے خاموشی سے سن رہے تھے ، کیونکہ وہ کتاب سے زیادہ استاد کے کردار سے سبق سیکھ رہے تھے ۔دن ڈھلا تو ایک انتخابی جلسہ نظر آیا،اسٹیج پر کھڑا امیدوار بڑے وعدے نہیں کر رہا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا، میں ہر مسئلہ حل نہیں کر سکتا، لیکن ایک وعدہ ضرور کرتا ہوں کہ عوام سے کبھی جھوٹ نہیں بولوں گا،حیرت انگیز بات یہ تھی کہ مجمع نے اسی جملے پر سب سے زیادہ تالیاں بجائیں۔ شاید اب لوگوں کو خوشنما نعروں سے زیادہ سچائی پسند آنے لگی تھی۔میں نے دل ہی دل میں سوچا، قوموں کو ترقی دینے کے لیے ہمیشہ نئے پل، نئی سڑکیں اور بلند عمارتیں ہی کافی نہیں ہوتیں، بعض اوقات ایک سچا دستخط، ایک درست تول، ایک دیانت دار فیصلہ اور ایک صاف ضمیر پوری قوم کی بنیادیں مضبوط کر دیتے ہیں۔ جس دن ایمانداری کو کمزوری نہیں بلکہ وقار سمجھا جانے لگے ، اس دن ترقی صرف اعداد و شمار میں نہیں بلکہ انسانوں کے چہروں پر بھی نظر آنے لگتی ہے ۔ پھر میں نے ایک نوجوان کو دیکھا۔ اسے ایک بڑی کمپنی سے ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، مگر شرط یہ تھی کہ چند کاغذات میں غلط بیانی کرنا ہوگی۔ اس نے مسکرا کر کہا، روزگار دوبارہ مل سکتا ہے ، لیکن ایک بار کھویا ہوا ضمیر شاید کبھی واپس نہ آئے ۔اس کی بات سن کر مجھے احساس ہوا کہ جب ایک نسل اپنے ضمیر کو اپنی سب سے بڑی دولت سمجھنے لگے تو قوموں کی تقدیر بدلنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔ اسی دوران ایک بچہ اپنے والد سے پوچھ بیٹھا، ابو! لوگ پہلے بے ایمانی کیوں کرتے تھے ؟باپ چند لمحے خاموش رہا، پھر بولا، بیٹا! کبھی لوگوں کو لگتا تھا کہ بے ایمانی سے راستے چھوٹے ہو جاتے ہیں، لیکن بعد میں انہیں معلوم ہوا کہ وہ راستے منزل تک نہیں، تباہی تک جاتے ہیں۔۔ یہ سن کر میرے قدم رک گئے ۔ میں نے آسمان کی طرف دیکھا،سورج تو ڈوب چکا تھا، مگر دل کے اندر ایک نئی روشنی طلوع ہو رہی تھی۔ مجھے محسوس ہوا کہ کسی قوم کی اصل خوشحالی اس کے بینکوں میں جمع دولت سے نہیں، بلکہ اس کے شہریوں کے کردار میں جمع ایمانداری سے ناپی جاتی ہے ۔ جب دیانت دار انسان معاشرے کے ہیرو بن جائیں، جب سچ بولنے والے شرمندہ نہیں بلکہ قابل فخر سمجھے جائیں، جب حلال رزق کو کامیابی اور حرام کمائی کو ناکامی سمجھا جانے لگے ، تب صرف افراد نہیں، پوری تاریخ بدل جاتی ہے ۔ پورا دن عجیب گزرا ۔ نہ کہیں ملاوٹ کی خبر سننے کو ملی، نہ کسی نے دوسروں کا حق مارنے پر فخر کیا، نہ کسی نے جھوٹ کو عقل مندی کا نام دیا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے معاشرے کی قدریں خاموشی سے بدل گئی ہوں۔ دولت اب بھی اہم تھی، لیکن عزت اس سے کہیں زیادہ قیمتی ہو چکی تھی۔ لوگ کسی کی گاڑی، بنگلہ یا لباس دیکھ کر متاثر نہیں ہوتے تھے ، بلکہ یہ پوچھتے تھے کہ اس کی کمائی کتنی پاکیزہ ہے ، اس کا کردار کتنا صاف ہے ، اس کے وعدے کتنے سچے ہیں۔یاد رہے ، ہر بڑی تبدیلی کسی قانون سے نہیں، ایک انسان کے فیصلے سے شروع ہوتی ہے ۔ اور جب ایک کے بعد دوسرا، دوسرے کے بعد تیسرا انسان ایمانداری کو اپنا شعار بنا لے ، تو پھر ایک ایسا معاشرہ جنم لیتا ہے جہاں ایمانداری محض ایک خوبی نہیں رہتی۔وہ فیشن بن جاتی ہے ۔
پھر اچانک میری آنکھ کھل گئی۔میں نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ وہی شہر تھا، وہی سڑکیں، وہی بازار، وہی دفتر، وہی لوگ۔ کہیں ملاوٹ تھی، کہیں جھوٹ تھا، کہیں سفارش تھی، کہیں رشوت کا سایہ تھا۔ ایک لمحے کے لیے دل بجھ سا گیا کہ شاید یہ سب صرف ایک خواب تھا،مگر اگلے ہی لمحے میرے ضمیر نے آہستہ سے کہا، خواب وہ نہیں جو نیند میں دیکھا جائے ، خواب وہ ہے جو انسان کو جاگتے ہوئے بدل دے ۔ میں مسکرا دیا۔شاید وہ دن آج نہیں آیا جب ایمانداری فیشن بن گئی ہو، مگر اس دن کے آنے سے پہلے ایک اور دن ضرور آئے گا۔وہ دن جب کوئی ایک دکاندار صحیح تول دے گا، کوئی ایک سرکاری ملازم رشوت لینے سے انکار کرے گا، کوئی ایک استاد نقل کے خلاف کھڑا ہوگا، کوئی ایک سیاست دان جھوٹے وعدے کرنے سے گریز کرے گا، کوئی ایک مزدور پورا کام ایمانداری سے کرے گا، اور کوئی ایک نوجوان آسان راستے کے بجائے درست راستہ منتخب کرے گا،قومیں ایک ہی دن میں نہیں بدلتیں۔ ان کی تقدیر اس لمحے بدلنا شروع ہوتی ہے جب اچھائی مذاق نہیں، معیار بن جائے ؛ جب دیانت داری کمزوری نہیں، طاقت سمجھی جائے ؛ جب کردار دولت سے بڑا سرمایہ قرار پائے ۔مجھے یقین ہے ، وہ صبح ضرور طلوع ہوگی۔ شاید ہماری زندگی میں، شاید ہماری آنے والی نسلوں کے دور میں۔ لیکن وہ صبح خود چل کر ہمارے دروازے پر نہیں آئے گی۔ ہمیں اپنے کردار کے چراغ جلانے ہوں گے ، کیونکہ اندھیروں کو کوسنے سے کبھی روشنی پیدا نہیں ہوتی۔
آئیے ، آج سے ایک عہد کرتے ہیں۔ ہم یہ انتظار نہیں کریں گے کہ پورا معاشرہ بدل جائے ، ہم خود بدلنے کا آغاز کریں گے ۔ ممکن ہے ابتدا میں لوگ ہمیں سادہ لوح سمجھیں، ہمارا مذاق اڑائیں یا ہمیں زمانے سے پیچھے رہ جانے والا قرار دیں۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ دنیا ہمیشہ اُن لوگوں نے بدلی ہے جنہوں نے ہجوم کی نہیں، اپنے ضمیر کی آواز سنی۔اور شاید اسی ایک قدم سے اس خواب کی تعبیر شروع ہو جائے ۔ وہ دن، جب ایمانداری صرف ایک خوبی نہیں رہے گی، بلکہ پورے معاشرے کا فیشن بن جائے۔
٭٭٭


