سندھ میں ترقیاتی کام داؤ پر، ٹھیکیداروں کا احتجاج کا اعلان
شیئر کریں
محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی 177اسکیموں کے لیے صرف ایک ہزار روپے مختص
75اسکیموں پر صفرپیسہ ،با اثر کنٹریکٹرز کی 40اسکیموں کے لیے سو فیصد بجٹ مختص
رواں مالی سال کے لیے ورکس اینڈ سروسز کے محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اور ایجوکیشن ورک کی ترقیاتی اسکیموں غیر مساوی فنڈ مختص اور خلاف ضابطہ کٹوتی کرکے سندھ بھر میں محکمہ کے ترقیاتی کاموں کو داو ٔپر لگادیا دیا گیاہے ۔ٹھیکیداروں کی نمائندہ تنظیم کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن آف سندھ نے ورکس اینڈ سروسز محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی ترقیاتی اسکیموں کے لیے مختص بجٹ پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے بھرپور احتجاج کا اعلان کردیا ہے ۔ رواں مالی سال کے بجٹ میں ورکس اینڈ سروسز کے محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی جاری 293 ترقیاتی اسکیموں میں سے 177اسکیموں کے لیے صرف ایک ہزار روپے مختص کیے گئے ہیں۔ 75اسکیموں کے لیے کوئی پیسہ نہیں رکھا گیا جبکہ 40ایسی اسکیموں کے لیے سو فیصد بجٹ مختص کیا گیا ہے جو کہ مخصوص بااثر کنٹریکٹرز کی ہیں، جبکہ ایجوکیشن ورکس کی جاری ترقیاتی اسکیموں میں 80سے 75فیصد کٹوتی کی گئی ہے ۔کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن آف سندھ کے جنرل سیکریٹری انجینئر اصغر علی کا کہنا ہے ورکس اینڈ سروسز کی ترقیاتی اسکیموں لیے مختص بجٹ نہ صرف چھوٹے تاجروں کا معاشی قتل ہے بلکہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اور ایجوکیشن ورکس کی تباہی ہے۔ ہم سے کہا جارہا ہے کہ وفاق سے فنڈ کم ملاہے اس لیے کٹوتی کی گئی ہے تاہم مخصوص کنٹریکٹرز کی اسکیموں کے لیے سو فیصد فنڈ مختص کیے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم اس نا انصافی کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے۔ اس سلسلے میں 22؍جولاِئی کو کراچی پریس کلب کے باہر احتجاج کیا جائے گا جس میں سندھ بھر سے ٹھیکیدار شرکت کریں گے۔
نمائندہ جرات


