میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
جہاز خریدا ہے بھئی!

جہاز خریدا ہے بھئی!

جرات ڈیسک
جمعه, ۱۰ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

ملک کے جمہوری نظام میں خواتین کو نظام کاحصہ بنانے کے لیے نشستیں مختص ہیں مگر کیونکہ انہوں نے ووٹ تو لینے نہیں ہوتے اوراگر قیادت سے قربت بھی ہو تو بلا خوف وخطر ایسی ایسی حرکتیں کرجاتی ہیں جس پر جماعت اور قیادت بھی شرمندہ ہوتی ہے۔

پنجاب کے پاس وافر وسائل ہیں اور وزیر اعلیٰ پنجاب کا وزیراعظم سے چچا بھتیجی کا رشتہ ہے، اسی لیے اُنھیں دیگر وزرائے اعلیٰ سے زیادہ اختیارات اور اہمیت حاصل ہیں ،جب وسائل ہوں تو بندے کا دل مچل ہی جاتا ہے کہ اُس کے پاس کچھ ایسا منفرد ہو تاکہ جو بھی دیکھے رشک کرے اور سراہے، اسی لیے پنجاب حکومت نے گیارہ ارب کاایک اور مزیدجہاز خرید لیا ہے، حالانکہ ضروریات کے لیے پہلے ہی اچھا طیارہ موجود ہے لیکن دل کیا کہ نئی اور منفرد چیز ہو لہٰذاغریب عوام کے خون پسینے کی کمائی کے گیارہ ارب روپے سے دل خوش کرلیا ۔

مختلف مکاتبِ فکر نے تنقید کی تو مخصوص نشستوں کے ذریعے وزیر اطلاعات بننے والی عظمیٰ بخاری نے ابتدا میں بتایا کہ طیارہ ایمرجنسی میں ضرورت مندوں کی مددکے لیے خرید اگیا ہے حالانکہ اِتنا پُرتعیش طیارہ دنیا کے امیر ترین ممالک کے حکمرانوں کے پاس ضرورہوتاہے، بطورفضائی ایمبولینس استعمال نہیں ہوتاجب یہی نُکتہ بار بار اُٹھایا گیا نیز طیارہ آسٹریا کے شہر ویانا تک حکومتی مسافر لیکر چلا گیاتو موقف میں تبدیلی کرتے ہوئے بتایا گیا کہ طیارہ کبھی کبھار وزیرِ اعلیٰ بھی استعمال کرلیاکریں گی جوکہ اب مکمل طورپر وزیر اعلیٰ کی صوابدیدپر ہے جس سے اتنی تو وضاحت ہوگئی ہے کہ ایمرجنسی کے استعمال والا جھوٹ محض تنقیدی حلقوں کومطمئن کرنے کے لیے بولا گیا مگر کیونکہ صوبائی وزیر اطلاعات نے عوام کے پاس جاکر ووٹ تو لینے نہیں ،وہ مخصوص نشستوں کے ذریعے صوبائی اسمبلی میں آئی ہیں۔نیز وزیر اعلیٰ کی بھی چہیتی ہیں اسی لیے بار بار جھوٹ بولنے پر شرمندہ نہیں، بلکہ کارنامہ سمجھ کرنجی محافل میں فخر یہ سناتی ہیں۔ اب یہ معلوم نہیں کہ اپنے والد کی طرف سے لاہورمیں دوپاکستانیوں کو قتل کرنے والے ریمنڈ ڈیوس کی وکالت پربھی اُنھیں کچھ فخرہے یا نہیں ۔

مثل مشہور ہے کہ ایک جھوٹ چھپانے کے لیے مزید سو جھوٹ بولنے پڑتے ہیں۔ ایسا ہی کچھ پنجاب حکومت سے ہورہا ہے۔ حزبِ مخالف سمیت کئی سنجیدہ لوگ بھی طیارہ خریدنے کے اقدام پر وزیرِ اعلیٰ مریم نوازکو ہدفِ تنقید بنارہے ہیں مگر وزیرِ اعلیٰ کیونکہ خودکم ہی ایوان میں جلوہ افروز ہوتی ہیں،اسی لیے تنقید کرنے والوں کا منہ بندکرنے کی ذمہ داری اُن کی ساتھی خواتین کے پاس ہے۔ ابھی گزشتہ دنوں جب پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں طیارہ خریدنے پر سوالات ہوئے تو سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے رعونت وتکبر سے کہہ دیاکہ طیارہ خریداہے بھئی۔ یہ درست جواب نہیں تھا بلکہ اعترافِ جُرم تھا ،اِس غیر متوقع جواب پر حزبِ مخالف نے شدید تنقید کی تو مریم اورنگزیب نے عمران خان دورمیں پچاس روپے میں طیارہ چلانے کی کہانی سنادی۔ مزید باعث ِشرم یہ تھا کہ اسپیکرسمیت حکومتی نشستوں پربراجمان اراکین نے اعترافِ جُرم پر ہنس کراپوزیشن کا مزاق اُڑایا، جب بندہ بے وقوفی کرے اور اپنی بے وقوفی پر اَڑ جائے تو ایسا ہی ہوتا ہے جو طیارہ خریدنے کے سوال پر پنجاب میں ہورہا ہے۔ ڈھٹائی سے کہا جاتا ہے جہاز خرید اہے بھی۔ حزبِ مخالف والو،کرلو جو کرنا ہے۔ ہم تو ایسی حرکتوں سے باز آنے والے نہیں ۔

پنجاب میں شہداور دودھ کی نہریں نہیں بہہ رہیں یہاں بھی غربت عام ہے زراعت و صنعت تباہی سے دوچارہے جس سے مہنگائی اور بے روزگاری بڑھتی جارہی ہیں مگرلگتاہے حکمرانوں کو صورتحال کا ادراک تک نہیں ،وہ جرم کرتے ہیں اور کوئی جواب طلبی پر فخرسے کہہ دیتے ہیں کہ ہاں کیا ہے۔ پنجاب میں ایسا شاہانہ اندازِ حکومت ہے جس کی ترجیحات اپنی ذات کے سواکچھ نہیں کیونکہ کنیز گروپ نے عوام سے جاکر براہ راست ووٹ تو لینے نہیں۔ اسی لیے عوام مسائل سے لاتعلق ہیں۔ انھوں نے جماعت کی طرف سے خیرات میں ملنے والی نشستوں کے ذریعے اسمبلی میں جا کر بیٹھ جانا ہوتا ہے۔ اسی لیے منظورِ نظر کے عہدہ پر فائز رہنے کے لیے انجمن ستائش ِ باہمی بناکر قیادت کو مطئمن کرنے کی کوشش میں ہیں مگر افسوس تو اِس پر ہے کہ مریم نواز کا تعلق تو سیاسی گھرانے سے ہیں جس کے والد وزیرِ اعظم رہ چکے۔ چچا شہباز شریف دوسری بار وزیرِ اعظم کے منصب پر ہے اِس کے باوجود جانے کیوں سازشوں سے بے خبر ہیں؟ انھیں سمجھنا چاہیے کہ کنیز گروپ کو تو صرف اپنے مفادسے غرض ہے جماعت یا قیادت جائے بھاڑ میں ۔انھیں کیاسروکار؟
جنوبی پنجاب میں اکثریت کو پینے کاصاف پانی میسر نہیں۔ پنجاب میں سرکاری اسکول نجی تحویل میں دیکر اخراجات بچائے جارہے ہیں جس سے تعلیم مہنگی اور عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوچکی۔ صحت کی سہولتوں پر بات کرنا اِس لیے مناسب نہیں کہ یہاں اب ڈاکٹر بھی دیہاڑی دار کی طرح بھرتی کیے جاتے ہیں۔

تعلیم اور صاف پانی کے اخراجات بچا کر طیارہ خرید لیا گیا ہے جبکہ صحت کے نام پر چند گاڑیاں سڑکوں پر دوڑا کر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکی جارہی ہے۔ ستھراپنجاب کے نام پر ہر ماہ اربوں روپیہ لوٹا جارہا ہے اور کوئی سوال پوچھے تودھڑلے سے کہہ دیا جاتا ہے کہ طیارہ خریداہے بھئی۔ ایسا سوال کسی اور جمہوری ملک میں پوچھا جاتا تو حکمران شرمندہ ہوتے اور رعوام سے معافی مانگ رہے ہوتے، مگر ہمارے ہاں عوام کے نام پر انھیں ہی بے توقیر کرنے کی روایت پختہ ہے اور مخصوص نشستوں سے اسمبلی آنے والاکنیز گروپ اپنی اہمیت بڑھانے اور دیہاڑیاں لگانے کے چکر میں اپنی ہی قیادت کو کھائی کی طرف دھکیل رہاہے جس کابظاہر لگتا ہے قیادت کو احساس نہیں اور کھائی میں گرتے ہوئے بھی کنیز گروپ پراعتمادہے ۔وگرنہ طیارہ خریداہے بھئی جیسے بے باکانہ اعتراف پر ضرورٍخفاہوتے اور دلیل سے جواب دینے کی ہدایات دیتے ۔مگر یہاں تو لگتا ہے اہل ِ دانش وحکمت پر کنیزگروپ حاوی ہے ۔جبکہ حکمران انھی کی سرپرستی کو ذمہ داری سمجھ بیٹھے ہیں ۔خیر یہاں اقتدارکوایک ایسا موقع ملنا تصور کیا جاتاہے جس میں عوامی خدمت کی بجائے بس لوٹ مار کرنی ہے۔ پیسہ بنانا ہے اورپھر ملک اور بیرونِ ملک جائیدادیں بنانی ہیں اوربازپُرس پر کنیز گروپ کو صفائی پیش کرنے کے لیے آگے کردینا حکمتِ عملی اور مہارت سمجھ لیا گیا ہے۔ یہی ملک اور صوبے کی اصل بدقسمتی ہے اور غربت بڑھانے کی اہم وجہ بھی۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں