میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
زیارت، پولیس چوکی پر مسلح افراد کا حملہ، 9 اہلکار شہید، 15 دہشت  گرد ہلاک

زیارت، پولیس چوکی پر مسلح افراد کا حملہ، 9 اہلکار شہید، 15 دہشت گرد ہلاک

جرات ڈیسک
منگل, ۷ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

پانچ اہلکاروں کو حملہ آور اپنے ساتھ  لے گئے، شہداء کی میتیں ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل

واقعہ کے خلاف زیارت کے شہریوں کا شدید احتجاج ، قومی شاہراہ ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند 

شہداء میں ایس ایچ اوز تھانہ منگی اور تھانہ کواس، اے ٹی ایف انچارج اور دیگر اہلکار شامل ہیں، شاہد رند

ڈی ایس پی غلام سرور سمیت 8 پولیس اہلکار بحفاظت تھانہ کاچ پہنچ گئے ،کانسٹیبل رضوان  بھی بحفاظت بازیاب 

امن دشمن دھشت گردوں کے سد باب تک ان کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے، وزیر اعظم

امن کی خاطر جانیں قربان کرنے والے شہداء ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں، وفاقی وزیر داخلہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بلوچستان کے ضلع زیارت کے علاقے مانگی میں پولیس کی چوکی پر مسلح دہشت گردوں کے حملے میں 9 اہلکار شہید ہو گئے

جس کے بعد کلیئرنس آپریشن کے دوران 15 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔

وزیراعظم شہبازشریف نے فتنہ الخوارج کی جانب سے پولیس چوکی پر دھشت گرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور حملے میں شہید ہونے والے ایس ایچ اوز سمیت پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا ہے ۔

انہوں نے واضح کیا ہے کہ کسی کو بلوچستان کے امن کو نقصان پہنچانے نہیں دیں گے، امن دشمن دھشت گردوں کے سد باب تک انکے خلاف جنگ جاری رکھیں گے۔

منگل کو ایس پی زیارت عبدالقدوس کے مطابق زیارت کے علاقے کچ مانگی فیز تھری میں دہشت گردوں نے پولیس چوکی پر حملہ کیا، دہشت گردوں کے حملے میں 9 پولیس اہلکار شہید ہوگئے، شہداء میں دو ایس ایچ اوز سمیت 9 اہلکار شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ شہداء میں ایس ایچ او مانگی محمد حسین اور ایس ایچ او کواس صحبت خان شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ رات سے دہشت گردوں اور پولیس کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ جاری تھا۔

ایس پی زیارت نے بتایا کہ شہید اہلکاروں کی لاشیں ڈی ایچ کیو ہسپتال زیارت منتقل کر دی گئیں۔ ایس پی زیارت عبدالقدوس نے بتایا کہ 5 اہلکاروں کو حملہ آور اپنے ساتھ لے گئے۔

واقعہ کے بعد علاقے میں سکیورٹی فورسز اور پولیس کی نفری بڑھا دی گئی ہے۔پولیس کے مطابق حملہ آوروں کی تلاش اور علاقے کی کلیئرنس کیلئے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔

دوسری جانب واقعہ کے خلاف زیارت کے شہریوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے زیارت کراس کے مقام پر قومی شاہراہ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دی جس کے باعث آمد و رفت معطل ہوگئی اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔

دریں اثناء وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کے معاون شاہد رند نے اس واقعے سے متعلق کہا کہ زیارت میں فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے خلاف کلیئرنس آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے، ایف سی، پولیس، سی ٹی ڈی، ایس او ڈبلیو اور اے ٹی ایف نے کلیئرنس آپریشن مکمل کیا۔

شاہد رند نے بتایا کہ فتنہ الخوارج کے دہشت گرد حملے میں پولیس کے 9 افسران و اہلکار شہید ہوئے، شہدا میں ایس ایچ اوز تھانہ منگی اور تھانہ کواس، اے ٹی ایف انچارج اور دیگر اہلکار شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈی ایس پی غلام سرور سمیت 8 پولیس اہلکار باحفاظت تھانہ کاچ پہنچ گئے ہیں جبکہ کانسٹیبل رضوان کو بھی بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا ہے۔

اسی دوران میں وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے زیارت میں فتنہ الخوارج کی جانب سے پولیس چوکی پر دھشتگرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حملے میں شہید ہونے والے ایس ایچ اوز سمیت پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا۔

وزیرِ اعظم نے شہداء کی بلندی درجات اور ان کے اہل خانہ کیلئے صبر کی دعاء کی ۔وزیر اعظم نے کہاکہ فتنہ الخوارج کے حملے نے ایک مرتبہ پھر سے ثابت کردیا کہ یہ لوگ بلوچستان کی ترقی و امن اور عوام کی خوشحالی کے دشمن ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ کسی کو بلوچستان کے امن کو نقصان پہنچانے نہیں دیں گے،امن دشمن دھشتگردوں کے سد باب تک انکے خلاف جنگ جاری رکھیں گے۔ اپنے بیان میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے زیارت میں بھارتی اسپانسرڈ دہشت گردوں کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرنے والے 9 پولیس اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔

محسن نقوی نے کہا کہ امن کی خاطر جانیں قربان کرنے والے شہداء ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں، شہداء کی لازوال قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔انہوںنے کہاکہ ایسے بزدلانہ حملے امن کو سبوتاژ نہیں کر سکتے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں