میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
مقبوضہ وادی میں منشیات کا بڑھتا ہوا پھیلاؤ

مقبوضہ وادی میں منشیات کا بڑھتا ہوا پھیلاؤ

ویب ڈیسک
بدھ, ۱ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

ریاض احمدچودھری

بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں وکشمیرمیں مودی کی بھارتی حکومت نے مظلوم کشمیریوں کے خلاف انسدادِ منشیات کی آڑ میں ریاستی نگرانی اور جبر کے اقدامات تیزکردیئے ہیں ، جس پر ماہرین اور مبصرین نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں بھارت کے غیر قانونی تسلط سے آزادی کی کشمیریوں کی حق پر مبنی جدوجہد کو بدنام کرنے اور تحریک خودارادیت کو غیر قانونی قرار دینے کیلئے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت منشیات سے جوڑا جا رہا ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ منشیات کے خلاف کارروائی کو ایک حکمت عملی کے طور پر استعمال کرتے ہوئے کشمیری نوجوانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور سیاسی اختلافِ رائے کو مجرمانہ سرگرمیوں سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے مودی حکومت متنازعہ قوانین جیسے” پی آئی ٹی این ڈی پی ایس ایکٹ ”اور جدید ٹریکنگ نظام متعارف کرارہی ہے۔بھارت ان کالے قوانین کو بطور ہتھیار استعمال کر کے مقبوضہ کشمیر کو ایک کھلی جیل میں تبدیل کر رہا ہے، جہاں منشیات کے خلاف کارروائی محض ریاستی نگرانی کا ایک بہانہ ہے۔ ان قوانین کے تحت کشمیری نوجوانوں کی جبری نظربندی دراصل تحریک آزادی کودبانے اور نوجوان نسل کو مجرم قرار دینے کی ایک سوچی سمجھی چال ہے جو پہلے ہی بھارت کے غیر قانونی قبضے کی وجہ سے پسماندگی کا شکار ہے۔ماہرین کے مطابق ان اقدامات کا مقصد نہ صرف شہری آزادیوں کو محدود کرنا بلکہ پوری آبادی کو ایک مسلسل نگرانی کے نظام کے تحت لانا ہے۔مقبوضہ وادی کشمیر میں پہلے ہی شدید خوف ودہشت اور عدم تحفظ کاماحول قائم ہے اور کشمیری نوجوانوں کی جبری گرفتاریوں کاسلسلہ جاری ہے۔
نیشنل کوآرڈینیشن میکانزم کے تحت مقبوضہ کشمیر کے تعلیمی اداروں اور زرعی شعبے کو بھی نگرانی کے دائرے میں شامل کیا جا رہا ہے۔ اسکولوں کو "احتیاطی تعلیم” کے نام پر نگرانی کے مراکز میں تبدیل کیا جا رہا ہے جبکہ زرعی شعبے میں مداخلت کے ذریعے دیہی آبادی کو متاثر کیا جا رہا ہے،تاکہ کشمیری کسانوں کو ان کے روزگار سے محروم کیاجاسکے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت مقبوضہ علاقے میں منشیات کے استعمال کو سکیورٹی کا ایک مسئلہ بنا کر پیش کرہی ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ مودی حکومت کی ان پالیسیوں سے خطے میں ایک سرویلنس اسٹیٹ کے قیام کی عکاسی ہوتی ہے، جہاں سماجی بہبود کے نام پر شہریوں کی زندگی کے ہر پہلو کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ صورتحال کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے اور انسانی حقوق کے اصولوں کے مطابق پالیسیوں کو ترتیب دیا جائے تاکہ مقبوضہ علاقے میں میں پائیدار امن اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔وادی کشمیر میں آج اْسی قوم کے جوانوں کو منشیات کا عادی بنایا جارہا ہے جن پر ہماری اْمیدیں وآبستہ تھیں کہ کل کو یہ جوان ہماری قوم کے قائد بنیں گے۔ مگر یہ نوجوان منشیات کی لت میں اس طرح پھنس گئے ہیں کہ کسی کو بھی نہیں معلوم کہ یہ کب اور کس جگہ نشے کی حالت میں اپنی جان گنوا بیٹھیں گے۔کشمیری نوجوانوں میں منشیات کا استعمال بڑی تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔ اگر اس کا تدراک بروقت نہ کیا گیا تو مستقبل قریب میں اس کا اثر پورے سماج کو دیکھنا پڑے گا۔ اور بعد میں ہمیں پچھتانے کے سوا کچھ حاصل نہیں پو گا۔
نوجوانوں میں منشیات کا اثر اس قدر سرایت کرچکا ہے کہ کشمیر میں ہزاروں ایسے نوجوان ہیں جو افیون، چرس، ہیروئین، کوکین، بھنگ، براؤن شوگر،گوند،رنگ پتلا کرنے والے محلول اور دوسرے معلوم اور نامعلوم نشہ آور مرکبات استعمال کرنے کے نتیجے میں جسمانی نفسیاتی اور جذباتی امراض کا شکار ہو چکے ہیں۔اتنا ہی نہیں بلکہ ایسے نوجوانوں کی تعدادبھی کثرت سے ملتی ہیں جو فارما سیوٹیکل ادویات کو بھی اب نشے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔اور یہ عمل دوسری ادویات یا منشیات استعمال کرنے سے زیادہ خطرناک ہے۔کشمیر کے بعض علاقوںمیں جان بوجھ کروہاں کی نوجواں نسل کوبربادکرنے کے لئے بھارتی فورسز منشیات کے پھیلائوکا حربہ استعمال کر رہی ہیں تاکہ نوجوان نسل کومنشیات کی لت پڑے اوروہ اسی میں لگے رہیںانہیں اپنی اوراپنے قوم کی فکر دامن گیر نہ رہے اوروہ اس طرف دیکھنے یاسوچنے کے قابل نہ رہیں۔اس کے ساتھ ساتھ بعض علاقوں میںحالات کا جبر،بڑھتی ہوئی بے روزگاری اورروزافزوں مہنگائی بھی اس کا باعث بن رہی ہے،جبکہ منشیات کے استعمال کی ایک اہم اور بنیادی وجہ دین سے دوری اورتعلیمات دین پرمشتمل نسخہ ہائے کیمیاسے اجتناب اور نشہ آور اشیا کے استعمال کے نقصانات اور وعیدوں سے بے خبری ہے۔ لیکن سب سے افسوس سناک امریہ ہے کہ اس وقت منشیات کے استعمال کے بارے میں ہم بعض افسوس ناک مخمصوں میں مبتلا ہیں۔کشمیر پولیس کاکہنا ہے کہ وادی کشمیر میں حریت مجاہدین کی جانب سے منشیات کو فروغ دیا جارہا ہے۔جبکہ مجاہدین نے الزام پولیس پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ایجنسیاں کشمیری نوجوانوں کو ایک ”خاص مقصد سے” منشیات کا عادی بنانا چاہتی ہیں۔حالیہ دنوں میں پولس نے منشیات سمگلروں کے کئی گروہوں کو بے نقاب کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے انکے تار مجاہدین کے ساتھ جوڑنے کی کوششیں تک کی ہیں تاہم شمالی کشمیر کی ایک نامور کراٹے چمپئین کا یہ الزام بھی تازہ ہے کہ پولس اور منشیات اسمگلروں کا ساز باز ہے۔ مذکورہ نے پولیس پر انکے چھوٹے بھائی کو منشیات کا عادی بنانے والے مجرموں کو تحفظ دینے تک کا الزام لگایا ہے۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں