میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سی سی ڈی کوقاتل نہ بنائیں !

سی سی ڈی کوقاتل نہ بنائیں !

ویب ڈیسک
اتوار, ۲۱ جون ۲۰۲۶

شیئر کریں

حمید اللہ بھٹی

شہریوں کاتحفظ ریاستی ذمہ داری ہے، یہ تحفظ ہی شریف شہریوں کو اعتماد دیتا ہے کہ بلاخوف وخطر معمولاتِ زندگی گزاریں ۔شہریوں کو
اگر خوف ہوتا ہے تو جرم پر قانونی گرفت کا ہوتا ہے مگر پنجاب میں چند برس سے صورتحال خوفناک اور افسوسناک ہے لوگ خود کو محفوظ سمجھنے کی
بجائے خوف وہراس کا کاشکار ہیں۔ اِس کی اہم اور بڑی وجہ سی سی ڈی کے نام سے معرضِ وجود میں آنے والا پولیس کا نیا شعبہ ہے جس کا
دعویٰ ہے کہ لوگوں کو تحفظ دینے کے لیے جرائم پیشہ لوگوں سے دھرتی صاف کردیں گے لیکن کیا عملی طورپر بھی ایسا ہورہاہے؟بادی النظر میں
ہاں نہیں کہہ سکتے کیونکہ سی سی ڈی کی کارروائیاں صرف پنجاب تک محدود نہیں رہیں بلکہ مختلف مقدمات میں نامزد لوگوں کو بیرونِ ملک سے
گرفتارکرنے اورملک میں لا کر مارنے جیسا کام ہونے لگا ہے اور جو سرنڈر کرتے ہوئے خود پیش ہوجاتے ہیں۔ انھیں بھی عدالتی احکامات
کے باوجودمارنامعمول ہے۔ اب تو اِس نئے محکمے کی بدنامیوں کے چرچے بیرونِ ملک بھی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ قانون اور عدالتوں کی
موجودگی میں کسی محکمے کو بندے مارمُہم کی اجازت دی جا سکتی ہے ؟کیا یہ پولیس اورنظام ا نصاف پر عدمِ اعتماد نہیں؟کیا یہ نظامِ انصاف کا
متبادل نہیں؟اگر درج بالا سوالات کاجواب ہاں میں ہے تو مجھے کہنے دیجیے کہ عوام اور موجودہ حکمران دونوں کامستقبل اچھا نہیں کیونکہ محاسبے
کے بغیر دی جانے والی طاقت آخر کارسرپرستوں کے لیے بھی وبالِ جان ضرور بنتی ہے۔
چکوال میں نوبرس کی معصوم ہانیہ کے ساتھ جو ہوا وہ ہولناک،تشویشناک اور قابلِ مذمت ہے۔ ستم ظریفی تو یہ کہ گھرکاسربراہ عدیل احمد
اپنی معصوم بیٹی کی حفاظت نہ کر سکا خیرتحفظ کیا دیتا وہ اپنے بیٹے کے ساتھ خود بھی شدید زخمی خون میں لت پت تڑپ رہا تھا۔ اِس کے باوجود
گاڑی بھگا کر اپنے چھوٹے سے خاندان کو بچانے کی کوشش کی لیکن باپ کی آنکھوں کے سامنے بیٹی گولیوں سے چھلنی کردی گئی ۔گاڑی کی
تصویر دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ فائرنگ کرنے والا جنونی تھا جس نے اندھادھند فائرنگ سے دہشت پھیلاکر جس طاقت کا اظہارکیا
وہ پاکستان سے لیکر آسٹریلیا تک بدنامی کا اشتہار بن چکی ہے ۔آسٹریلین حکومت نے قتل کی وضاحت طلب کی ہے، اسی بناپرتو پہلی بار سی سی
ڈی کے قاتلوںکومشکل صورتحال کا سامنا ہے ۔سوال ہے کہ اگر مقتولہ ہانیہ آسٹریلیا کی رہائشی نہ ہوتی تو کیا پولیس آفیسران پریس کانفرنس کی
زحمت کرتے صفائیاں دیتے؟ پُرسہ کے لیے سہیل ظفرچٹھہ لواحقین کے گھر جاتے؟کبھی نہیں۔بلکہ یہ قتل بھی کوئی من گھڑت کہانی سناکر
داخل دفتر کردیا جاتا۔بیرونی دبائوپرہی اب قاتل سپاہی کوسزائے موت دینے کی یقین دہانی کرائی جارہی ہے جس صوبے میں ساہیوال
سانحہ کے ملزمان باعزت رہا ہوجائیں ،وہاں معصوم ہانیہ کوکیااہمیت ملتی ؟ حیران کُن پہلویہ کہ سانحہ ساہیوال میں رائے طاہر کو سربراہ ہونے
کی بناپر منصب سے ہٹا دیا گیا لیکن سانحہ چکوال پر ایسی کوئی کارروائی نہیں کی گئی، حالانکہ سہیل ظفر چٹھہ کے پاس ڈی جی اینٹی کرپشن کا عہدہ
بھی ہے ۔لہٰذا سی سی ڈی کے عہدہ سے ہٹائے جانے سے بھی خاص متاثر نہ ہوتے لیکن حکومتی چہیتے ہونے پر تمام تر خرابیوں کے باوجود
دونوںعہدوں پر برقرارہیں۔آسٹریلیاایک مہذب ملک ہے جہاں پولیس بندے نہیں مارتی اور نہ ہی پولیس کے پاس لامحدوداختیارات
ہوتے ہیں۔ پولیس صرف شہریوں کے جان و مال کی محافظ ہوتی ہے، اسی لیے آسٹریلین حکومت حیران ہے اورسی سی ڈی سے پوچھ رہی ہے
کہ ہمارے شہری کوکِس جرم میں موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا،قتل ہونے والی معصوم بچی کے متعلق سی سی ڈی جرائم پر مبنی کہانی بھی نہیں سنا
سکتی۔
کسی اور ملک میں چکوال جیسا سانحہ ہوتا تو پولیس سربراہ سمیت حکومت کے لیے بے شمار مسائل پیدا ہوچکے ہوتے ۔سول سوسائٹی
مظاہرے کررہی ہوتی۔ لیکن ایک غیرملکی شہری کو سرِ عام ماردیا گیا ہے مگر پولیس یا حکمرانوں کو احساس تک نہیں۔ سہیل ظفر چٹھہ بھی لواحقین کو
مطمئن کرنے کے لیے مقتولہ کی قبر پر جاتے ہیں اور انصاف دلانے کا وعدہ کرتے ہیں ،یہ نااہلی ہے۔ اختیارات کی انتہا ہے کہ کسی کو محاسبے کا
کوئی خوف نہیں بلکہ خودکوہی قانون اور عدالت سمجھ لیاگیا ۔اُن کے خیال میں خونِ خاک نشیناں بس رزقِ خاک ہواہے اِورکچھ نہیں۔
حج سے واپس آنے والے عدیل احمد بیوی بچوں کے ساتھ اپنے کرائے کی گاڑی میں سسرال دعوت پر آتا اور منزل کے قریب گاڑی
روکتاہے تو جانے کہاں سے موٹر سائیکل پر سواردوافراد سامنے آجاتے ہیں اور پستول دکھاکر نقدی و زیورات دینے کا مطالبہ کرتے ہیں ۔
اِس کارروائی کوسی سی ڈی کے اہلکارنے دیکھ لیا اور ڈکیتی روکنے کی کوشش کی مگر ڈاکوئوں کی بجائے متاثرہ خاندان کی گاڑی کو ہی چھلنی کردیا بعد
میں بقول سی سی ڈی ڈاکو بھی فرار کردیے گئے مگر اندھا دھند فائرنگ سے پولیس کے نئے شعبے کی کمزرویاں اور خامیاں اُجاگر ہوئی ہیں۔ بے
پناہ اختیارات دینے سے قبل تربیت کو غیر ضروری تصورکیا گیا ۔جدید تکنیکی تربیت کی جاتی تو سی سی ڈی ڈیتھ اسکواڈآج صفائیاں نہ دے رہا
ہوتا ۔اگر گاڑی میں مجرم ہونے کا شک تھا تو پھر بھی ٹائروں کو نشانہ بنایا جاتا لیکن گاڑی کی تصویر دیکھ کر صاف پتہ چلتا ہے کہ شعبہ سی سی ڈی
کے خیال میںمجرم کو گرفتار کرنے کی بجائے قتل کرنا زیادہ ضروری ہے۔
ہر کام کے کچھ اصول اور قواعدوضوابط ہوتے ہیں مگر ایسا لگتا ہے کہ سی سی ڈی قواعد ضوابط سے بالاترہے۔ یہ واحد ایسا شعبہ ہے جو خلاف
خبر لگانے والے صحافی کے خلاف بھی انتقامی کارروائیاں کرتا ہے ،ہر پولیس مقابلے کی ایک کہانی بیان کی جاتی ہے کہ ملزم کو برآمدگی کے لیے
لے جارہے تھے کہ راستے میں اُس کے ساتھیوں نے حملہ کر دیاجس میں گرفتار ملزم ہلاک ہوگیا۔ کبھی کسی مقابلے میں سی سی ڈی اہلکاروں کو
خراش تک نہیں آتی جس سے بیان کی جانے والی کہانی لغو وبے بنیاد ثابت ہوتی ہے۔ اگر چند لمحوں کے لیے تصوربھی کر لیا جائے کہ ملزم کے
ساتھیوں نے حملہ کیا تو سی سی ڈی کو اپنے اندرکی کالی بھیڑوں کوبے نقاب کرنا چاہیے جو ہر کارروائی کو قبل از وقت طشت ازبام کرکے خطرات
پیداکرتے ہیں ۔یہ درست ہے کہ مارے جانے والے اکثر جرائم پیشہ اور خوف کی علامت تھے لیکن جب قانون اور نظامِ انصاف موجود ہے
تو کسی شعبے کو قتل کرنے کی اجازت دینا نظامِ انصاف پر عدمِ اعتماد اور مذاق ہے۔ اب تو ہاف فرائی اور فُل فرائی جیسی اصطلاحات استعمال کی
جانے لگی ہیں جو دیدہ دلیری کی انتہا ہے اور اِس شعبے کی سرپرستی کرنے والے طاقتور ہاتھوں کی طرف اِشارہ کرتے ہیں مگر سی سی ڈی کو قاتل
نہ بنایاجائے کہیں ایسا نہ ہوکہ یہ محکمہ جرائم کی آماجگاہ بن جائے ۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں