میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
نظامِ فاروقِ اعظم اور عصرِ حاضر

نظامِ فاروقِ اعظم اور عصرِ حاضر

ویب ڈیسک
جمعه, ۱۹ جون ۲۰۲۶

شیئر کریں

محمد آصف

اسلامی تاریخ میں حضرت عمر بن خطاب، جنہیں فاروقِ اعظم کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے ، ایک عظیم مدبر، عادل حکمران اور بے مثال
منتظم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آپ کا دورِ خلافت اسلامی ریاست کے استحکام، عدل و انصاف، انتظامی اصلاحات اور فلاحِ عامہ کے حوالے
سے ایک سنہری دور سمجھا جاتا ہے ۔ آج جب دنیا مختلف سیاسی، معاشی اور سماجی مسائل سے دوچار ہے ، تو نظامِ فاروقی کا مطالعہ نہ صرف
تاریخی اہمیت رکھتا ہے ،بلکہ عصرِ حاضر کے لیے بھی ایک مؤثر اور قابلِ عمل نمونہ فراہم کرتا ہے ۔ حضرت عمر نے اپنی حکمرانی کے دوران جو
اصول متعین کیے ، وہ آج بھی اچھی حکمرانی، قانون کی بالادستی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
حضرت عمر فاروق کا نظام بنیادی طور پر قرآن و سنت کی تعلیمات پر قائم تھا۔ آپ کا یقین تھا کہ حکمران عوام کا خادم ہے ، مالک نہیں۔
اسی تصور نے آپ کے دورِ حکومت کو عوام دوست اور فلاحی ریاست کی شکل دی۔ آپ نے اقتدار کو ذاتی مفاد یا شان و شوکت کا ذریعہ بنانے
کے بجائے ایک امانت سمجھا اور اس امانت کو پوری دیانت داری کے ساتھ نبھایا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی حکومت میں عام شہری اور حکمران
کے درمیان مساوات کا تصور عملی شکل میں نظر آتا تھا۔
نظامِ فاروقی کی سب سے نمایاں خصوصیت عدل و انصاف تھی۔ حضرت عمر نے قانون کی نظر میں سب کو برابر قرار دیا۔ نہ کسی امیر کو
رعایت دی جاتی تھی اور نہ کسی غریب کے ساتھ زیادتی برداشت کی جاتی تھی۔ ایک مرتبہ ایک عام شخص نے گورنر کے خلاف شکایت کی تو
حضرت عمر نے بغیر کسی تعصب کے اس کی بات سنی اور انصاف فراہم کیا۔ یہ طرزِ عمل اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ آپ کے نزدیک انصاف
ریاست کی بنیاد تھا۔ عصرِ حاضر میں جب دنیا کے کئی ممالک کرپشن، اقربا پروری اور طبقاتی امتیاز کا شکار ہیں، نظامِ فاروقی کا یہ پہلو خاص طور
پر قابلِ تقلید ہے ۔
حضرت عمر نے انتظامی اصلاحات کے میدان میں بھی غیر معمولی خدمات انجام دیں۔ آپ نے اسلامی ریاست کو مختلف صوبوں اور
اضلاع میں تقسیم کیا اور ہر علاقے کے لیے ذمہ دار افسر مقرر کیے ۔ ان افسران کی کارکردگی کی مسلسل نگرانی کی جاتی تھی تاکہ عوام کے حقوق
محفوظ رہیں۔ اگر کسی گورنر کے خلاف شکایت موصول ہوتی تو اس کی مکمل تحقیقات کی جاتیں۔ یہ احتسابی نظام اس قدر مؤثر تھا کہ سرکاری
اہلکار عوام کے ساتھ زیادتی کرنے سے خوف محسوس کرتے تھے ۔ موجودہ دور میں شفافیت اور احتساب کو اچھی حکمرانی کی بنیاد سمجھا جاتا ہے ،
جبکہ حضرت عمر نے چودہ سو سال قبل ہی اس اصول کو عملی جامہ پہنا دیا تھا۔
معاشی میدان میں بھی نظامِ فاروقی ایک مثالی نمونہ پیش کرتا ہے ۔ حضرت عمر نے بیت المال کو مضبوط اور منظم ادارہ بنایا جہاں ریاستی
آمدنی جمع کی جاتی اور عوامی فلاح و بہبود پر خرچ کی جاتی تھی۔ زکوٰة، خراج اور دیگر محصولات کو منظم انداز میں جمع کرکے مستحق افراد تک پہنچایا
جاتا تھا۔ یتیموں، بیواؤں، معذوروں اور ضرورت مندوں کی کفالت ریاست کی ذمہ داری سمجھی جاتی تھی۔ آج کی فلاحی ریاستوں کا تصور بھی
اسی اصول کے گرد گھومتا ہے کہ حکومت اپنے شہریوں کی بنیادی ضروریات پوری کرے ۔ اس لحاظ سے نظامِ فاروقی جدید ویلفیئر اسٹیٹ کا
ایک ابتدائی اور کامیاب نمونہ قرار دیا جا سکتا ہے ۔
حضرت عمر کی حکومت میں انسانی حقوق کو بھی بڑی اہمیت حاصل تھی۔ آپ نے غیر مسلم شہریوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا اور انہیں مذہبی
آزادی فراہم کی۔ اسلامی ریاست میں رہنے والے تمام افراد کو جان و مال کے تحفظ کی ضمانت دی گئی۔ یہ طرزِ حکمرانی اس بات کا ثبوت ہے
کہ اسلام انصاف اور رواداری کا دین ہے ۔عصرِ حاضر میں جب مذہبی تعصب اور نسلی امتیاز عالمی سطح پر مسائل پیدا کر رہے ہیں، نظامِ
فاروقی بین المذاہب ہم آہنگی اور انسانی احترام کا بہترین نمونہ پیش کرتا ہے ۔
نظامِ فاروقی کی ایک اور اہم خصوصیت عوامی خدمت کا جذبہ تھا۔ حضرت عمر راتوں کو مدینہ کی گلیوں میں گشت کرتے اور عوام کے حالات
معلوم کرتے تھے ۔ ایک مرتبہ آپ نے ایک عورت کو اپنے بچوں کے ساتھ بھوک کی حالت میں دیکھا تو فوراً بیت المال سے سامان لے کر
خود اس کے گھر پہنچایا۔ یہ واقعہ حکمران کی ذمہ داری اور عوام کے ساتھ ہمدردی کا اعلیٰ نمونہ ہے ۔ موجودہ دور میں اکثر حکمران عوام سے دور
رہتے ہیں، جبکہ حضرت عمر کا طرزِ عمل یہ سکھاتا ہے کہ کامیاب قیادت وہی ہے جو عوام کے مسائل کو خود محسوس کرے ۔
تعلیم اور علم کے فروغ میں بھی حضرت عمر نے نمایاں کردار ادا کیا۔ آپ نے مختلف علاقوں میں تعلیمی مراکز قائم کیے اور قرآن و سنت کی
تعلیم کو عام کیا۔ علم کو معاشرے کی ترقی کا ذریعہ سمجھا گیا اور اہلِ علم کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ آج کے دور میں بھی ترقی یافتہ قومیں تعلیم کو اپنی ترقی
کی بنیاد قرار دیتی ہیں۔ اس اعتبار سے نظامِ فاروقی جدید تعلیمی پالیسیوں کے لیے بھی رہنمائی فراہم کرتا ہے ۔
دفاعی اور خارجہ امور میں حضرت عمر کی حکمتِ عملی بے مثال تھی۔ آپ نے ایک منظم فوجی نظام قائم کیا، فوجیوں کے وظائف مقرر کیے اور
سرحدوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے ۔ تاہم جنگ کو مقصد نہیں بلکہ امن کے قیام کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔ آپ کی قیادت میں اسلامی
ریاست نے نہ صرف اپنی سرحدوں کو محفوظ بنایا بلکہ عدل و انصاف کی بنیاد پر مختلف اقوام کے ساتھ تعلقات استوار کیے ۔ عصرِ حاضر میں
عالمی امن، سفارت کاری اور قومی سلامتی کے حوالے سے بھی نظامِ فاروقی قابلِ مطالعہ اور قابلِ تقلید ہے ۔
عصرِ حاضر میں جب دنیا معاشی عدم مساوات، سیاسی بدعنوانی، انتظامی کمزوری اور اخلاقی زوال جیسے مسائل کا سامنا کر رہی ہے ، تو نظامِ
فاروقی ایک مؤثر حل کے طور پر سامنے آتا ہے ۔ اگر حکمران طبقہ دیانت داری، جوابدہی، عدل اور عوامی خدمت کے اصولوں کو اختیار کرے تو
معاشرے میں امن، ترقی اور خوشحالی پیدا ہو سکتی ہے ۔ حضرت عمر کا نظام ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ریاست کی کامیابی کا راز طاقت یا دولت میں
نہیںبلکہ انصاف، امانت اور عوامی فلاح میں پوشیدہ ہے ۔
مختصراً، نظامِ فاروقِ اعظم اسلامی تاریخ کا ایک روشن باب ہے جو ہر دور کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے ۔ یہ نظام عدل، مساوات،
احتساب، فلاحِ عامہ، انسانی حقوق اور دیانت دار قیادت جیسے اعلیٰ اصولوں پر مبنی تھا۔عصرِ حاضر میں ان اصولوں کو اپنانے سے نہ صرف مسلم
معاشرے بلکہ پوری دنیا میں بہتر حکمرانی اور پائیدار ترقی کی راہیں ہموار ہو سکتی ہیں۔ حضرت عمر فاروق کی شخصیت اور نظامِ حکومت آج بھی
اس حقیقت کی یاد دلاتے ہیں کہ ایک عادل حکمران پوری قوم کی تقدیر بدل سکتا ہے اور ایک منصفانہ نظام معاشرے کو امن، استحکام اور خوشحالی
عطا کر سکتا ہے ۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں