میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں

ویب ڈیسک
هفته, ۱۳ جون ۲۰۲۶

شیئر کریں

 

پرانے منصوبوں میں پانی فراہمی کے منصوبے کے فور کے لئے 10ارب اور کراچی اربن انفرا اسٹرکچر کے لئے 7ارب 50کروڑ روپے مختص، حیدرآباد سکھر موٹر وے پر 30ارب روپے خرچ ہونگے

آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کوئٹہ چمن روڈ کے لئے 3؍ارب روپے رکھے گئے ، کراچی گرین لائن کے لئے تقریبا ً2 ارب اور کراچی آئی ٹی پارک کے لئے 3ارب 74 کروڑ روپے مختص

وفاقی بجٹ میں کراچی نظر انداز، کوئی بھی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں کیا گیا، پانی فراہمی کے منصوبے کے فور کے لئے 10ارب روپے اور کراچی اربن انفرا اسٹرکچر کے لئے 7ارب 50کروڑ روپے مختص، حیدرآباد سکھر موٹر وے پر 30 ارب روپے خرچ ہونگے ۔ جرأت کی رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کوئٹہ چمن روڈ کے لئے 3؍ارب روپے رکھے گئے ہیں، کراچی گرین لائن کے لئے تقریبا ً2 ارب اور کراچی آئی ٹی پارک کے لئے 3ارب 74 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ جبکہ سندھ میں قومی شاہراہ این فائیو کے لئے رقم مختص نہیں ہوئی۔ کراچی حیدرآباد نئے موٹر وے کی فزیبلٹی کے لئے 7کروڑ 50 لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ سندھ کوسٹل ہائی وے کے لئے 24ارب 96کروڑ روپے رکھے گئے ہیں، مہران ہائی وے کے لئے 21ارب اور سانگھڑ۔ سکھر روڈ کے لئے 13ارب روپے مختص ہوئے ہیں۔ تھر کے کوئلے تک ریلوے لائن بچھانے کے لئے 2ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ کراچی اربن انفرا اسٹرکچر کے لئے 7ارب 50 کروڑ، حیدرآباد کے لئے ڈھائی ارب روپے مختص ہوئے ہیں۔ماہرین نے حیرت ظاہر کی ہے کہ کراچی شہر اور سندھ کے اہم ترین صوبے کے لیے وفاق کی جانب سے بجٹ میں کوئی خاص توجہ نہیں کی گئی اور صرف پرانے منصوبوں کے لیے بھی ناکافی رقوم مختص کی گئی ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں