میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
امریکہ مخالف بھارت ، روس تعلقات

امریکہ مخالف بھارت ، روس تعلقات

ویب ڈیسک
جمعه, ۱۲ جون ۲۰۲۶

شیئر کریں

ریاض احمدچودھری

بھارت کو اپنی آزاد خارجہ پالیسی پر ہمیشہ فخر رہا ہے۔ لیکن دہلی حکومت کا اصل امتحان یہ ہے کہ کیا یہ امریکہ کے ساتھ بگڑتے تعلقات کا بوجھ برداشت کر پائے گی یا نہیں۔کچھ عرصہ قبل چین میں منعقد شنگھائی کانفرنس میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو سوشل میڈیا پر ایک تصویر میں چین کے صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے ساتھ دیکھا گیا۔ مودی کا چین کا حالیہ دورہ ایسے وقت میں ہوا جب امریکہ اور بھارت کے تعلقات میں تناؤ بڑھ رہا ہے۔ اس کے پس منظر بھارتی مصنوعات پر امریکہ کی جانب سے پچاس فیصد تک ٹیکس کا لاگو ہونا ہے۔ بھارت کا چین میں ہونے والے اجلاس میں شرکت کرنا اور چینی اور روسی رہنماؤں سے ملاقاتیں کرنا دنیا کے لیے ایک مضبوط علامتی پیغام تھا کہ بھارت ایک بار پھر طاقتور ملکوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو متوازن کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ماضی میں چین اور بھارت کے درمیان سرحدی جھڑپوں ہوئیں جن کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات کئی سالوں تک کشیدہ رہے تھے مگر بھارت نے حالیہ مہینوں میں چین کے ساتھ بھی اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔ اس کے علاوہ مغربی ممالک کی تنقید کے باوجود بھارت نے روس کے ساتھ توانائی اور دفاعی تعاون بھی برقرار رکھا ہوا ہے۔بھارتی ماہرین کا چین اور روس کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کے حوالے سے کہنا ہے کہ یہ سب امریکہ سے دوری اختیار کرنے کے لیے نہیں بلکہ مختلف عالمی طاقتوں کے دباؤ کو بیلنس کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ بھارت کی سابق سفیر میرا شنکر کا کہنا ہے کہ بھارت ایک غیر یقینی صورتحال میں ‘کثیرالسمتی پالیسی اور اسٹریٹجک خودمختاری’ پر عمل کر رہا ہے۔ ان کے مطابق امریکہ کی جانب سے بھارت پر بھاری محصولات اور روسی تیل پر جرمانے نے نئی دہلی کو مجبور کیا ہے کہ وہ بڑے ممالک کے ساتھ تعلقات دوبارہ متوازن کرے۔
امریکہ اور بھارت کے تعلقات میں روس ایک بڑا تضاد ہے کیونکہ بھارت اپنی طویل دفاعی و سفارتی شراکت داری کی وجہ سے ماسکو سے مکمل قطع تعلق نہیں کر سکتا۔ واشنگٹن خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے نئی دہلی کا قریبی اتحادی ہے، تاہم بھارت امریکہ کے شدید دباؤ اور پابندیوں کے باوجود روس سے تیل اور ہتھیاروں کی خریداری جاری رکھے ہوئے ہے۔بھارت آج بھی اپنے دفاعی ساز و سامان کے لیے بڑی حد تک روس پر منحصر ہے۔امریکہ نے نئی دہلی پر براہ راست پابندیاں لگانے کے بجائے اسے دوستانہ انداز میں روس سے دور رہنے کی ترغیب دی ہے تاکہ بھارت اپنی سکیورٹی ضروریات کے لیے مغربی دفاعی ٹیکنالوجی کی طرف منتقل ہو سکے۔ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے بعد سے امریکہ اور بھارت کے تعلقات کو اس معاملے پر سخت امتحان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
بھارت کسی بھی عالمی بلاک کا مکمل حصہ بننے کے بجائے اپنی ‘آزاد خارجہ پالیسی’ پر عمل پیرا ہے۔نئی دہلی بیک وقت امریکہ کے ساتھ کواڈ (Quad) اتحاد کے ذریعے سٹریٹیجک تعلقات برقرار رکھتا ہے، اور دوسری طرف روس کے ساتھ برکس (BRICS) اور شنگھائی تعاون تنظیم کے فورمز پر قریبی سفارتی و تجارتی روابط قائم رکھے ہوئے ہے۔بھارت کی بنیادی ترجیح خطے میں چین کی جارحیت کا مقابلہ کرنا ہے، جس کے لیے وہ امریکہ کو اپنا اہم ترین شراکت دار سمجھتا ہے، لیکن وہ اپنی دہائیوں پرانی روس مخالف پالیسیوں میں واشنگٹن کا مکمل ساتھ دینے سے گریزاں ہے۔ لیکن روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سے ان دونوں کے تعلقات کو شدید دباؤ کا سامنا ہے۔بھارت کو اپنی آزاد خارجہ پالیسی پر ہمیشہ فخر رہا ہے۔ لیکن دہلی حکومت کا اصل امتحان یہ ہے کہ امریکہ کے ساتھ بگڑتے تعلقات۔ امریکہ اور بھارت کے تعلقات میں حالیہ تناؤ ابھرا ہے، خاص طور پر ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے روس سے تیل کی خریداری پر بھارت پر عائد ٹیرف کی وجہ سے، جس کے نتیجے میں دوہرے معیار کے الزامات لگتے ہیں۔
امریکی اسٹریٹجک آوازیں چین کے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے اور چین کو فائدہ اٹھانے سے روکنے کے لیے شراکت داری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے بھارت کے ساتھ تعلقات کو کمزور کرنے کے خلاف خبردار کرتی ہیں۔چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ وزیر اعظم مودی کی ملاقات اور ابھرتا ہوا ‘ڈریگنـایلیفنٹ ٹینگو’ امریکہ کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے جواب میں ہندوستان کی سفارتی رسائی کا مشورہ دیتا ہے۔ مضبوط شراکت داری اور تعاون کی تاریخ کے باوجود، بشمول سابق امریکی صدور کے اقدامات، حال ہی میں تجارتی تنازعات اور پاکستان کے تئیں نرم روی کی وجہ سے تعلقات خراب ہوئے ہیں۔امریکی تجارتی نمائندے کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت سمیت متعدد بڑے تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد اضافی ٹیرف عائد کرنے کی سفارش کی گئی ہے جبکہ برطانیہ، یورپی یونین، کینیڈا اور میکسیکو سمیت کئی ممالک پر 10 فیصد اضافی ڈیوٹی کی تجویز دی گئی ہے۔رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ اقدام ”جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات” کی عالمی تجارت کے خلاف تحقیقات کے بعد سامنے آیا ہے، بعض ممالک میں اس حوالے سے قوانین ناکافی ہیں یا ان پر مؤثر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔رپورٹ میں بھارت کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ ان معیشتوں میں شامل ہے جہاں جبری مشقت سے تیار شدہ مصنوعات کی روک تھام کے قوانین یا تو کمزور ہیں یا ان پر مکمل عملدرآمد نہیں ہوتا جبکہ بعض عالمی سپلائی چینز میں ایسے خام مال یا مصنوعات شامل ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔تجویز کے مطابق بھارت، چین، جاپان، جنوبی کوریا، برازیل اور سوئٹزرلینڈ سمیت 54 ممالک پر 12.5 فیصد اضافی ٹیرف جبکہ کینیڈا، میکسیکو، برطانیہ، یورپی یونین اور تائیوان سمیت دیگر ممالک پر 10 فیصد اضافی ڈیوٹی عائد کی جا سکتی ہے۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں