میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
وفاق یا کسی طاقتور ادارے کو صوبے کے وسائل پرقبضہ نہیں کرنے دیں گے، مولانا فضل الرحمان

وفاق یا کسی طاقتور ادارے کو صوبے کے وسائل پرقبضہ نہیں کرنے دیں گے، مولانا فضل الرحمان

ویب ڈیسک
بدھ, ۱۰ جون ۲۰۲۶

شیئر کریں

بلوچستان اور خیبرپختونخواہ کے پہاڑوں یا صحراؤں میں جو معدنی ذخائر ہیں ان کو قبضے میں لیا جارہا ہے، طاقتور قوتیں وہاں کھدائی کررہی ہیں اور غریب عوام کی ملکیت کو قبضے میں لیا جارہا ہے
پنجاب سے گندم کی ترسیل پر پابندی لگانا سراسر آئین کی خلاف ورزی ہے،خیبر پختونخواہ اسمبلی دینی مدارس کی رجسٹریشن کا قانون من و عن پاس کرائے،سربراہ جے یو آئی کی میڈیا سے گفتگو

جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ بلوچستان اور خیبرپختونخواہ کے پہاڑوں یا صحراؤں میں جو معدنی ذخائر ہیں ان کو قبضے میں لیا جارہا ہے، طاقتور قوتیں وہاں کھدائی کررہی ہیں اور غریب عوام کی ملکیت کو قبضے میں لیا جارہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سربراہ جے یو آئی ف مولانا فضل الرحمان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی سے ملاقات کی، جس میں این ایف سی ایوارڈ، صوبے میں امن و امان کی خراب صورتحال، مدارس رجسٹریشن اور پنجاب سے گندم کی بندش جیسے سنگین معاملات پر تفصیلی گفتگو کی گئی، اس ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے صوبائی حقوق، وفاق کے رویے اور امن و امان کے حوالے سے انتہائی سخت اور دوٹوک مؤقف اختیار کیا ہے۔سربراہ جے یو آئی ف نے وفاق کو خبردار کرتے ہوئے این ایف سی ایوارڈ پر کہا کہ این ایف سی ایوارڈ صوبوں کا وہ حق ہے جو پارلیمنٹ کے اتفاقِ رائے سے تسلیم کیا گیا ہے، اس میں اضافہ تو ہو سکتا ہے لیکن کسی قسم کی کمی ہمیں کسی صورت قبول نہیں، ہر صوبے کے عوام اپنے وسائل کے خود مالک ہیں، وفاق یا وفاق کی سطح کا کوئی بھی طاقتور ادارہ صوبے کے عوام کے وسائل پر قبضہ کرکے انہیں ان کے مفادات سے محروم نہیں کرسکتا، ہم اس کی اجازت نہیں دیں گے۔انہوں نے توقع ظاہر کی کہ کے پی حکومت اس حق کے لیے اپنا بھرپور آئینی کردار ادا کرے گی، صوبے بالخصوص جنوبی اضلاع میں امن و امان کی صورتحال انتہائی مخدوش ہو چکی ہے، حالات دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے وہاں حکومتی رٹ مکمل طور پر ختم ہو گئی ہو، عام آدمی اس وقت مسلح گروہوں کے رحم و کرم پر زندگی گزار رہا ہے، ان عوامل کا باریک بینی سے جائزہ لے کر انہیں ختم کیا جائے تاکہ صوبے کے عوام امن و قرار کے ساتھ زندگی بسر کرسکیں۔ان کا کہنا ہے کہ ہم نے فاٹا کو صوبے میں ضم تو کردیا لیکن عملاً اب تک وہ انضمام نظر نہیں آ رہا، 2017ء میں فاٹا مرج ہوا تھا اور آج 2026ء آ چکا ہے، لیکن نو سال گزرنے کے باوجود وہاں کوئی باقاعدہ نظام موجود نہیں ہے، قبائلی عوام کی مشکلات میں کمی کے بجائے اضافہ ہوا ہے اور ان کے واجبات اب تک پورے نہیں کیے جا سکے، وہاں کی قوموں کی ملکیتی زمینیں، پہاڑ اور صحرا تاحال بندوبستی علاقے کے طور پر انہیں منتقل نہیں کیے جا سکے۔دینی مدارس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے بتایا کہ وفاق کی سطح پر دینی مدارس کی رجسٹریشن کا قانون پاس ہو چکا ہے، اب خیبر پختونخواہ اسمبلی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس قانون کو صوبے میں بھی من و عن پاس کرائے اور اس پر قانون کے مطابق مکمل عمل درآمد کو یقینی بنائے، جب کہ پنجاب سے گندم کی ترسیل پر پابندی لگانا سراسر آئین کی خلاف ورزی ہے، جب میاں شہباز شریف پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے، تو یہ اس زمانے سے وطیرہ چلا آ رہا ہے، اس وقت شکایت کرنے پر بہانہ بنایا جاتا تھا کہ یہ گندم کے پی سے افغانستان اسمگل ہو جائے گی۔مولانا نے دلیل دی کہ ہمارے غریب لوگ پنجاب جا کر گندم کی کٹائی اور برداشت میں مزدوری کرتے ہیں، وہ اپنی کمائی ہوئی گندم اور مزدوری لے کر واپس آتے ہیں، تو حکومت کس قانون کے تحت ان کی مزدوری ان کے گھر لانے میں رکاوٹ بن سکتی ہے؟ آج تو پاک افغان سرحد مکمل طور پر بند ہے، جب بارڈر ہی بند ہے تو اسمگلنگ کا کیا تصور ہو سکتا ہے؟ اس صورتحال میں بھی کے پی کے عوام کے لیے گندم کی بندش آئین اور انسانی حقوق دونوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں