عارف بلڈر کی ہیرا پھیری،مصطفی بنگلوز ہاؤسنگ اسکیم میں کروڑوں کی اراضی پر قبضے
شیئر کریں
اصل مالکان کو زمینوں سے محروم کرنے کے لیے ریکارڈ میں ردوبدل کا انکشاف
اینٹی کرپشن، ریونیو، ایچ ڈی اے اور دیگر اداروں کی خاموشی سوالیہ نشان بن گئی
( رپورٹ: عمران سعید) حیدرآباد کے علاقے ہالا ناکہ کے قریب واقع دیہہ مرزا پور میں قائم کی جانے والی مصطفی بنگلوز ہاؤسنگ اسکیم ایک بار پھر تنازعات کی زد میں آ گئی ہے ۔ متاثرین اور مقامی ذرائع نے الزام عائد کیا ہے کہ عارف بلڈر نے مبینہ طور پر جعل سازی، ریکارڈ میں ردوبدل، دھوکہ دہی اور فراڈ کے ذریعے قیمتی اراضی پر قبضہ کر کے نہ صرف اصل مالکان کو ان کی زمینوں سے محروم کیا بلکہ شہریوں سے کروڑوں روپے وصول کرکے انہیں بھی مشکلات سے دوچار کر دیا۔متاثرین کے مطابق دیہہ مرزا پور کے سروے نمبر 249، 281، 282، 283، 246، 52، 78، 79، 70 اور 250 سمیت متعدد اراضیات کھاتے میں داخلہ نمبر 44اور انٹری نمبر 27میں درج ہیں، جن کے اصل مالکان اور ورثاء میں خان محمد، عمیر علی، لیاقت علی، مختار علی، گوری خاتون، دریا خاتون، عزیز خاتون، حیات خاتون، صابن خاتون اور دیگر افراد شامل ہیں۔ متاثرین کا دعویٰ ہے کہ ان کی رضامندی اور قانونی تقاضے پورے کیے بغیر زمینوں کے ریکارڈ میں مبینہ تبدیلیاں کی گئیں اور بعد ازاں مصطفی بنگلوز کے نام سے ہاؤسنگ اسکیم کی منظوری حاصل کرنے کے لیے مختلف اداروں میں دستاویزی کارروائی مکمل کی گئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس پورے معاملے میں مبینہ طور پر محکمہ ریونیو، لینڈ ریکارڈ، حیدرآباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی (HDA)، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA)، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ، مختیارکار آفس، اسسٹنٹ کمشنر آفس اور دیگر متعلقہ اداروں کے کردار پر بھی انگلیاں اُٹھ رہی ہیں۔ متاثرین کا مؤقف ہے کہ اگر بروقت اور شفاف جانچ کی جاتی تو زمینوں کے تنازع اور شہریوں کے مالی نقصان کو روکا جا سکتا تھا۔علاقہ مکینوں کے مطابق مذکورہ اسکیم میں پلاٹ خریدنے والے متعدد شہری بھی پریشانی کا شکار ہیں، جن کا کہنا ہے کہ انہیں زمین کی قانونی حیثیت اور ملکیت کے بارے میں مکمل معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ متاثرین کا الزام ہے کہ مبینہ طور پر جعلی یا متنازع دستاویزات کی بنیاد پر پلاٹ فروخت کیے گئے جس کے نتیجے میں کئی خاندان اپنے مستقبل کی جمع پونجی خطرے میں ڈال بیٹھے ۔ذرائع کے مطابق بعض متاثرین نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ بااثر عناصر کی سرپرستی اور مبینہ پولیس تعاون کے باعث شکایات کے باوجود خاطر خواہ کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ تاہم اس حوالے سے پولیس یا دیگر متعلقہ اداروں کا باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔متاثرہ خاندانوں نے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ، وزیر اعلیٰ سندھ، چیئرمین اینٹی کرپشن، ڈائریکٹر جنرل حیدرآباد ڈیولپمنٹ اتھارٹی، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، کمشنر حیدرآباد، ڈپٹی کمشنر حیدرآباد اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، زمینوں کے ریکارڈ کا فرانزک آڈٹ کیا جائے ، مبینہ جعل سازی اور ریکارڈ ٹیمپرنگ میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور اصل مالکان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے ۔متاثرین کا کہنا ہے کہ اگر ان کے ساتھ ہونے والی مبینہ ناانصافی کا ازالہ نہ کیا گیا تو وہ عدالتوں اور متعلقہ فورمز سے رجوع کرنے کے ساتھ ساتھ احتجاج کا دائرہ بھی وسیع کریں گے ۔


