ایس ایس پی آفس ہنگامہ آرائی ، 15خواجہ سرا جیل روانہ
شیئر کریں
جونیئر کلرک ماریہ ساریو سمیت گرفتار خواجہ سراؤں کو ویمن جیل حیدرآباد منتقل کر دیا گیا
ماریہ ساریو پر عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد خواجہ سراؤں کو اکسانے کا الزام
(رپورٹ :عبدالغفور سروہی )ایس ایس پی حیدرآباد کے دفتر کے احاطے میں مبینہ احتجاج، ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کے مقدمے میں گرفتار لیڈی پولیس افسر ماریہ ساریو سمیت 15 خواجہ سراؤں کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے تمام گرفتار افراد کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔پولیس کے مطابق ایس ایس پی آفس میں احتجاج اور مبینہ توڑ پھوڑ کے واقعے کے بعد درج مقدمے میں لیڈی پولیس افسر ماریہ ساریو سمیت خواجہ سراؤں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ گرفتار ملزمان کو سخت سیکورٹی میں عدالت کے روبرو پیش کیا گیا، تاہم عدالتی کارروائی کے دوران ملزمان نے میڈیا سے گفتگو کرنے سے گریز کیا۔سماعت کے موقع پر کینٹ پولیس کی جانب سے سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے ۔ پولیس نے عدالت سے مزید قانونی کارروائی کے لیے ریمانڈ کی استدعا کی، تاہم عدالت نے درخواست مسترد کرتے ہوئے تمام گرفتار افراد کو 14روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم جاری کیا۔عدالتی ذرائع کے مطابق انچارج کنزیومر کورٹ نے مقدمہ نمبر 100 میں ایس ایچ او کینٹ ملک جاوید کی جانب سے دائر 14 روزہ جوڈیشل کسٹڈی ریمانڈ کی درخواست منظور کی، جس کے بعد جونیئر کلرک ماریہ ساریو سمیت گرفتار خواجہ سراؤں کو ویمن جیل حیدرآباد منتقل کر دیا گیا۔پولیس کا مؤقف ہے کہ ماریہ ساریو کو عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد خواجہ سراؤں کو اکسانے اور سرکاری دفتر پر حملے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، جبکہ ایس ایس پی حیدرآباد شاہزیب چاچڑ پہلے ہی ماریہ ساریو کو معطل کر چکے ہیں۔


