پاکستان کا سب سے بڑا بحران
شیئر کریں
اونچ نیچ
۔۔۔۔۔۔
آفتاب احمد خانزادہ
مشہور فلسفی خلیل جبران نے ایک لڑکی کو مصوری کرتے دیکھا۔ رنگ اس کی انگلیوں میں سانس لے رہے تھے اور خاموشی اس کے اردگرد
کسی عبادت کی طرح پھیلی ہوئی تھی۔ خلیل جبران نے اس سے سوال کیا:”اس پوری کائنات کی صرف سات لفظوں میں تعریف کرو”۔لڑکی
نے بغیر توقف کے جواب دیا:”خدا، محبت، امن، زندگی اور زمین”۔پھر وہ خاموش ہوگئی۔ جبران نے حیرت سے پوچھا:”اور باقی دو
الفاظ”؟ لڑکی مسکرائی اور بولی:’تم اور میں’۔ کیونکہ اگر یہ دو الفاظ نہ ہوں تو سب بے معنی ہوجاتا ہے۔”یہ محض ایک خوبصورت جملہ نہیں، بلکہ
انسانی تہذیب کی پوری نفسیات، فلسفے اور تاریخ کا نچوڑ ہے۔ انسان نے جب پہلی بار غار کی دیوار پر تصویر بنائی تھی تو دراصل وہ ”میں” کو
”تم” تک پہنچانا چاہتا تھا۔ جب اس نے پہلی بار شاعری کی، موسیقی تخلیق کی، مذہب بنایا، فلسفہ لکھا یا جنگ چھیڑی، ہر جگہ ایک ہی کشمکش
موجود تھی:”میں کون ہوں”؟اور”تم میرے لیے کیا ہو” فلسفہ ہمیں بتاتا ہے کہ انسان تنہا مکمل نہیں ہوتا۔
ارسطونے انسان کو”سماجی حیوان” کہا تھا، جبکہ سارتےSartreنے کہا کہ انسان کی شناخت دوسروں کی نظروں میں تشکیل پاتی ہے۔
نفسیات بھی یہی کہتی ہے کہ ایک بچہ اگر محبت، لمس اور تعلق سے محروم رہے تو اس کی روح ادھوری رہ جاتی ہے۔ گویا”میں” صرف تب وجود رکھتا ہے جب کہیں کوئی ”تم” موجود ہو۔انسانی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ شاید یہی رہا ہے کہ طاقتور طبقات نے ”میں” کو اتنا بڑا کر لیا کہ ”تم” ختم ہوگیا۔ بادشاہوں نے سلطنتیں بنائیں مگر انسان کھو دیا۔ سرمایہ داروں نے دولت جمع کی مگر رشتے کھو دیے۔ جدید دنیا نے ٹیکنالوجی تو پیدا کر لی مگر دلوں کے درمیان فاصلے کم نہ کر سکی۔ آج انسان کے ہاتھ میں پوری دنیا موجود ہے مگر اس کے اندر ایک عجیب خالی پن بھی ہے۔ سوشل میڈیا پر ہزاروں دوست رکھنے والا انسان رات کو تنہائی میں ٹوٹ جاتا ہے، کیونکہ ڈیجیٹل رابطہ روحانی تعلق کا متبادل نہیں بن سکتا۔ادب ہمیشہ اسی درد کی گواہی دیتا رہا ہے۔فیودر دوستوئیفسکی کے کردار ہوں یافرانز کافکا کے تنہا انسان، سب کے اندر یہی چیخ سنائی دیتی ہے کہ دنیا میں سب کچھ ہونے کے باوجود اگر”تم” نہ ہو تو زندگی بے معنی ہے۔ محبت صرف رومان نہیں، بلکہ انسان کے وجود کی بنیادی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنگوں کے بعد انسان دوبارہ شاعری کی طرف لوٹتا ہے، تباہی کے بعد موسیقی پیدا ہوتی ہے، اور ظلم کے بعد کوئی نہ کوئی شخص پھر محبت کا نام لیتا ہے۔
پاکستانی سماج کو دیکھیں تو یہاں بھی سب سے بڑا بحران معاشی نہیں، روحانی اور انسانی ہے۔ ہم نے ایک دوسرے کو نظریات، زبانوں، فرقوں اور طبقات میں تقسیم کر دیا ہے۔ ہر شخص صرف ”میں” بن چکا ہے۔ سیاست میں”میں”، مذہب میں”میں”، طاقت میں”میں”، دولت میں”میں”۔ جبکہ ایک قوم اس وقت بنتی ہے جب ”میں”کے ساتھ ”تم” زندہ رہے۔ جب انسان دوسرے انسان کے درد کو اپنا درد سمجھنے لگے۔ جب کسی غریب کی بھوک صرف خبر نہ رہے بلکہ ضمیر پر بوجھ بن جائے۔ جب کسی مظلوم کی چیخ سن کر دل بے چین ہو جائے۔ شاید اسی لیے دنیا کی تمام عظیم روحیں آخر میں محبت کی طرف لوٹتی ہیں۔ رومی نے کہا تھا کہ انسان کا اصل مذہب محبت ہے۔ کیونکہ محبت ہی وہ واحد قوت ہے جو”میں”اور”تم” کے درمیان پل بناتی ہے۔ باقی سب چیزیں عارضی ہیں: طاقت، دولت، شہرت، نظریات، سلطنتیں، حتیٰ کہ وقت بھی۔ مگر انسان کے دل میں کسی دوسرے انسان کے لیے پیدا ہونے والا خالص احساس ہی اصل حقیقت ہے۔خلیل جبران کی اس مختصر سی گفتگو میں شاید پوری کائنات چھپی ہوئی ہے۔ خدا، محبت، امن، زندگی اور زمین یقیناً اہم ہیں، مگر ان سب کی معنویت تب پیدا ہوتی ہے جب اس دنیا میں کوئی”تم” ہو اور کوئی ”میں”۔ کیونکہ انسان اکیلا مکمل نہیں ہوتا۔ وہ دوسرے انسان کی آنکھ میں اپنا عکس دیکھ کر ہی اپنی پہچان پاتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اس پوری بے رحم دنیا میں اب بھی سب سے بڑی امید ایک انسان کا دوسرے انسان سے محبت کرنا ہے۔ برصغیر کی تقسیم کے وقت جب لاکھوں انسان خون، آگ اور ہجرت کے سمندر سے گزر رہے تھے تو شاید اس لمحے کسی نے یہ نہیں سوچا ہوگا کہ ایک دن یہی سرزمین صرف جغرافیہ نہیں بلکہ ایک نفسیاتی اور روحانی بحران کی علامت بھی بن جائے گی۔ پاکستان صرف ایک ملک نہیں تھا، یہ خواب تھا؛ ایک امید، ایک وعدہ، ایک ایسی جگہ جہاں انسان خود کو محفوظ، باوقار اور آزاد محسوس کرے۔ مگر تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہوتا ہے کہ قومیں اکثر زمین تو حاصل کر لیتی ہیں مگر انسان کھو دیتی ہیں۔ہم نے خدا کا نام تو بہت لیا، مگر انسان بھول گئے۔ ہم نے زمین کے لیے جنگیں لڑیں مگر اس زمین پر بسنے والے انسانوں کے دل ویران چھوڑ دیے۔ ہم نے نظریات بنائے، نعرے لگائے، پرچم بلند کیے، مگر ”تم” اور”میں”کے درمیان موجود انسانی رشتہ مسلسل ٹوٹتا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کا سب سے بڑا بحران شاید معاشی یا سیاسی نہیں بلکہ انسانی بحران ہے۔پاکستانی سماج عجیب تضاد کا شکار ہے۔ یہاں مذہب بہت ہے مگر سکون کم ہے۔ یہاں آبادی بہت ہے مگر تعلق کم ہیں۔ یہاں شور بہت ہے مگر مکالمہ نہیں۔ ہر شخص اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ شہر انسانوں سے بھرے ہوئے ہیں مگر دل خالی ہیں۔ کراچی کی سڑکوں سے لے کر لاہور کے بازاروں تک، اسلام آباد کے ایوانوں سے لے کر سندھ اور بلوچستان کے دیہات تک، ہر طرف ایک خاموش تھکن محسوس ہوتی ہے۔ جیسے لوگ زندہ تو ہیں مگر اندر سے مر چکے ہیں۔نفسیات کہتی ہے کہ انسان صرف روٹی سے زندہ نہیں رہتا، اسے تعلق چاہیے، پہچان چاہیے، محبت چاہیے۔ لیکن پاکستان میں ایک پورا سماج مسلسل احساسِ محرومی میں زندہ ہے۔ غریب خود کو اس ملک کا شہری نہیں بلکہ بوجھ سمجھتا ہے۔ نوجوان ڈگری لینے کے بعد امید نہیں بلکہ مایوسی حاصل کرتا ہے۔ کسان اپنی زمین پر بھی غیر محفوظ ہے، مزدور اپنی محنت کے باوجود بھوکا ہے، اور متوسط طبقہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ذہنی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہورہا ہے۔یہ صرف معیشت کا مسئلہ نہیں، یہ اجتماعی روح کے بکھرنے کا مسئلہ ہے۔
فیودر دوستوئیفسکی نے لکھا تھا کہ ”انسان کا سب سے بڑا خوف یہ نہیں کہ وہ مر جائے، بلکہ یہ ہے کہ اس کی زندگی بے معنی ہوجائے”۔شاید یہی خوف آج پاکستانی انسان کے اندر پل رہا ہے۔ وہ صبح کام پر جاتا ہے، شام کو لوٹتا ہے، مہنگائی سے لڑتا ہے، خبروں سے خوفزدہ ہوتا ہے، سیاست سے مایوس ہوتا ہے، اور پھر آہستہ آہستہ اندر سے خالی ہوتا جاتا ہے۔ اسے محسوس ہونے لگتا ہے کہ اس کی تکلیف کسی کے لیے اہم نہیں۔پاکستانی تاریخ کو اگر غور سے دیکھا جائے تو اس میں سب سے زیادہ نقصان ہمیشہ ”انسان” کا ہوا۔ کبھی آمریت کے نام پر، کبھی مذہب کے نام پر، کبھی قومیت کے نام پر، کبھی طاقت اور مفادات کے نام پر۔ اس سرزمین نے سقوطِ ڈھاکا دیکھا، مارشل لا دیکھے، دہشت گردی دیکھی، فرقہ واریت دیکھی، جبری گمشدگیاں دیکھیں، غربت، بھوک اور بے روزگاری دیکھی۔ لیکن شاید سب سے خطرناک چیز وہ خاموشی تھی جو آہستہ آہستہ لوگوں کے اندر پیدا ہوتی گئی۔ وہ خاموشی جو انسان کو بے حس بنا دیتی ہے۔ادب ہمیشہ اسی خاموشی کے خلاف بغاوت کرتا ہے۔ فیض احمد فیض سے لے کر حبیب جالب تک، ہمارے شاعروں نے صرف انقلاب کی بات نہیں کی بلکہ انسان کی عزت کی بات کی۔ فیض کی شاعری میں محبت صرف محبوب تک محدود نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک درد ہے۔ جالب جب آمریت کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں تو دراصل وہ”میں”کو”تم” سے جوڑ رہے ہوتے ہیں۔ وہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ اگر ایک انسان بھی محروم ہے تو پورا سماج بیمار ہے۔مگر آج کا پاکستان ایک عجیب نفسیاتی جنگ میں پھنسا ہوا ہے۔ یہاں ہر شخص دوسرے سے خوفزدہ ہے۔ قومیں ایک دوسرے سے، مسلک ایک دوسرے سے، غریب امیر سے، نوجوان مستقبل سے، اور سچ بولنے والا پورے نظام سے ڈرتا ہے۔ خوف جب مسلسل معاشرے پر مسلط رہے تو محبت مرنے لگتی ہے، اور جہاں محبت مر جائے وہاں انسان صرف جسم بن کر رہ جاتا ہے۔شاید اسی لیے خلیل جبران کے وہ ”دو لفظ” پاکستان کے لیے سب سے زیادہ اہم ہیں:”تم”اور”میں”۔کیونکہ قومیں صرف آئین، فوج، معیشت یا سڑکوں سے نہیں بنتیں؛ قومیں انسانوں کے درمیان اعتماد سے بنتی ہیں۔ ایک دوسرے کے درد کو محسوس کرنے سے بنتی ہیں۔ اس احساس سے بنتی ہیں کہ اگر میرے شہر میں کوئی بھوکا ہے تو میری ترقی ادھوری ہے، اگر کسی ماں کا بیٹا لاپتہ ہے تو میری آزادی مکمل نہیں، اگر کسی مزدور کا بچہ تعلیم سے محروم ہے تو میرا نظام ناکام ہے۔
پاکستان کو شاید آج سب سے زیادہ کسی نئے سیاسی نعرے کی نہیں بلکہ ایک نئی انسانی بیداری کی ضرورت ہے۔ ایک ایسے شعور کی، جہاں
انسان دوبارہ انسان کو دیکھنا شروع کرے۔ جہاں مذہب نفرت نہیں بلکہ رحم پیدا کرے، سیاست خدمت بنے، اور طاقت خوف نہیں بلکہ
تحفظ دے۔کیونکہ آخر میں ریاستیں صرف نقشوں سے نہیں بچتیں، انسانوں سے بچتی ہیں۔ اور جب ”تم” اور”میں”کے درمیان موجود رشتہ
مر جائے تو پھر خدا، محبت، امن، زندگی اور زمین سب بے معنی ہوجاتے ہیں۔
٭٭٭


