ایم کیو ایم الزام تراشی کی سیاست بند کرے، شرجیل میمن
شیئر کریں
کے-الیکٹرک سندھ حکومت کے ماتحت ادارہ نہیں ،گیس کی کمی وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے
وفاقی حکومت کے معاملات اور مسائل سندھ حکومت کے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش کرتی ہے
سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم اپنی مردہ سیاست کو زندہ کرنے کے لیے مختلف مسائل اور ایشوز کو غیر ضروری طور پر سیاسی رنگ دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گیس کی کمی وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے، جبکہ کے-الیکٹرک بھی سندھ حکومت کے ماتحت ادارہ نہیں ہے۔ پانی کی کمی کے حوالے سے سندھ حکومت پہلے ہی ارسا کو خط لکھ چکی ہے جس میں آگاہ کیا گیا ہے کہ سندھ کو اس وقت 22 فیصد پانی کی قلت کا سامنا ہے، جس کے اثرات کراچی پر بھی پڑتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم وفاقی حکومت کے معاملات اور مسائل بھی سندھ حکومت کے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش کرتی ہے۔ کراچی میں ایم کیو ایم کی سیاست کا محور مسائل کا حل تلاش کرنے کے بجائے انہیں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا ہے۔شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ہم نہ تو ایم کیو ایم کے اتحادی ہیں اور نہ ہی وفاقی حکومت کے۔ ہم نے صرف پارلیمانی نظام اور جمہوری عمل کے تسلسل کے لیے وفاقی حکومت کی حمایت کر رکھی ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی کبھی دنیا کے بہترین شہروں میں شمار ہوتا تھا، پاکستان کا دارالحکومت بھی رہا اور خلیجی ممالک سمیت مختلف خطوں سے طلبہ یہاں تعلیم حاصل کرنے آتے تھے۔ ان کے مطابق کراچی کی صورتحال اس وقت خراب ہونا شروع ہوئی جب شہر میں لسانی سیاست کی بنیاد رکھی گئی۔سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ کراچی کے مسائل میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب بلدیاتی اداروں کے ذریعے پارکوں کو شادی ہالز میں تبدیل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس تمام صورتحال سے متعلق حقائق ایم کیو ایم کی قیادت بھی جانتی ہے، پارکوں اور اسپورٹس گرانڈز پر قبضے کیے گئے اور بلدیاتی اداروں میں ایسے عناصر کو بھرتی کیا گیا جن پر بعد میں دہشتگردی جیسے سنگین الزامات سامنے آئے۔انہوں نے کہا کہ 2015 اور 2016 کے دوران ہونے والے آپریشن کے دوران ایسے متعدد ایسے دہشتگرد سامنے آئے جو کے ایم سی اور واٹر بورڈ کے ملازم تھے۔ بلدیاتی نظام کو نقصان پہنچایا گیا، جس سے کراچی کی تباہی کا آغاز ہوا۔ بعض ملازمین عملی کام کے بجائے یونٹ اور سیکٹر دفاتر میں بیٹھے رہتے تھے۔شرجیل انعام میمن نے کہا کہ صحافی ولی خان بابر نے ایسے معاملات کی رپورٹنگ کی تھی اور بعد ازاں انہیں قتل کر دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ کراچی ایک پورٹ سٹی ہے اور ملک بھر کی ہیوی ٹریفک کا بڑا حصہ اسی شہر سے گزرتا ہے۔انفرااسٹرکچر کے لیے سندھ کے حصے کے فنڈز مختلف قانونی معاملات کے باعث سپریم کورٹ میں جمع ہو رہے ہیں اور صوبے کو دستیاب نہیں ہو پا رہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معیشت میں سب سے زیادہ ریونیو فراہم کرتا ہے۔ روزگار، کاروبار، تعلیم اور علاج کی غرض سے پورے پاکستان سے لوگ کراچی کا رخ کرتے ہیں۔ اگر دیگر شہر کراچی سے بہتر ہوتے تو لوگ وہاں جاتے، لیکن کراچی آج بھی ملک کا سب سے بڑا معاشی اور تجارتی مرکز ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے ارسا کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے کہ صوبے کو 22 فیصد پانی کی کمی کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق پانی کی قلت سے نہ صرف زراعت متاثر ہوتی ہے بلکہ شہری علاقوں میں فراہمی بھی متاثر ہوتی ہے۔ کراچی سندھ کا آخری بڑا شہر ہے اور سندھ کے حصے کا پانی سب سے آخر میں کراچی پہنچتا ہے، لہذا جب پانی کی مجموعی فراہمی کم ہوتی ہے تو اس کے اثرات کراچی پر بھی براہِ راست مرتب ہوتے ہیں۔


