عبرت یا عزت ؟
شیئر کریں
بے لگام / ستار چوہدری
یہ حکمران اورطاقتور لوگ!! کبھی فرصت کے چند لمحے نکال کر ڈوبتے ہوئے سورج کو دیکھیں!! وہی سورج جس کی روشنی میں شہرجاگتے ہیں، فصلیں پکتی ہیں، سمندرچمکتے ہیں اورپہاڑ اپنی شان دکھاتے ہیں،دن بھرآسمان پرحکمرانی کرنے والا سورج شام ہوتے ہی خاموشی سے افق کے پیچھے اترجاتا ہے ، نہ وہ اپنے عروج کو بچانے کے لیے آسمان سے چمٹتا ہے ، نہ رات کے آنے کے خلاف کوئی اعلانِ جنگ کرتا ہے ۔۔ پھرکسی صبح طلوعِ آفتاب کا منظر دیکھیں!! رات کتنی ہی سیاہ کیوں نہ ہو، اندھیرا کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہو، وہ سورج کی واپسی کو نہیں روک سکتا، روشنی اپنے وقت پرآتی ہے اوراندھیرا اپنے وقت پرچلا جاتا ہے ، فطرت شاید صدیوں سے انسان کو یہی سبق دے رہی ہے کہ دوام صرف تبدیلی کو حاصل ہے ۔ اقتدار، اختیار، شہرت اوردولت سب عارضی مسافر ہیں۔مجھے اکثر حیرت ہوتی ہے کہ یہ حکمران، طاقتور لوگ، بڑے بڑے عہدوں پر بیٹھے ہوئے افراد آخرکس خوش فہمی میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔؟ وہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ سورج سے زیادہ طاقتورکوئی منظ ہماری آنکھوں نے نہیں دیکھا، مگروہ بھی ہ شام غروب ہوجاتا ہے ،تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ تخت ہمیشہ باقی نہیں رہے ، تاج ہمیشہ سروں پرنہیں سجے ۔ اورمحلات ہمیشہ آباد نہیں رہے ، باقی اگرکچھ رہا تو صرف انسان کا کردار، اس کا انصاف، اس کا رویہ اوراس کے فیصلے ۔
اقتدار کا ایک عجیب نشہ ہوتا ہے ،یہ نشہ شراب کی طرح آنکھوں کو سرخ نہیں کرتا، بلکہ بصیرت کو دھندلا دیتا ہے ،انسان اپنے گرد کھڑے
چاپلوسوں کی آوازتوسن لیتا ہے ، مگر عوام کی خاموش آہوں کو سننے کی صلاحیت کھو دیتا ہے ، اسے ہر تنقید سازش لگنے لگتی ہے ، ہراختلاف دشمنی
محسوس ہونے لگتا ہے ۔ اورہرسچ بولنے والا شخص خطرہ دکھائی دینے لگتا ہے ۔مگرتاریخ کا المیہ یہ ہے کہ طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ اکثر
ایک حقیقت بھول جاتے ہیں، طاقت احترام پیدا نہیں کرتی، انصاف احترام پیدا کرتا ہے ۔لوگ کسی حاکم سے اس لیے محبت نہیں کرتے کہ
اس کے پاس فوجیں ہیں، خزانے ہیں یا اختیارات ہیں،لوگ اس لیے محبت کرتے ہیں کہ وہ ان کے ساتھ انصاف کرتا ہے ، ان کے زخم سمجھتا
ہے اور اپنی طاقت کو خدمت کے لیے استعمال کرتا ہے ، انتقام کے لیے نہیں،جب طاقت انصاف سے خالی ہوجائے تو وہ خوف میں بدل
جاتی ہے ، اور خوف کبھی مستقل وفاداری پیدا نہیں کرسکتا،خوف سے جھکے ہوئے سر، دل سے ساتھ نہیں ہوتے ، وہ خاموش تو رہ سکتے ہیں،
مگرمطمئن نہیں رہتے ، اورجب معاشروں کے سینوں میں جمع ہونے والی بے چینی حد سے بڑھ جائے تو پھر وہ خاموشی بھی ایک دن آواز بن
جاتی ہے ،تاریخ کی سب سے بڑی بغاوتیں میدانوں میں پیدا نہیں ہوئیں، وہ پہلے لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوئیں،نفرت جب مسلسل
ناانصافی سے ملتی ہے تو آہستہ آہستہ بغاوت کا روپ دھار لیتی ہے ،یہی وجہ ہے کہ طاقت کا بے جا استعمال وقتی طور پر لوگوں کو دباسکتا ہے ، مگر
ان کے خیالات، ان کی خواہشات اوران کے احساسات کو ہمیشہ کے لیے قید نہیں کرسکتا۔ اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں بہت سے حکمران
غلطی کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ خاموشی رضامندی ہے ، حالانکہ بعض اوقات خاموشی صرف طوفان سے پہلے کا سکوت ہوتی ہے ۔
عجیب بات ہے کہ انسان اپنی زندگی میں سب کچھ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے ، مگر سب سے اہم چیز بھول جاتا ہے ”وقت ”۔وقت وہ
بادشاہ ہے جس کے سامنے ہر بادشاہ نے سرجھکایا ہے ،اس نے تاج اچھال کرزمین پر گرتے دیکھے ہیں، اس نے تخت لرزتے دیکھے ہیں،
اس نے ایسے محلات ویران ہوتے دیکھے ہیں جن کے دروازوں پر کبھی عام آدمی کا گزر بھی محال تھا،شاید اسی لیے تاریخ کا مطالعہ انسان کو
عاجزی سکھاتا ہے ،کل جو لوگ خود کو ناقابلِ شکست سمجھتے تھے ، آج ان کے نام صرف کتابوں کے چند صفحات میں قید ہیں، ان کے لشکر مٹی
ہوگئے ، ان کے محلات کھنڈرات بن گئے ، ان کے خزانے دوسروں کی ملکیت بن گئے ،اگر کچھ باقی رہا تو لوگوں کی زبانوں پران کے بارے
میں ایک فیصلہ باقی رہا، کچھ نام عزت کے ساتھ لیے جاتے ہیں اورکچھ عبرت کے طورپر۔اصل سوال یہ نہیں کہ انسان کتنی دیر اقتدار میں
رہا،اصل سوال یہ ہے کہ جب وہ اقتدار سے رخصت ہوا تو لوگوں نے اس کے لیے دعا کی یا بددعا۔؟کیونکہ دنیا کا سب سے بڑا اعزازلمبی
حکمرانی نہیں، بلکہ اچھا ذکر ہے ،انسان جب قبر میں اترتا ہے تو اس کے ساتھ نہ پروٹوکول جاتا ہے ، نہ محافظ، نہ گاڑیاں، نہ عہدے اور نہ
اختیارات،اس کے ساتھ صرف اس کے اعمال، فیصلے اور لوگوں کے دلوں میں چھوڑی ہوئی یادیں جاتی ہیں۔کاش طاقت کے ایوانوں میں
بیٹھے لوگ یہ سمجھ سکیں کہ عوام صرف ووٹوں کا ہجوم نہیں ہوتے ،یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی دعائیں تختوں کو مضبوط بھی کرتی ہیں۔ اور جن کی
آہیں سلطنتوں کی بنیادیں بھی ہلا دیتی ہیں،دنیا کی کوئی طاقت عوام کے دل جیتنے سے بڑی نہیں۔ اور دنیا کی کوئی کمزوری عوام کے دل ہارنے
سے زیادہ خطرناک نہیں۔
رات کے پچھلے پہر، جب شور تھم جائے اور دنیا اپنی مصروفیتوں سے بے خبر سو رہی ہو، تب یہ حکمران اورطاقتورلوگ اگر اپنے ضمیر کے
سامنے بیٹھ جائیں تو بہت سی حقیقتیں خود بخود آشکار ہوجائیں،وہ حقیقتیں جنہیں دن کے ہنگامے ، اقتدار کے نعروں اور تعریفوں کے شور میں
سننا مشکل ہوجاتا ہے ،یہی وہ لمحہ ہوگا جب ایک سوال ان کے سامنے ضرور کھڑا ہوگا۔آخرمیں بچے گا کیا؟ یہ کرس؟ یہ اختیار؟ یہ محلات؟ یہ
بینک بیلنس؟ یا پھر لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ؟ دنیا کا عجیب دستور ہے ، وہ طاقتور سے خوف کھا سکتی ہے ، اس کی تعظیم کرسکتی ہے ، اس کے
سامنے جھک بھی سکتی ہے ، مگر اسے ہمیشہ یاد نہیں رکھتی، یاد صرف انہیں رکھا جاتا ہے جنہوں نے اپنی طاقت کو دوسروں کے لیے آسانی پیدا
کرنے میں استعمال کیا ہو،جنہوں نے کمزور کے حق کی حفاظت کی ہو،جنہوں نے انصاف کو ذاتی مفاد پر ترجیح دی ہو۔اس کے برعکس جو
لوگ اپنی طاقت کو دوسروں کو دبانے ، آوازوں کو خاموش کرنے اور انسانوں کو کمتر ثابت کرنے میں صرف کرتے ہیں، وہ وقتی طور پر کامیاب
ضرور نظر آتے ہیں، مگر تاریخ ان کے بارے میں بڑا بے رحم فیصلہ لکھتی ہے ،کیونکہ تاریخ کی عدالت میں نہ سرکاری ترجمان ہوتے ہیں، نہ
چاپلوس درباری، نہ پروٹوکول اور نہ ہی اقتدار کا رعب،وہاں صرف کردار پیش ہوتا ہے ۔اورکردارکے سامنے ہرعہدہ چھوٹا پڑجاتا ہے ۔
شاید اسی لیے میں چاہتا ہوں کہ یہ حکمران، یہ طاقتور لوگ، کسی دن اپنے محلات کی بلند دیواروں سے باہر نکلیں اورخاموشی سے ڈوبتے ہوئے
سورج کو دیکھیں،وہ سورج جو روزانہ انہیں ایک پیغام دیتا ہے ، مگر اقتدار کے شور میں وہ پیغام سنائی نہیں دیتا،پیغام یہ کہ عروج ہمیشہ کے لیے
نہیں ہوتا،پھر کسی صبح طلوعِ آفتاب کو دیکھیں اورسمجھنے کی کوشش کریں کہ روشنی کو روکنے کی طاقت کسی اندھیرے میں نہیں ہوتی،رات جتنی بھی
لمبی ہوجائے ، آخرکار اسے ہارنا پڑتا ہے ، فطرت کا یہی قانون ہے اور تاریخ کا بھی۔اقتدار کی اصل خوبصورتی اس میں نہیں کہ آپ کتنے
لوگوں کو خاموش کراسکتے ہیں، بلکہ اس میں ہے کہ کتنے لوگ آپ کے جانے کے بعد بھی آپ کا نام احترام سے لیتے ہیں،طاقت کا اصل
امتحان مخالف کو کچلنا نہیں، بلکہ انصاف کرنا ہے ،کیونکہ خوف سے چلنے والی حکومتیں کچھ عرصہ چل سکتی ہیں، مگر دلوں پر حکومت صرف انصاف
کرتا ہے اور پھرایک دن،وہ دن ضرور آتا ہے جب محلات خاموش ہوجاتے ہیں، دفاتر کسی اور کے قبضے میں چلے جاتے ہیں، سرکاری
گاڑیوں کے دروازے کسی اور کے لیے کھلنے لگتے ہیں، محافظ کسی اور کے آگے پیچھے چل رہے ہوتے ہیں، اور کبھی ناقابلِ رسائی سمجھے جانے
والے لوگ تاریخ کی ایک سطر بن کر رہ جاتے ہیں،تب دنیا ایک ہی سوال پوچھتی ہے ،اس انسان نے اپنی طاقت کے ساتھ کیا کیا تھا۔؟
لوگ اس کی دولت نہیں گنتے ، اس کے عہدے نہیں گنواتے ، اس کے محلات کا رقبہ نہیں ناپتے ،وہ صرف یہ یاد رکھتے ہیں کہ اس کے دور میں
انصاف زندہ تھا یا نہیں، کمزور محفوظ تھا یا نہیں۔ اور انسان کو عزت ملی تھی یا نہیں۔کیونکہ آخرکارانسان مرجاتے ہیں، تخت الٹ جاتے ہیں،
سلطنتیں بکھرجاتی ہیں، مگر کردار زندہ رہتے ہیں۔اورتاریخ کے ماتھے پروہی نام روشن رہتے ہیں جنہوں نے طاقت کو اپنا خدا نہیں بنایا، بلکہ
اسے ایک امانت سمجھ کر استعمال کیا۔ ورنہ وقت کے پاس ایک ہی انجام ہے ، وہ ہربلند مینار کو جھکا دیتا ہے ، ہرطاقتور کو کمزور کر دیتا ہے ۔
اورہرحکمران کو یہ یاد دلا دیتا ہے کہ سورج کی طرح تمہیں بھی ایک دن غروب ہونا ہے ، مگر فیصلہ تمہارا ہے کہ تمہارے بعد لوگ تمہیں عبرت
کے طور پریاد کریں گے یا عزت کے ساتھ ؟


