میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
اگر آئینہ سچ بولنے لگے!

اگر آئینہ سچ بولنے لگے!

ویب ڈیسک
پیر, ۱ جون ۲۰۲۶

شیئر کریں

بے لگام / ستار چوہدری

سوچئے !! کل صبح آپ حسبِ معمول بیدار ہوں،وضو کریں، چائے کا کپ ہاتھ میں لیں اور تیار ہونے کیلئے آئینے کے سامنے کھڑے ہو جائیں،مگرآج کا آئینہ کچھ مختلف ہو،وہ آپ کے بالوں کی ترتیب نہ بتائے ، چہرے کی جھریاں نہ گنے ، کپڑوں کی سلوٹوں پر تبصرہ نہ کرے ، وہ خاموشی سے آپ کی روح کا عکس دکھا دے ۔جس شخص نے رات بھر جھوٹ کے سہارے اپنی عزت کا محل تعمیر کیا ہو، آئینہ اس کے ہونٹوں پر سچ کی بجائے جھوٹ کی سیاہی دکھا دے ، جس نے کسی کمزورکا حق دبایا ہو، اس کے ہاتھوں پروہ انگلیاں نمودار ہو جائیں جو انصاف کے لیے پکارتی رہیں، جس نے لوگوں کے سامنے محبت اور پیٹھ پیچھے نفرت بوئی ہو، اس کے چہرے پرایک نہیں، دو نہیں، کئی چہرے اُبھر آئیں، پھر شاید دنیا کا سب سے خوفناک منظر قبرستان نہ رہے ، عدالت نہ رہے ، جیل نہ رہے ۔ بلکہ ہرگھر کی دیوارپرلٹکا ہوا ایک عام سا آئینہ بن جائے ، کیونکہ انسان دنیا کے ہر سچ کا سامنا کر لیتا ہے ، مگر اپنے بارے میں سچ سننے کی ہمت بہت کم لوگوں میں ہوتی ہے ۔ اور شاید اسی لیے ہم آئینے میں چہرہ دیکھتے ہیں، کردار نہیں،کیونکہ چہرے پرلگا داغ صابن سے دھل جاتا ہے ، مگرکردار پر لگے داغ انسان کی پوری زندگی کا پیچھا کرتے ہیں۔
ذرا شہر کا منظر دیکھیے!!
دفاترکھل چکے ہیں، بازار آباد ہیں، عدالتوں میں فائلیں گردش کر رہی ہیں،اسمبلیوں میں تقاریرہو رہی ہیں۔اور سوشل میڈیا پرلوگ اپنی اپنی نیکیوں کے اشتہار لگا رہے ہیں، مگر آج ایک عجیب واقعہ ہو گیا ہے ، آئینے سچ بولنے لگے ہیں۔وہ تاجرجو اپنی دکان کے باہر” دیانت داری ہماری پہچان ہے ” کا بورڈ لگائے بیٹھا ہے ، آئینے میں خود کو نوٹ گنتے نہیں، لوگوں کے اعتماد کو تولتے ہوئے دیکھتا ہے ۔ وہ افسر جو قانون کی کتاب میز پرسجائے بیٹھا ہے ، آئینے میں اس کے پیچھے سفارشوں، رشوتوں اورناانصافیوں کا انبارکھڑا نظر آتا ہے ۔ اوروہ شخص جو ہرمحفل میں اخلاقیات کے درس دیتا ہے ، آئینہ اس کے الفاظ نہیں، اس کے اعمال پڑھ کر سناتا ہے ۔ سب سے دلچسپ منظرشاید یہ ہو کہ لوگ آئینے کے سامنے کھڑے ہونے سے گھبرانے لگیں۔ کیونکہ دنیا میں بہت سے لوگ دوسروں کی نظروں میں اچھا نظر آنے کیلئے زندہ رہتے ہیں، اپنے ضمیر کی نظروں میں اچھا ہونے کیلئے نہیں۔ ہم نے گھروں کو خوبصورت بنانے پراربوں خرچ کیے ، مگر اپنے باطن کی ویرانی پر کبھی توجہ نہ دی، ہم نے چہروں کو روشن رکھنے کے ہزار طریقے سیکھ لیے ، مگر دلوں پر جمی گرد صاف کرنے کا ہنر بھول گئے ۔ شاید اسی لیے اگر آئینہ واقعی سچ بولنے لگے تو سب سے زیادہ کاروبار شیشے بیچنے والوں کا نہیں، شیشے توڑنے والوں کا چلے ۔ کیونکہ سچ کا مسئلہ یہ نہیں کہ وہ غلط ہوتا ہے ، سچ کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ بہانے نہیں سنتا۔
مگرسوال یہ ہے کہ کیا آئینہ واقعی خاموش ہے ؟شاید نہیں۔ شاید وہ برسوں سے بول رہا ہے اور ہم ہی اس کی زبان سمجھنے سے انکاری ہیں۔ ہررات جب انسان بسترپرلیٹتا ہے اوردنیا کی آوازیں مدھم پڑ جاتی ہیں، تب کہیں اندر ایک چھوٹا سا آئینہ جاگ اٹھتا ہے ، وہ نہ شیشے کا ہوتا ہے ، نہ دیوار پر لٹکا ہوتا ہے ۔ اس کا نام ضمیر ہے ، وہ دن بھر کے سارے مناظر ہمارے سامنے رکھ دیتا ہے ۔ کسی کی دل آزاری، کسی کا حق مارنا، کسی بے بس کی آہ، کسی ضرورت مند کو دیا گیا دھوکا، کسی رشتے کے ساتھ کی گئی بے وفائی۔ سب کچھ ۔ مگرہم کیا کرتے ہیں؟ ہم اس آئینے پر دلیلوں کی دھول جما دیتے ہیں،اپنے گناہوں کو مجبوری کا نام دے دیتے ہیں، اپنی خود غرضی کو حالات کا نتیجہ قرار دے دیتے ہیں۔ اوراپنی غلطیوں کے گرد اتنے جواز کھڑے کر لیتے ہیں کہ سچ کہیں اندر دب کر رہ جاتا ہے ۔ انسان کی عجیب فطرت ہے ، وہ ٹوٹا ہوا شیشہ فوراً بدل دیتا ہے ، مگر ٹوٹا ہوا کردار برسوں اپنے ساتھ لیے پھرتا ہے ، وہ چہرے پرایک معمولی خراش برداشت نہیں کرتا، مگر دل پر پڑے ہوئے ظلم، حسد، تکبراورمنافقت کے زخموں کے ساتھ آرام سے زندگی گزارلیتا ہے ، شاید اسی لیے دنیا کی سب سے مشکل جنگ کسی دشمن کے خلاف نہیں ہوتی، سب سے مشکل جنگ اس شخص کے خلاف ہوتی ہے جو ہر صبح آئینے کے سامنے کھڑا ہوتا ہے ۔ اورہمیں ہماری اصل حقیقت سے دور رکھنے کی کوشش کرتا ہے ۔
اوراگرایک دن واقعی ایسا ہو جائے کہ آئینہ کسی سے ڈرے بغیر سچ بولنے لگے ، تو شاید دنیا کی بہت سی تعریفیں، بہت سے اعزاز، بہت سے عہدے اور بہت سی شہرتیں اپنی چمک کھو بیٹھیں،کتنے ہی لوگ ہیں جنہیں دنیا کامیاب کہتی ہے ، مگر آئینہ انہیں شکست خوردہ دکھائے گا، کیونکہ کامیابی بینک اکاؤنٹ میں موجود ہندسوں کا نام نہیں، بلکہ اس سکون کا نام ہے جو رات کو سر تکیے پر رکھتے وقت نصیب ہو۔آئینہ شاید ایک امیر آدمی کو دکھائے کہ اس کے محلات کی بنیاد میں کتنے غریبوں کی دعائیں نہیں، بلکہ آہیں دفن ہیں۔کسی طاقتور شخص کو دکھائے کہ اس کے بلند منصب کے نیچے کتنے کمزور لوگوں کے خواب کچلے گئے ہیں۔اورکسی مشہور انسان کو یہ احساس دلائے کہ لاکھوں لوگوں کی تالیاں بھی اس ایک آنسو کی قیمت ادا نہیں کر سکتیں جو اس نے کسی بے گناہ کی آنکھ سے گرایا تھا،مگر اسی آئینے کے سامنے کچھ لوگ ایسے بھی ہوں گے جو مسکرا سکیں گے ،وہ لوگ جن کے پاس شاید دولت کم ہو، شہرت نہ ہو، بڑے عہدے نہ ہوں، مگر ان کے ہاتھ کسی کا حق چھیننے سے محفوظ رہے ہوں، ان کی زبان نے کسی بے بس کے دل پر وار نہ کیا ہو، اوران کے دل میں انسانیت ابھی زندہ ہو،ایسے لوگوں کے لیے آئینہ سزا نہیں، انعام بن جائے گا،کیونکہ سچ ہمیشہ خوفناک نہیں ہوتا،سچ ان لوگوں کے لیے خوبصورت بھی ہوتا ہے جنہوں نے اپنی زندگی کو دھوکے کے بجائے دیانت کے ساتھ گزارا ہو۔اورشاید اسی دن دنیا کو معلوم ہو کہ اصل خوبصورتی چہرے کی نہیں، کردار کی ہوتی ہے ؛ وہ خوبصورتی جو عمر کے ساتھ کم نہیں ہوتی بلکہ بڑھتی چلی جاتی ہے ۔
شاید مسئلہ یہ نہیں کہ آئینہ سچ نہیں بولتا، مسئلہ یہ ہے کہ ہم صرف وہ سچ سننا چاہتے ہیں جو ہمیں اچھا لگے ۔ ہمیں وہ آئینہ پسند ہے جو ہمارے بال سنوار دے ، چہرے کی تعریف کر دے ، ہمیں خوبصورت دکھا دے ،مگر وہ آئینہ پسند نہیں جو ہماری خود غرضی، ہمارے تکبر، ہماری منافقت اور ہماری بے حسی کو بے نقاب کر دے ، اسی لیے انسان نے دنیا میں ہزاروں کیمرے ایجاد کر لیے جو اس کا چہرہ محفوظ رکھ سکیں، مگر ابھی تک کوئی ایسی تصویر ایجاد نہیں کر سکا جو اس کا کردار دکھا سکے ۔
سوچئے !!
اگر کل صبح ہر آئینہ صرف ایک دن کے لیے سچ بولنے لگے تو کیا ہوگا؟ شاید بہت سے رشتے ٹوٹ جائیں، بہت سی دوستیاں ختم ہو جائیں، بہت سے چہرے بے نقاب ہو جائیں، مگر شاید بہت سے دل جاگ بھی جائیں، شاید کوئی ظالم پہلی بار اپنے ہاتھوں پر لگے ہوئے زخموں کا حساب مانگے ۔ شاید کوئی منافق پہلی بار اپنے دو چہروں سے شرمندہ ہو، شاید کوئی خود پسند انسان پہلی بار اپنی اصل قامت دیکھ لے ۔ اور شاید کوئی عام سا انسان، جسے دنیا نے کبھی اہم نہیں سمجھا، آئینے کے سامنے کھڑا ہو کر اطمینان سے مسکرا دے ، کیونکہ اس کے چہرے پراگرچہ وقت کی لکیریں ہوں گی، مگر اس کے کردار پر ندامت کے دھبے نہیں ہوں گے ۔ آخرکار انسان کی اصل پہچان وہ چہرہ نہیں جو چند سال بعد مٹی میں مل جانا ہے ، بلکہ وہ کردار ہے جو اس کے جانے کے بعد بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتا ہے ۔ اس لیے اگر کبھی آئینہ سچ بولنے لگے تو اسے توڑنے کی کوشش مت کیجیے گا۔ ممکن ہے وہ پہلی چیز ہو جو آپ کو آپ سے ملوانے آئی ہو۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں