پاکستان کا ایٹمی سفر
شیئر کریں
محمد آصف
پاکستان کا ایٹمی سفر محض ایک سائنسی منصوبہ نہیں بلکہ قومی بقا، خود مختاری، دفاعی استحکام اور قومی غیرت کی ایک ایسی داستان ہے جس نے
پاکستان کو دنیا کی ایٹمی طاقتوں کی صف میں لا کھڑا کیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد سے ہی برصغیر کی سیاسی صورتحال، بھارت کے ساتھ کشیدگی،
جنگی خطرات اور دفاعی عدم توازن نے پاکستان کو اپنی سلامتی کے لیے مضبوط دفاعی نظام کی ضرورت کا احساس دلایا۔ خصوصاً 1971ء کی
جنگ اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی نے پاکستان کی قیادت کو اس حقیقت کا شدت سے احساس دلایا کہ اگر قومی سلامتی کو مستقل بنیادوں پر
محفوظ بنانا ہے تو ملک کو جدید ترین دفاعی صلاحیتوں سے آراستہ کرنا ہوگا۔یہی وہ پس منظر تھا جس میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد
رکھی گئی اور ایک طویل، صبر آزما اور مشکل سفر کا آغاز ہوا۔
پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا ابتدائی تصور 1960ء کی دہائی میں سامنے آیا، تاہم عملی طور پر اس کی رفتار1971ء کی جنگ کے بعد تیز
ہوئی۔ اُس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے قومی سلامتی کے پیشِ نظر یہ تاریخی اعلان کیا کہ ہم گھاس کھا لیں گے مگر ایٹم بم ضرور
بنائیں گے ۔ یہ صرف ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ قومی عزم کی علامت تھا۔ بھارت پہلے ہی سائنسی میدان میں تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا اور 1974ء میں اس کے پہلے ایٹمی تجربے نے پاکستان کے لیے خطرات میں مزید اضافہ کر دیا۔ بھارت کے اس ایٹمی دھماکے کے بعد
پاکستان نے اپنے ایٹمی پروگرام کو قومی ترجیح قرار دیا اور مختلف سائنسی اداروں کو منظم انداز میں فعال کیا گیا۔
پاکستان کے ایٹمی سفر میں پاکستانی سائنس دانوں کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ خصوصاً ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا نام اس حوالے سے
ہمیشہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے یورپ میں حاصل ہونے والے تجربے اور مہارت کو پاکستان کے
دفاع کے لیے استعمال کیا اور یورینیم افزودگی کے پروگرام کو کامیابی سے آگے بڑھایا۔ انہوں نے نہ صرف سائنسی بنیادوں کو مضبوط کیا بلکہ
نوجوان سائنس دانوں کی ایک ایسی ٹیم تیار کی جس نے انتہائی مشکل حالات میں کام کرتے ہوئے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے میں کلیدی
کردار ادا کیا۔ اُن کی قیادت میں قائم ہونے والی خان ریسرچ لیبارٹریز نے ایٹمی پروگرام کو عملی شکل دینے میں مرکزی کردار ادا کیا۔
پاکستان کا ایٹمی پروگرام سائنس دانوں کی محنت کے ساتھ ساتھ پوری قوم کے عزم، قربانی اور خفیہ جدوجہد کی داستان بھی ہے ۔ عالمی
طاقتیں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے سخت خلاف تھیں۔ مختلف ممالک نے پاکستان پر اقتصادی پابندیاں عائد کیں، سفارتی دباؤ ڈالا گیا،
سائنسی آلات اور ٹیکنالوجی کے حصول میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، مگر پاکستانی قوم اور قیادت نے ان تمام مشکلات کے باوجود اپنے عزم کو
کمزور نہیں ہونے دیا۔ یہ وہ دور تھا جب پاکستان کے سائنس دان محدود وسائل میں دن رات محنت کر رہے تھے تاکہ ملک کو ناقابلِ تسخیر
دفاعی قوت فراہم کی جا سکے ۔محمد ضیاء الحق کے دور میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو مزید خفیہ انداز میں تیزی سے آگے بڑھایا گیا۔انہوں
نے عالمی دباؤ کے باوجود پروگرام کو جاری رکھا اور سائنس دانوں کو مکمل ریاستی سرپرستی فراہم کی۔افغان جنگ کے تناظر میں امریکہ پاکستان
پر زیادہ سخت دباؤ نہ ڈال سکا، جس سے ایٹمی پروگرام کو خاموشی سے ترقی دینے کا موقع ملا۔ بعد ازاں بینظیر بھٹو نے بھی اپنے دونوں ادوارِ
حکومت میں ایٹمی پروگرام کی حمایت جاری رکھی۔ اگرچہ انہیں عالمی سفارتی دباؤ کا سامنا رہا، مگر انہوں نے قومی سلامتی کے معاملے پر
پروگرام کو کمزور نہیں ہونے دیا۔ ان کے دور میں میزائل ٹیکنالوجی اور دفاعی استعداد میں بھی پیش رفت ہوئی،جس سے پاکستان کے دفاعی
نظام کو مزید مضبوطی حاصل ہوئی۔
پاکستان کے ایٹمی سفر کا سب سے تاریخی لمحہ 28 مئی 1998ء کو سامنے آیا جب پاکستان نے بلوچستان کے علاقے چاغی میں
کامیاب ایٹمی دھماکے کیے ۔ یہ دن پاکستان کی تاریخ میں "یومِ تکبیر"کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔ بھارت نے چند روز
قبل ایٹمی تجربات کیے تھے جس کے بعد پاکستان پر عالمی دباؤ تھا کہ وہ جواب میں دھماکے نہ کرے ، لیکن اُس وقت کے وزیراعظم محمد نواز
شریف پر عوام اپوزیشن اور عوامی اتحاد جس کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری تھے کا شدید دباؤ تھا سائنس دان اور جنرل جہانگیر کرامت بھی
سمجھوتہ نہیں چاہتے تھے وہ بھی وزیراعظم کو مشورہ دے رہے تھے کہ اب وقت ہے دھماکہ کردیں دوسری طرف آل پارٹیز کانفرنس کا مشترکہ
اعلامیہ بھی سربراہ عوامی اتحاد ڈاکٹر طاہرالقادری پوری قوت سے دے چکے تھے جس کواگلے دن مجید نظامی نے اپنے اخبار میں لکھا کہ اگر
وزیراعظم نے اجازت نہ دی تو عوام حکومت کا دھماکہ کردے گی جس کی وجہ سے ایٹمی دھماکوں کی منظوری نہ چاہتے ہوئے بھی دے دی گئی۔
چاغی کے پہاڑوں میں ہونے والے ان دھماکوں نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان اپنی آزادی، خود مختاری اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں
کرے گا۔ ان دھماکوں کے بعد پاکستان دنیا کی ساتویں اور اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت بن گیا۔پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی کامیابی
نے نہ صرف دفاعی توازن قائم کیا بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کو بھی تبدیل کر دیا۔ جنوبی ایشیا میں بھارت کی بالادستی کے تصور کو چیلنج کیا گیا
اور پاکستان ایک مضبوطدفاعی قوت کے طور پر ابھرا۔ ایٹمی صلاحیت نے پاکستان کو دشمن کے ممکنہ حملوں کے خلاف ایک مؤثر دفاعی حصار
فراہم کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ایٹمی طاقت حاصل کرنے کے بعد پاکستان کے خلاف مکمل جنگ کا خطرہ کم ہوا اور خطے میں ایک نئی اسٹریٹجک
صورتحال پیدا ہوئی۔
پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ اپنے ایٹمی اثاثوں کے پُرامن اور ذمہ دارانہ استعمال پر زور دیا
ہے ۔ پاکستان نے بارہا عالمی برادری کو یقین دلایا کہ اس کا ایٹمی پروگرام دفاعی مقاصد کے لیے ہے اور وہ عالمی قوانین اور حفاظتی اصولوں
کی پابندی کرتا ہے ۔ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کی حفاظت کے لیے مضبوط کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم قائم کیا گیا، جسے دنیا کے محفوظ ترین
نظاموں میں شمار کیا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے اعتماد میں اضافہ ہوا۔ایٹمی طاقت بننے
کے بعد پاکستان نے صرف دفاعی میدان میں ہی ترقی نہیں کی بلکہ سائنسی اور تکنیکی شعبوں میں بھی نمایاں پیش رفت کی۔ نیوکلیئر ٹیکنالوجی کو
توانائی، طب، زراعت اور صنعت کے شعبوں میں بھی استعمال کیا جانے لگا۔ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے ملک میں توانائی کی پیداوار،
کینسر کے علاج، زرعی تحقیق اور صنعتی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ اس طرح ایٹمی پروگرام نے صرف دفاعی استحکام ہی نہیں بلکہ قومی ترقی میں
بھی اہم کردار ادا کیا۔پاکستان کا ایٹمی سفر نئی نسل کے لیے عزم، محنت، خود اعتمادی اور قومی اتحاد کی ایک روشن مثال ہے ۔ محدود وسائل، عالمی
دباؤ اور بے شمار مشکلات کے باوجود پاکستانی قوم نے یہ ثابت کیا کہ اگر قوم متحد ہو، قیادت مخلص ہو اور نوجوان باصلاحیت ہوں تو کوئی بھی
ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ آج پاکستان کا ایٹمی پروگرام صرف دفاعی طاقت کی علامت نہیں بلکہ قومی وقار، خود مختاری اور سائنسی ترقی کی
نشانی بن چکا ہے ۔
موجودہ دور میں جب دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور خطے میں نئے چیلنجز جنم لے رہے ہیں، پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی
ایٹمی صلاحیت کے ساتھ ساتھ سائنسی تحقیق، ٹیکنالوجی، تعلیم اور معاشی استحکام پر بھی توجہ دے ۔ صرف ایٹمی طاقت ہی کسی قوم کو مکمل طور پر
مضبوط نہیں بناتی بلکہ علم، معیشت، اتحاد اور اخلاقی استحکام بھی قومی طاقت کے بنیادی عناصر ہیں۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنے ایٹمی پروگرام
کی حفاظت کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل کو سائنسی تعلیم اور تحقیق کی طرف راغب کرے تاکہ ملک مستقبل میں بھی ترقی،استحکام اور خود
انحصاری کی راہ پر گامزن رہے۔
پاکستان کا ایٹمی سفر دراصل ایک ایسی قومی داستان ہے جس میں قربانی، محنت، عزم، حب الوطنی اور سائنسی بصیرت کی روشن مثالیں موجود
ہیں۔ یہ سفر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ کوئی بھی قوم اگر اپنے مقاصد کے حصول کے لیے متحد ہو جائے تو دنیا کی بڑی سے بڑی رکاوٹ بھی اس
کے راستے میں حائل نہیں ہو سکتی۔”یومِ تکبیر” صرف ایٹمی دھماکوں کی یاد نہیں بلکہ پاکستانی قوم کے عزم، وقار اور دفاعی خودمختاری کی
علامت ہے ، اور یہ سفر آنے والی نسلوں کے لیے ہمیشہ فخر، حوصلے اور خود اعتمادی کا سرچشمہ رہے گا۔
٭٭٭


